خاموش تماشائی آ خر کیوں۔۔؟

21

تحریر ۔۔۔شیخ توصیف حسین
خداوندکریم نے قرآن پاک میں واضح ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے تمام عبادات سے افضل عبادت حقوق العباد کو قرار دیا ہے مزید آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ میں حقوق اللہ میں کوتاہی برتنے والے شخص کو تو معاف کر سکتا ہوں لیکن حقوق العباد میں کوتاہی برتنے والے شخص کو کبھی معاف نہیں کروں گا لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم سب ملکر بغیر کسی ڈر اور خوف کے انسانیت کی بہتری اور بھلائی کیلئے بے مثل اور بے مثال اقدامات کرے چونکہ یہی ہمارا فرض اور یہی ہماری عبادت ہے ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی جھنگ مہار اختر بگٹی فرض شناس ہو نے کے باوجود خاموش تماشائی آ خر کیوں۔۔؟بڑی معذرت کے ساتھ ہم ہر سال اربوں کھربوں روپے حج زیارات اور عمرے پر تو خرچ کر دیتے ہیں سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے لیکن ہم اپنے اپنے علاقوں کے غریب بچوں کی تعلیم و تربیت بیوہ خواتین لاوارث بچیوں کی شادیوں اور بالخصوص غریب مریضوں جو ینگ ڈاکٹروں کے بے رحمانہ اور ظالمانہ رویے کے ساتھ ساتھ بی ایچ یو سنٹروں پر بر وقت ادویات نہ ملنے کے سبب ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بے موت مر جاتے ہیں پر ہزاروں روپے خرچ کرنا بھی گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں تو یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا ہوا یوں کہ ایک دفعہ میرے ایک جاننے والے نے بذریعہ فون مجھے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھائی توصیف حسین اس بار پھر میں حج کی ادائیگی کیلئے جا رہا ہوں اور وہ بھی بغیر کسی خرچ کے یہ سن کر مجھے بڑا تعجب ہوا اور میں نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیسے جس پر اُس نے بتاتے ہوئے کہا کہ آپ تو یہ بخوبی جانتے ہیں کہ میری بازار میں سنار کی بہت بڑی دوکان ہے ایک دن میں اپنی سنار کی دوکان پر بیٹھا تھا کہ اسی دوران ایک شخص جو شکل و صورت سے نہایت ہی غریب خاندان کا فرد لگتا تھا مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ میری بے روزگاری کی وجہ سے میرے خاندان کے افراد جس میں معصوم بچے اور بچیاں بھی شامل ہیں تین دن سے بھوک سے نڈھال ہو کر بے بسی اور لا چارگی کی تصویر بن کر رہ گئے ہیں جن کو دیکھ کر میں خون کے آ نسو روتا رہتا ہوں اگر آپ مناسب خیال کرے تو مجھے اپنی دوکان کے باہر سرکاری فٹ پاتھ پر چھابڑی لگانے کی اجازت دیکر نہ صرف مجھ پر بلکہ میرے پورے خاندان پر احسان عظیم کرے اُس غریب شخص کی ان باتوں کو سن کر مجھے اُس پر بڑا ترس آیا اور میں نے اُسے اپنی دوکان کے باہر فٹ پاتھ پر چھابڑی لگانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ تم نے اس کے عوض ہر ماہ دس ہزار روپے کرایہ جبکہ دو لاکھ روپے ایڈوانس دینا ہو گا یہ سننے کے بعد اُس نے روتے ہوئے کہا کہ میرے پاس آپ کو ایڈوانس رقم دینے کیلئے تو کچھ نہیں ہاں البتہ میں نے چند ایک زیورات اپنی جواں سالہ بیٹی کی شادی کیلئے بنوا رکھے ہیں اگر وہ لینا چاہو تو میں بطور گروی وہ تمھارے پاس رکھ دیتا ہوں قصہ مختصر کہ میں نے وہ زیورات اپنے پاس رکھ کر اُسے چھابڑی لگانے کی اجازت دے دی تقریبا ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ شخص نہ تو بر وقت کرایہ ادا کر سکا اور نہ ہی وہ اپنے زیورات واپس لے سکا جبکہ دوسری جانب میں نے حج کی درخواست دے رکھی تھی جو اب منظور ہو گئی ہے لہذا میں اُس شخص کے تمام زیورات فروخت کر کے حج کی ادائیگی کیلئے جا رہا ہوں لہذا تم دعا کر نا کہ خداوند کریم میری یہ حج منظور کر لے اُس سنار کی ان باتوں کو سننے کے بعد میں سوچوں کے سمندر میں ڈوب کر یہ سوچنے لگ گیا کہ یہ لعنتی شخص بھول گیا ہے کہ خداوندکریم نے غاصب کو کبھی معاف نہ کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے اور تو اور ایک غریب اور بے بس شخص کی جواں سالہ بیٹی کے زیورات غصب کر کے حج کرنے چلا ہے لعنت ہے تم پر اور تمھاری اس گھناؤنی سوچ پر آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آج ہمارے ملک کے لاتعداد سیاست دان علمائے دین جو دولت کے پجاری بن کر غیر ملکی ایجنٹ بن کر مذہبی فسادات کروانے میں مصروف عمل ہیں ذخیرہ اندوز تاجر ز جن کا منہ مومناں اور کرتوت کافراں ہے ڈاکٹرز و لیڈی ڈاکٹرز جو مسیحا بننے کے بجائے ڈریکولا کا روپ دھار کر بڑی بڑی ادویات کی کمپنیوں سے کمیشن وصول کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے پرائیویٹ کلینکوں پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا غریب افراد کا خون چوسنے میں مصروف عمل ہیں اور بالخصوص بیوروکریٹس جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں ملک وقوم کی بھاری رقوم غصب کر کے حج کی ادائیگی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ان کی مثال اُس کبوتر جیسی ہے کہ جو بلی کو دیکھ کر اپنی آ نکھیں بند کر لیتا ہے کہ اب بلی اس کو نہیں دیکھ پائے گی کوئی ان ناسوروں سے پوچھے کہ اگر حج کی صرف ادائیگی کرنے سے معافی مل جاتی تو خداوندکریم اُن کو بھی معاف کر دیتا جہنوں نے حاکم وقت کے ڈر اور خوف کی وجہ سے نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کو باغی قرار دیتے ہوئے ظلم و ستم اور لوٹ مار کی انتہا کر دی تھی یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ تمام ناسور حافظ قرآن اور الحاج تھے یہاں مجھے علامہ اقبال کا شعر یاد آ گیا
کہ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی اور جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے اور نہ ناری
ہاں تو میں بات کر رہا تھا ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی جھنگ مہار اختر خان بگٹی کی کہ جس کے متعلق شنید ہے کہ وہ آج کے اس پر آ شوب معاشرے میں جس میں تقریبا ہر دوسرا شخص نفسا نفسی کا شکار ہو کر اور انسانیت کو سہولیات کی سیج پر لٹا کر حرام و حلال کی تمیز کھو بیٹھا ہے اپنے فرائض و منصبی صداقت امانت اور شرافت کا پیکر بن کر ادا کرنے میں مصروف عمل ہے جو درحقیقت غریب اور بے بس مریضوں کیلئے مسیحا جبکہ دولت کی ہوس کے پجاری ڈاکٹروں و لیڈی ڈاکٹرز کے علاوہ نا تجربہ کار سٹاف کیلئے ایک ننگی تلوار کی حیثیت رکھتا ہے اگر حقیقت کے آ ئینے میں دیکھا جائے تو مذکورہ آ فیسر سچائی کا علمبردار جبکہ جھوٹے اور خوشامدی افراد سے ایسا سلوک رکھتا ہے جیسے ہندو بر ہمن قوم اچھوتوں کے ساتھ مذکورہ آ فیسر کا شمار اُن چند ایک ایماندار افسران میں ہوتا ہے جو اپنے فرض کو عبادت سمجھ کر ادا کرتے ہیں مذکورہ آ فیسر جہاں پر مسیحا ڈاکٹرز کی تعداد نہ ہونے کے برابر جبکہ ڈریکولا کا روپ دھارے ڈاکٹرز کی تعداد حد سے زیادہ ہے میں ایک قطب ستارے کی حیثیت رکھتا ہے جس کی چمک سے محکمہ ہیلتھ جگمگا رہا ہے قصہ مختصر کہ مذکورہ آ فیسر کی اس اعلی کارکردگی کو دیکھ کر لوٹ مار ظلم و ستم اور ناانصافیوں کی تاریخ رقم کرنے والا ماتحت عملہ ایسے سہم جاتا ہے جیسے سیاہ رات میں صبح کا پرندہ بہرحال آج میں یہاں نہ صرف اپنے قارئین بلکہ اپنے ملک کے تمام اداروں کے ارباب و بااختیار کو آگاہ کر دینا چاہتا ہوں کہ جہاں میں کرپشن کے بے تاج بادشاہ آ فیسرز جو ڈریکولا کا روپ دھار کر ملک وقوم کا خون چوس رہے ہیں کے کالے کرتوتوں کو بے نقاب کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں بالکل اسی طرح فرض شناس اور ایماندار آ فیسرز کی اعلی کارکردگی کو اجاگر کرنا بھی میں اپنا فرض عین سمجھتا ہوں تو آج میں یہاں فرض شناس ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی جھنگ مہار اختر خان بگٹی کی توجہ دانستہ یا پھر غیر دانستہ طور پر ہونے والی کوتاہیوں کی طرف کروانا ضروری سمجھتا ہوں پہلی کوتاہی تو یہ ہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ کو دلہن کی طرح سجانے کیلئے سرخی پوڈر پر تو کروڑوں روپے خرچ کر دیتے لیکن مذکورہ ہسپتال کو وسیع کرنے میں قاصر رہے جس کے نتیجہ میں مذکورہ ہسپتال کے مین حال میں شریف گھرانوں کی بہو بیٹیوں کی عزت کا تقدس کھلے عام پامال ہو رہا ہے دوسری کوتاہی یہ ہے کہ مذکورہ ہسپتال میں قائم چوکی جہاں پر تعنیات عملہ بددستور اپنے فرائض و منصبی احسن طریقہ سے سر انجام دے رہا ہے کے باوجود لاتعداد پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز جو کھلے عام غریب مریضوں کے ساتھ غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرنے میں مصروف عمل ہیں کی تعیناتی تعجب خیز ہے بالکل اسی طرح کراما سنٹر میں تعنیات متعدد ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے بااثر افراد کے ہاتھوں شدید زخمی ہونے والے غریب افراد کی میڈیکل رپورٹ پر خود ساختہ تحریر کرنا سراسر ظلم اور ناانصافی ہے جس کی اصلاح نہ کرنا بھی ایک تعجب خیز بات ہے
بک گیا دوپہر تک بازار کا ہر ایک جھوٹ
اور میں شام تک یوں ہی ایک سچ کو لیے کھڑا رہا