یہ وادی کشمیر ہے جنت کا نظارہ

180

محمد عتیق الرحمن ، فیصل آباد
شہادتوں ،المیوں اور دکھوں سے مزین سرزمین کشمیر جنت نظیر کا کوئی گھر ہی ہوگا جو کسی حادثے ،المیے اور اندوہناک واقعہ سے نہ گذرا ہو۔اگر جغرافیائی تاریخ سے ہٹ کر ہرکشمیر ی گھر انے کی تاریخ نکالیں تو ہر گھر میں کوئی نہ کوئی اندوہناک واقعہ ، المناک حادثہ او ر دہشت زدہ سانحہ لازمی ہواہوگا جس کی کُڑیاں ہندوستانی حکومت ،فوج اور انتظامیہ سے جُڑی ہوں گی ۔یہ ایک جہد مسلسل کی تاریخ ہے جس میں بھائیوں کے لاشے ،بہنوں کے آنچل ، ماؤں کے آنسو ،بوڑھے باپ کی خواہشات اور بھائیوں کے مضبوط کندھے شامل ہیں ۔دنیا پر جنت نظیر کہلائی جانے والی دھرتی کشمیر اپنے ہی رہائشیوں کے لئے جہنم بنادی گئی ہے ۔کشمیر کا حسن بھارتی اسلحہ وبارودسے گہنا چکاہے ۔بھلا ایسا حسن کس کام کا جس کے حُسن میں نہتے لوگوں کا خون شامل ہو۔
بقول کسے شاعر
؂ہرچہرہ یہاں چاند تو ہر ذرہ ستارہ
یہ وادی کشمیر ہے ،جنت کانظارہ
پوری وادی میں ہزاروں/لاکھوں نوجوانوں کے لاشے ہیں جو زمین کی گود میں ابدی نیند سورہے ہیں۔مائیں اپنے سہاگ اور اولاد کی راہیں تکتی بوڑھی ہوچلی ہیں ،آنکھوں کا نور اگر بھارتی پیلٹ گنوں سے بچ جائے تو جوان بیٹے کا لاشہ چھین لیتا ہے ۔وہ جوان جسے اپنے بوڑھے ماں باپ کے بڑھاپے کا سہارابننا تھا ،بھارتی انتہاپسندی کی نذر ہوگیا اور اسے کسی قید خانے میں ڈال دیا گیا یاپھر کسی جعلی مقابلے میں مار کر اپنی جمہوریت کی آن بچالی گئی ۔یہ بھارت ہی ہے جو اپنے آپ کو سب سے بڑی جمہوری ریاست کہتا ہے لیکن اس کے گھر میں دلتوں ،عیسائیوں ،سکھوں اورمسلمانوں پر دنیا بھر کا ظلم روا رکھا جارہا ہے ۔ہرکسی کو کسی نہ کسی بہانے سے کاٹا جارہا ہے تاکہ بھارت کو ہندودیش بناکر دم لیا جائے ۔
برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں تحریک آزادی کو جو نئی اٹھان ملی ہے اس نے بھارتی حکمرانوں کی نیندیں حرام کردی ہیں ۔بھارت نت نئے طریقے آزماکر بھی کشمیری حریت پسندوں کی آزادی کو سلانے میں ناکام ہوچکا ہے ۔آزادی کی شمع اٹھائے اب نئی نسل اپنے پیشروؤں سے بھی زیادہ تیزی سے بھارتی اعصابوں پر سوارنظر آتی ہے ۔اپریل کے گذرے دنوں کے ایک ہی دن میں بھارتی فورسز نے اس قدر ظلم و بربریت کا بازارگرم کیا ہے کہ ہٹلروہلاکوخان بھی شرماجائیں ۔شوپیاں کے علاقوں دراگڈاور کچ ڈورہ میں 15کے قریب اور اسلام آباد کے علاقے دیال گام میں ایک کشمیری نوجوان کو محاصرے اور جعلی مقابلے کی آڑ میں شہید کردیا ۔کچ دوڑہ میں فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کی شہادتیں اس سے الگ ہیں ۔کشمیریوں نے شوپیاں اور اسلام آباد کے اضلاع میں شہادتوں پر وادی بھر میں زبردست مظاہرے کیے ۔جس سے نپٹنے کے لیے بھارتی سیکیورٹی فورسز نے نہتے مظاہرین پر گولیوں،پیلٹ گنوں اور آنسو گیس کا وحشیانہ استعمال کیا ۔اس سارے آپریشن میں بھارتی فوج نے اسرائیلی اسلحہ کا بھی استعمال کیا ۔شوپیاں اور اسلام آباد میں بھارتی فوج نے اسرائیلی ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا جس سے بھارت اور اسرائیل کے مسلمانوں کے خلاف گٹھ جوڑ کی باتیں کرنے والوں کے خدشات کو تقویت ملی ہے ۔
کشمیر سے آپا آسیہ اندرابی نے پاکستانیوں سے اپیل کی تو پورا پاکستان کشمیری بہن کی آوازپر لبیک کہتا ہوا باہر نکل آیا ۔سوموار کے روز پاکستان بھر میں جموں کشمیرموومنٹ نے احتجاجی مظاہرے کئے جس میں تمام مکتب فکر کے ساتھ ساتھ تمام شعبہ ہائے زندگی سے افراد نے شرکت کی ۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت منفی ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کی آواز کو نہیں دبا سکتا اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کشمیر کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کریں گے جب کہ بھارت اقوام متحدہ فیکٹ فائنڈنگ مشن کو مقبوضہ کشمیر جانے دے۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ کشمیر کو خون میں نہلا دیا گیا ہے، درجنوں بیٹے شہید کردیے گئے ہیں، کشمیری لاشیں گن رہے ہیں اور جوان جنازے اٹھا رہے ہیں، بھارتی ریاستی دہشت گردی کشمیری نوجوان نسل ختم کرنے کے درپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری خون عالمی ضمیر کو جنجھو ڑ رہا ہے جب کہ پاکستان اس آزمائش میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے ذریعے وہاں کے عوام کے حق خود ارادیت کے لیے سیاسی جدو جہد کو دبا نہیں سکتا۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی بربریت اور لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کی بھی شدید مذمت کی ہے۔مختلف سیاسی وسماجی شخصیات نے بھارتی مظالم کی بھرپورانداز میں مذمت کی اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے ۔جمعہ کے روز یوم یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان ہوچکا جو کہ خوش آئند بھی ہے اور وقت کی اشد ضرورت بھی لیکن کام اس سے بڑھ کر اور مستقل طور پر ہونا چاہیے ۔
ضرورت ہمیں اس وقت ابھار رہی ہے کہ ہم اپنے سارے مسئلے،سیاسی محاذ آرائی اور لڑائی جھگڑے ایک طرف رکھ کر کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوجائیں ۔حکومت وقت کو چاہیے کہ بھارتی سفیر کو فی الفور احتجاجی طور پر واپس بھیجے اور دوسرے ممالک کے سفیروں کو اکٹھاکرکے کشمیر کاز پر ایک مضبوط موقف دنیا کے سامنے رکھے ۔اقوام متحدہ کے فورم پر اپنا موقف پیش کرے اور اقوام متحدہ کے فورم پر ہی بھارتی وعدہ جو اُس نے کیا تھا ،اقوام متحدہ کو یاددلوائے ۔مضبوط لابنگ کرنے کے لیے حکومت پاکستان بہترین لوگ سامنے لائے اور مولانا فضل الرحمن ایسے احباب کو ذرا ایک سائیڈ پر کردیں تاکہ کشمیریوں کے دکھوں کا مداواکچھ نہ کچھ تو ہوسکے۔مولانا صاحب سے مجھے لاکھ اختلاف سہی لیکن میں ان کا احترام کرتا ہوں لیکن اس بار میڈیا کے کشمیر کاز پر بات کرنے پر ان کی ہنسی دل کو لگی نہیں بلکہ دل میں اک ٹھیس سی اٹھی تھی کہ یااللہ ! اب کس طرح سے اس ہنسی کو جائز کرنے واسطے کیا دلیل لائی جائے گی ۔جب پورا پاکستان سراپا احتجاج تھا تو مولانا محترم ہنستے ہوئے فرما رہے تھے کہ حملہ کردوں توکیا آپ ساتھ دیں گے ؟حکومت سے بحثیتِ پاکستانی درخواست گذار ہوں کہ کشمیر کمیٹی کی سربراہی کسی متحرک بندے کو سونپی جائے جو اپنا تن من دھن اس کاز کے لیے لگائے رکھنے کا ثبوت فراہم کرسکے ۔یہ کاز ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔