کسی شیر کو نہیں جانتا اصل شیر میرے جج ہیں، چیف جسٹس

18

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کسی شیر کو نہیں جانتا اصل شیر میرے جج ہیں۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ سماعت میں بھارتی وزیر ریلوے لالو پرشاد کا نام لیا، میری معلومات غلط تھی، لالو پرشاد لاء گریجویٹ ہیں، میری اس بات پر طلعت حسین نے آسمان سر پر اٹھالیا، کیا یہ میڈیا کی ذمہ داری ہے، کسی نے فیصل رضاعابدی کا انٹرویو دیکھا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کسی شیر کو میں نہیں جانتا۔ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے ججز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصل شیر ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ عدالت کا اتنا احترام ضرور کریں جتنا کسی بڑے کا کیا جانا چاہیے، کسی کی تذلیل مقصود نہیں، نااہلی کیس پر فیصلے کے بعد ہی نعرے لگے، عدلیہ کے باہر عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگے، ابھی صبر اور تحمل سے کام لے رہے ہیں، لوگ خواتین کو ڈھال کے طور پر سامنے لے آتے ہیں، غیرت ہوتی توخود سامنے آتے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ بات زبان سے بڑھ گئی ہے، میڈیا کی آزادی عدلیہ کی آزادی سے مشروط ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کمزور ہوگی تو میڈیا کمزور ہوگا۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس نے محکمہ ریلوے میں مبینہ کرپشن سے متعلق کیس کی گزشتہ سماعت پر کہا تھا کہ بھارت کا وزیر ریلوے لالو پرشاد ان پڑھ آدمی تھا، لیکن ادارے کو منافع بخش بنایا، ہمارے ہاں صرف جلسوں میں ریلوے کے منافع بخش ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں، اصل صورتحال مختلف ہے۔