چوہے ٹی بی کی بو سونگھنے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں

32

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عام ٹیسٹ کے مقابلے میں چوہے بچوں میں ٹی بی کی 70 فیصد درستگی تک شناخت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تنزانیہ میں واقع موروگورو زراعتی یونیورسٹی کے ماہرین نے چوہوں کو خاص تربیت فراہم کی ہے جس کے ذریعے بچوں میں ٹی بی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جب کہ اس کی تحقیقات جرنل آف پیڈریاٹک ریسرچ میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق کے مطابق ٹی بی کے مریض خاص قسم کی بو خارج کرتے ہی جنہیں عام ٹیسٹ کے ذریعے نظر انداز کردیا جاتا ہے لیکن چوہے اسے شناخت کرسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق غریب افریقی ممالک میں جدید لیبارٹریاں موجود نہیں اور اس تناظر میں چوہے مرض کی شناخت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

سائنسی ٹیم کے سربراہ جورجیئس مگودے کا کہنا ہے کہ بہت سے بچوں میں بیکٹیریا کی سطح پر مرض کی شناخت نہیں ہوپاتی اور اسی وجہ سے ان کے علاج میں تاخیر ہوتی ہے۔ اسی لیے غریب اور پسماندہ ممالک میں بچوں میں ٹی بی کی شناخت کا ایک قابلِ اعتماد اور کم خرچ طریقے کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی جو اب چوہوں کی صورت میں موجود ہے۔

جورجیئس مگودے کے مطابق چوہے 68 سے 70 فیصد ٹی بی کے کیسز کامیابی سے شناخت کرچکے ہیں۔ اس کے لیے افریقا کے بڑے چوہوں کی ایک قسم کرائسٹومس اینسور گائے میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ وہ مائیکو بیکٹیریئم ٹیوبر کلوسس کے سالمات کی خاص بو کو پہچان سکتے ہیں۔

تجربے کے لیے جورجیئس اور ان کے ساتھیوں نے 5 سال سے کم عمر کے 982 بچوں کے تھوک کے نمونے لیے اور پہلے انہیں تنزانیہ کے بہترین اسپتالوں میں خردبین سے دیکھا تو 34 بچے ٹی بی کے شکار نکلے۔ اس کے بعد چوہوں کی باری آئی تو انہوں نے مزید 57 بچوں میں یہ مرض شناخت کرلیا جو 68 فیصد زائد تھا۔ اس طرح ان کی درست شناخت کی شرح 70 فیصد تک نوٹ کی گئی جو بہت ہی حوصلہ افزا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تپِ دق (ٹی بی) اب بھی دنیا میں جان لیوا 10 بڑے امراض میں سے ایک ہے اور اس نے غریب ممالک میں اپنے پنجے گاڑھ رکھتے ہیں۔ ان ممالک میں چین، انڈونیشیا، پاکستان، بھارت، نائجیریا اور فلپائن سرِ فہرست ہے۔ ہر سال 10 لاکھ بچے اس سے متاثر ہوتے ہیں جن میں سے ڈھائی لاکھ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔