نگراں حکومت کےقیام اور نئی حکومت آنے تک نیب قانون غیرموثر کردیاجائے، نوازشریف

8

سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ وہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو تجویز دیں گے کہ نگراں حکومت کے قیام اور نئی حکومت کی تشکیل تک نیب قانون کو غیر موثر کردیا جائے۔

اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر میڈیاسے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے  کہا کہ ہمارا سیاسی کیرئیر گواہ ہے کہ ہم اپنے موقف سے ہٹے ہیں نہ ہی ہم نے کوئی یو ٹرن لیا، ہم نظریاتی لوگ ہیں اور میرے دائیں بائیں بھی نظریاتی لوگ ہی بیٹھے ہیں، مجھے جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دیں، ملک میں کسی قسم کی خرابی نہیں چاہتے، سب کہہ رہے ہیں میری آواز پر لبیک کہیں گے، کال دینے کی نوبت آئی تو کال دوں گا، جیل کے اندر رہوں یا باہر، جہاں سے بھی آواز دوں گا عوام نکلیں گے۔

نواز شریف نے کہا چیف جسٹس نے کل کہا تھا کہ انتخابات ملتوی ہونے کی گنجائش نہیں، مجھے چیف جسٹس پاکستان کی باتیں اچھی لگیں۔ اگر چیف جسٹس شفاف انتخابات کا کہتے ہیں تو وہ نہیں ہونا چاہیے جس کی نشاندہی کی ہے اور وہ اپنے عمل سے بھی ثابت کریں۔ تمام جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کے مساوی مواقع دئیے جانے چاہئیں، انتخابات سے قبل ہمارے رہنماؤں کے خلاف نیب کے بے بنیاد مقدمات بنائے جارہے ہیں، نیب ہمارے رہنماؤں کو ہراساں کرنے کا ادارہ بن گیاہے۔ نیب (ن)لیگ کے حمایت یافتہ لوگوں کو ٹارگٹ کررہا ہے، چیف جسٹس نیب سے پوچھیں کہ کارکنوں کو ہراساں کرنے کا یہ کون سا وقت ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو بلوچستان اسمبلی، سینیٹ انتخابات کے واقعات کا ازخود نوٹس لینا چاہئے۔ عوام کو پیغام دینا چاہتا ہوں جو لوگ پیسے دے کر سینیٹر بنیں انہیں چھوڑ دیں، بلوچستان میں جوکچھ ہوا، کیا اس کا سپریم کورٹ نے نوٹس لیا، چیئرمین سینیٹ کیسے بنے، ووٹ بیچے اور خریدے گئے، چیف جسٹس کو  بلوچستان کی صورتحال پر سوموٹو نوٹس لینا چاہیے تھا۔

نواز شریف نے کہا کہ ان کے خلاف احتساب عدالت میں زیرسماعت مقدمے کا اوپن ٹرائل ہونا چاہیے تاکہ عوام کو بھی پتہ چلے کہ مقدمے میں  کیا ہو رہا ہے، حقائق قوم کے سامنے آنے چاہیے، یہ جھوٹا کیس ہے جس میں سب کچھ ہے اگر نہیں  ہے تو کرپشن نہیں  ہے۔ نیب قانون کو کالا قانون سمجھتا ہوں  جسے ایک ڈکٹیٹر نے مجھے سزا دینے کے لیے بنایا تھا، مجھ پر کیس چل رہا ہے اس لئے اس قانون کو ختم کرنے کے حق میں  نہیں  لیکن جب حکومت میں  آئیں  گے تو اس قانون کو اللہ کے حکم سے ختم کردیں  گے۔ انہوں  نے کہا کہ وہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے کہیں گے کہ نیب قانون کو نگران حکومت کے دوران غیر مثر کردیا جائے، اس قانون کا ناجائز طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے اور جو بھی طاقتیں ہیں  وہ انتخابات میں اس کا ناجائز استعمال کریں گی۔

پنجاب چھیننے سے متعلق آصف زرداری کے چیلنج پر نواز شریف نے کہا کہ وہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ چھیننے سے پہلے حلقوں سے ووٹ تو لے لیں، پنجاب کے حلقوں میں  زرداری صاحب کے پاس چار پانچ سو ووٹ نکلتے ہیں۔