فائنل میں گرین شرٹس سے سابق کرکٹرز کو بلند توقعات وابستہ

11

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی فائنل میں پُرعزم گرین شرٹس سے سابق کرکٹرز نے بلند توقعات وابستہ کر لیں۔

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل مقابلے میں گرین شرٹس کی انگلینڈ کے خلاف فتح نے جہاں شائقین کے دل جیت لیے، وہاں سابق کرکٹرز بھی مسرور اور فائنل میں بھی کامیابی کیلیے بلند توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

جاوید میانداد نے کہا کہ ٹائٹل کیلیے پاکستان کو مزید ایک میچ کے 100 اوورز میں اچھا کھیل پیش کرنا ہے، بھارتی ٹیم میگا ایونٹس میں ہم سے جیتی ضرور لیکن ایک طرح گھبراہٹ کا شکار بھی رہتی ہے، ہمیں خود دباؤمیں آنے کے بجائے روایتی حریف کو دباؤ میں لانا ہو گا، حریف کی قوت کا خوف کھانے کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر یقین قائم رکھنے سے کامیابی ملتی ہے۔ ہمیں صرف یہ سوچنا ہوگا کہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق بہترین کھیل پیش کرنا ہے،بولرز کی لائن لینتھ بہتر نظر آرہی ہے، بیٹنگ میں 10،10 اوورز کی پلاننگ کرنا ہو گی، اسٹرائیک ریٹ بہتر رکھا تو بھارت دباؤ میں آئے گا، سری لنکا نے یہی انداز اپناکر بلوشرٹس کا دیا ہوا ہدف حاصل کیا۔

وسیم اکرم نے کہا کہ ہم ایک سنگ میل عبور کرنے سے ایک قدم کی دوری پر ہیں، حوصلے جوان رکھتے ہوئے نیچرل کھیل پیش کرنا ہوگا، ہماری نیک خواہشات گرین شرٹس کے ساتھ ہیں۔ رمیز راجہ نے کہا کہ سرفراز احمد کی بے خوف قیادت نے ٹیم کا مزاج بدل دیا، حسن علی، فخر زمان، شاداب خان، بابر اعظم اور رومان رئیس نے انگلینڈ کیخلاف فتح میں اہم کردار ادا کیا، اس کو میں پاکستان اسپیشل کہتا ہوں، فائنل میں بھی نوجوان کھلاڑیوں کا کردار اہم ہوگا۔

چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کہا کہ میں نے پاکستان ٹیم کے بارے میں ایسا ہی سوچ رکھا تھا، گرین شرٹس کسی بھی چیلنج سے نمٹنے اور فائٹ بیک کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ محمد یوسف نے کہا کہ کامیابی بولرز اور کپتان سرفراز احمد کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ٹیم لیڈر ایسا ہی ہونا چاہیے جو بہادرانہ فیصلہ کرے، انگلینڈ ٹورنامنٹ کی ناقابل شکست ٹیم تھی، اس کے باوجود سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا بڑا اچھا بولڈ فیصلہ کیا، بولرز امیدوں پر پورا اترے اور حریف پر دباؤ بڑھا، دونوں اوپنرز اظہر علی اور فخر زمان نے بھی انتہائی عمدہ بیٹنگ کی، فائنل میچ میں بھی اسی طرح کا جذبہ دکھانے کی ضرورت ہے۔

سرفراز نواز نے کہا کہ ٹیم نے ٹورنامنٹ کا ہر میچ ناک آؤٹ سمجھ کر کھیلا، حسن علی نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا،پیسر کو جب بھی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا، انھوں نے پرفارمنس دی، ٹیم جس طرح کھیل رہی ہے اس کے بعد مجھے امید ہے کہ گرین شرٹس فائنل میں بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

مصباح الحق نے کہا کہ نوجوان کپتان کو دلیرانہ فیصلے کرتے ہوئے دیکھ کر خوشی کا احساس ہو رہا ہے، نئے ٹیلنٹ نے ان کی پلاننگ میں بھرپور ساتھ دیا اور ہر پلیئر نے اپنا کردار بخوبی نبھایا۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان نے شاندار کم بیک کیا اور ٹرافی کا حصول ہماری منزل ہے۔ سعید اجمل نے کہا کہ پاکستان نے انگلینڈ کو تینوں شعبوں میں آؤٹ کلاس کیا، اگر اسی طرح کا ذمہ دارانہ کھیل فائنل میں بھی پیش کیا تو پہلی بار ٹائٹل جیتنے کا مقصد پورا ہو جائے گا، انھوں نے کہا کہ فخر زمان نے شرجیل خان کا خلا پُر کر دیا ہے،آئی سی سی ایونٹ میں ڈیبیو کرنے کے بعد انھوں نے بے پناہ اعتماد کا مظاہرہ کیا ہے، امید ہے کہ وہ مستقبل کا اثاثہ ثابت ہوں گے۔

علاوہ ازیں سابق کیوی اسٹار برینڈن میک کولم بھی فخر زمان اور اظہر علی کی فاتحانہ اننگز سے متاثر اور پاکستان کی فائنل میں کامیابی کیلیے پُرامید ہیں۔ سابق سری لنکن اسٹارکمارا سنگا کارا نے کہا کہ بھارت کیخلاف ابتدائی میچ میں شکست کے بعد سرفراز الیون نے شاندار کم بیک کیا۔