پردیس

21

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر فیاض احمد۔۔۔ لندن
انسان ایک معاشرتی حیوان ہے جو تنہا زندگی کا سفر نہیں گزار سکتا ہے زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب اس کو احساس ہوتا ہے کہ میرا بھی کوئی ہم سفر ہو اگر ہم سفر اچھا مل جائے تو زندگی آسان اور مزیدار ہو جاتی ہے آج میں آپ کو بتاتا ہوں کہ پردیس کیا ہوتا ہے اس بات کا احساس وہی کر سکتا ہے جس نے پردیس کی زندگی گزاری ہو یعنی وہی جانتا ہے جس پر گزرتی ہے
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں ، بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلا ہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
پردیس کی زندگی بڑی عجیب ہوتی ہے اس میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک جو کسی کی پرواہ کئے بغیر زندگی گزارتے ہیں وہ ہر لحاظ سے پرسکون ہوتے ہیں کیونکہ وہ دوسروں کی پریشانیوں کو اپنے پر نہیں لیتے جو ان کا دل چاہتا ہے وہی کرتے ہیں اور اپنے آپ کو خوش رکھتے ہیں
دوسری قسم کے لوگ بڑے احساس ہوتے ہیں ان کا دل بہت نرم و نازک ہوتا ہے دوسروں کی پریشانیوں کو اپنی پریشانی سمجھتے ہیں ہر وقت اپنے پیاروں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اپنی خوشی اور صحت کی پرواہ کئے بغیر اپنے لوگوں کے بارے میں سوچتے ہیں ان کی خوشی ان کے گھر والوں کی خوشی سے منسلک ہوتی ہے دن رات محنت کرکے اپنوں کی ہر خوشی کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی مایوسی ان کا مقدر ہوتی ہے تنہائی ان کی ہم سفر ہوتی ہے اپنے پیاروں کو وقت دینا ان کے لئے کسی عید سے کم نہیں ہوتا کوئی ان سے حال دل پوچھ لے تو خوشی سے وہ باغ باغ ہو جاتے ہیں وہ پردیس میں اکیلے ہوتے ہیں کام کاج ختم کرنے کے بعد جب وہ گھر آتے ہیں تو کمرے میں اکیلے ہونے سے گھر ان کو کھانے کو دوڑتا ہے تو اس وقت خداوند کریم اور خاموشی ہی ان کے نصیب میںآتی ہے زندگی میں سب سے مشکل کام انسان اندر سے ٹوٹا ہوا ہو اور لوگوں کے سامنے ہنس رہا ہو یہی حال پرویس میں رہنے والوں کا ہوتا ہے وہ دو دو چہرے لئے گھوم رہے ہوتے ہیں ان کی آنکھوں میں تنہائی کے آنسوہوتے ہیں لیکن وہ رونے سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ اپنوں کی خوشیوں کے لئے ٹوٹنا نہیں چاہتے ان کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ نہیں ہوتازندگی کی عجیب کہانی دیکھی ہے انسان پیسہ کمانے کے لئے اپنی جوانی کی خوشیاں اور قریبی رشتے کھو دیتا ہے اور جب پیسہ مل جاتا ہے تو اس سے ان سب کو خریدنے چل پڑتا ہے دراصل یہ ہمارے ایمان کی کمزوری ہے خدا وند کریم نے رزق کا وعدہ کیا ہے تو ہم فکر مندکیوں ہوتے ہیں دولت ہمیں دلی سکون اور مکمل خوشی نہیں دے سکتی اور نہ ہی اس سے خریدی جا سکتی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ عزت اور ذلت دینے والی ذات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہی ہے
وہ بچھڑا اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے جہاں کو ویران کر گیا
یہی وجہ ہے کہ پردیس میں رہنے والے انسان تنہائی پسند ہوتے ہیں کیونکہ جب وہ تنہا ہوتے ہیں تو ان کے پاس کوئی نہیں ہوتا جو ان کی تنہائی دور کرے ان کی خاموشی کو توڑے اس وجہ سے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں اسی وجہ سے وہ تنہائی پسند ہو جاتے ہیں اور تنہا رہنا ہی ان کو اچھا لگتا ہے لیکن دوسرے ان کو مغرور یا پاگل سمجھنے لگتے ہیں ہمیں اپنے چاہنے والوں کی قدر کرنی چاہیے اور انکی خوشیوں کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ جانے والے لوٹ کر نہیں آتے جب ان کی قدر ہوتی ہے تو وہ بہت دور نکل چکے ہوتے ہیں اس لئے ہر اچھے کام کے لئے ہر وقت اچھا ہوتا ہے اس لئے وقت کی قدر کے ساتھ ساتھ اچھے لوگوں کی بھی قدر کرنی چاہیے