14

معاشی ماہرین نے موجودہ حکومت کو آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش نہ کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے تحت حکومت پر آمدہ بجٹ پیش کرنے کے حوالے سے کوئی قدغن نہیں ہے۔

پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے موجودہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہاکہ ملک کے اقتصادی شعبے میں صورتحال تشویشناک ہوچکی ہے۔ گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس جیسے اہم ترین نان ٹیکس کی وصولی کم ہوئی ہے۔ صورتحال کے مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

انہوں نے حکومت کو تجویزدی کہ وہ آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش نہ کرے۔ مقررہ وقت سے پہلے بجٹ پیش کرنے سے بجٹ کے تمام لوازمات پورے نہیں ہوںگے اور اکنامک سروے گروتھ ریٹ سمیت 10 ماہ کے اعداد وشمار دستیاب نہیں ہوںگے۔

سابق سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل86کے تحت قائمقام حکومت بھی 4 ماہ کے اخراجات کی منظوری دے سکتی ہے۔موجودہ حکومت کیلیے آٓئینی طور پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ یہ بجٹ دے کیونکہ موجودہ حکومت کی اپنی ترجیحات ہیں اور آنے والی حکومت کی اپنی ہوں گی، اگر ٹیکسوں کے نظام کے حوالے سے کوئی بہتری کرنی ہے تو آنیوالی حکومت کو کرنی چاہیے۔

ممتاز معاشی ماہر ڈاکٹر عابد حسن نے بھی کہا کہ موجودہ حکومت کو بجٹ پیش نہیں کرناچاہیے۔ سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین نعیم وائے زمیند ار نے کہا کہ ملک میں سمارٹ فون کی پیداوار کیلئے پالیسی بنارہے ہیں، اس سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوںگے۔

پری بجٹ سیمینار میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور بجٹ سے قبل سیمینار کے انعقاد کی روایت برقرار رکھنے پر اسے زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

سیمینار کے شرکاء نے وفاقی وزراء اور ماہرین معیشت کی آراء کو دلجمعی سے سنا اور بجٹ تجاویز میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

شرکاء نے بجٹ سے قبل سیمینار کے انعقاد کے ذریعے معلومات حاصل کرنیکا موقع فراہم کرنے پر ایکسپریس پبلی کیشنز کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ اس سے انہیں نہ صرف حکومتی اقدامات سے آگاہی ملی ہے بلکہ مختلف معاشی ماہرین کی بجٹ تجاویز سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملا ہے۔ شرکاء کا کہنا تھاکہ اس طرح کی سرگرمیاں جاری رہنی چاہئیں تاکہ عوام کو آگاہی ملتی رہے۔