جانیے’’ وزیر اعظم پاکستان اور 2 ہزار بٹیر‘‘

13

ذوالفقار علی بھٹو کھانے اور کھلانے کے کس قدر شوقین تھے اس کا اندازہ فقط ایک واقعے سے لگایا جا سکتا ہے۔ اپنے دورہ امریکہ کے دوران بھٹو نے ہنسری کسنجر کو پاکستانی سفارتخانے میں رات کے کھانے کی دعوت دی جسے امریکی سیکرٹری خارجہ نے قبول کر لیا۔ دن طے ہو گیا تو بھٹو نے سارے عملے کو جمع کرکے معزز مہمانوں کے لیے مینو پر مشاورت شروع کر دی، کسی نے کہا کسنجر چائنیز کھانے بہت پسند کرتے ہیں،  کسی نے کہا وہ ایک بار مجھ سے سندھ کی روایتی ڈشوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے، کسی نے کہا ایک سفارتی تقریب میں انہوں نے فرائی مچھلی دو بار لی تھی۔ ایک صاحب نے کہا وہ جب بھی کسی عرب ملک جاتے ہیں تو ہرن کا گوشت خصوصی فرمائش پر طلب کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ، لیکن بھٹو نے ساری تجاویز مسترد کر دیں کیونکہ وہ اپنے معزز مہمان کو ایسا کھانا کھلانا چاہتے تھے جو انہوں نے اس سے قبل کبھی نہ چکھا ہو، بہرحال دو اڑھائی گھنٹے کی بحث کے بعد کسی طرف سے ’’بھنے ہوئے بٹیر‘‘ کی تجویز آئی۔ بھٹو نے سنا تو چونک کر تجویز کنندہ کو دیکھا اور گردن ہلا کر بولے ’’یس ہیئر از دی آئٹم‘‘ بھٹو کی منظوری ملتے ہی سارا عملہ بٹیروں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ سارا  واشنگٹن کی ٹولسٹس مارکیٹیں کھنگال ڈالی گئیں، دوسرے شہروں میں فون کیے گئے۔ بڑے ہوٹلوں کی انتظامیہ سے پوچھا گیا لیکن پورے امریکہ میں کہیں کالے بٹیر دستیاب نہ ہوئے لہٰذا رات کو مجبوراً کراچی سے بٹیر منگوانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اگلے روز وزیراعظم کا خصوصی طیارہ پاکستان آیا اور یہاں سے دو ہزار کالے بٹیر لے کر واپس چلا گیا۔ لیکن بٹیر آئے تو ایک اور مسئلہ کھڑا ہو گیا وہ تھا انہیں پکانے کے لیے کسی ماہر کی ضرورت جو امریکہ میں دستیاب نہیں تھا۔اس مسئلے پر ایک اور اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ فوری طور پر پاکستان سے ’’ماہر کک‘‘ بھی منگوائے جائیں اور طیارہ ایک بار پھر واشنگٹن سے کراچی روانہ ہوگیا۔ جہاں وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام نے حکم ملتے ہی بٹیر بھوننے کے درجن بھر ماہر باورچی اکٹھے کر لیے تھے۔ قصہ مختصر دیسی خانساموں نے دیسی مصالحہ جات سے رات دن کی مشقت سے بٹیر بھونے جنہیں دیدہ زیب قابوں میں سجا کر ٹیبل پر رکھ دیا گیا۔معزز مہمان کو پیش کیے جانے والے مینو کارڈ پر باوقار انگریزی میں بٹیروں کے حسب نسب، ان کے پکانے کے طریقے اور ذائقے پر ایک نوٹ لکھا گیا اور اسے نمایاں کرنے کے لیے اس کے گرد سنہری روشنائی سے بارڈر لگایا گیا۔ شام کو جب معزز مہمان کھانے پر تشریف لائے تو بھٹو صاحب نے خود مینو پیش کیا ۔جسے کسنجر نے بغیر دیکھے ایک طرف رکھ دیا اور فلسطین میں کروٹ لیتے حالات پر محتاط انداز میں گفتگو شروع کر دی۔اس دوران غیر محسوس طریقے سے بٹیروں کی قاب ان کے سامنے کر دی گئی لیکن معزز مہمان نے اپنی قریب ترین ڈش سے تھوڑا سا کھانا لیا اور چند نوالے لے کر ہاتھ کھینچ لیا۔ آدھ گھنٹے کی اس ملاقات کے آخر میں کسنجر کا سیکرٹری ہال میں داخل ہوا اور بڑے احترام سے انہیں ایک کارڈ پیش کیا جس پر ان کا اگلا پروگرام درج تھا۔’’اتنے بجے سے اتنے بجے تک۔۔۔ پر فلاں سے ملاقات۔‘‘ کسنجر نے گھڑی دیکھی اور اٹھتے ہوئے کہا۔ ’’ویل مسٹر پرائم منسٹر وی ویل میٹ سون‘‘ ہوا میں ہاتھ لہرا کر سب کے سلام کا جواب دیا اور رخصت ہو گئے اور پیچھے چند مایوس چہرے اور سینکڑوں بھنے ہوئے بٹیر رہ گئے جنہیں اپنے وقت کے سب سے بڑے سفارتی نمائندے کا لمس تک نصیب نہ ہوا۔اس مضمون کا محرک بہت دلچسپ تھا، 1996ء میں اخبارات میں ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی اس خبر میں انکشاف ہوا۔ ’’وزیراعظم نے وزیراعظم ہاؤس کا چیف شیف معطل کر دیا۔‘‘ تفصیلات میں لکھا تھا۔ ’’وزیراعظم نے اپنے لیے سویٹ ڈش تیار کرائی، یہ ڈش جب وزیراعظم تک پہنچی تو انہیں ایمرجنسی میں ایک میٹنگ میں جانا پڑ گیا، انہوں نے جاتے جاتے سویٹ ڈش فریج میں رکھوا دی۔ رات گئے وزیراعظم واپس آئیں تو انہوں نے سویٹ ڈش لانے کا حکم دیا،وزیراعظم ہاؤس کا عملہ کچن میں پہنچا تو یہ دیکھ کر پریشان ہو گیا، وزیراعظم کی سویٹ ڈش فریج سے چوری ہو چکی ہے۔ اس ’’چوری‘‘ کی اطلاع جب وزیراعظم تک پہنچی تو انہوں نے چیف شیف کو معطل کر دیا۔ یہ خبر بہت دلچسپ تھی، میں نے جونہی یہ خبر پڑھی، میں نے سوچا پاکستان کے سابق اور موجودہ حکمرانوں کے دستر خوان ایک دلچسپ موضوع ہے اگر اس پر تحقیق کی جائے اور اس تحقیق کی بنیاد پر ایک طویل فیچر لکھا جائے تو قارئین اس میں دلچسپی لیں گے۔