ہرن اور کستوری

23

جب آدم علیہ السلام زمین پر تشریف لائے تو جنگل کے جانور آپکی زیارت کرنے کو آئے، آپ علیہ اسلام ہر جنس کے جانوروں کے لیے دعا فرماتے یہاں تک کہ ہرنیاں بھی آئیں، آپ نے انکے لئے دعا فرمائی اور محبت سے انکی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو ان میں کستوری پیدا ہوگئی جس کی خوشبو سے  سارا جنگل مہک اٹھا، ہرنیوں کی دوسری جماعت نے ان سے خوشبو کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا جب ہم آدم علیہ السلام کی خدمت میں زیارت کرنے کیلئے حاضر ہوئیں تو دعا کے ساتھ ساتھ آپ نے ہماری پیٹھ پر بھی ہاتھ پھیرا جس کی برکت سے ہم اس خصوصیت سے ممتاز ہوئیں۔ یہ سنتے ہی ہرنیوں کی دوسری ذات بھی حاضر ہوئی آپ نے انکے لیے بھی دعا فرمائی اور پیٹھ پر ہاتھ پھیرا مگر خوشبو نمودار نہ ہوئی ، ہرنیاں اپنی ہم نسلوں سے کہنے لگی کہ ہم نے بھی آدم علیہ السلام سے یہی عمل کرایا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا اسکی کیا وجہ ہے؟ پہلی جماعت کی ہرنیوں نے کہا کہ ہم نے آدم علیہ السلام کی زیارت اللہ کی رضا کی خاطر کی تھی ہم اپنی خالص نیت کے سبب سرفراز ہوئے اور تم خلوص نیت کے فقدان کے شکار رہے تو ثابت ہوا کہ ہر کام انجام دینے کے لیے نیت کا اچھا ہونے ضروری ہے۔