روس کے ساتھ ساز باز,میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں,ٹرمپ

9

گزشتہ 7ماہ سے تحقیقات ہورہی ہے ،کوئی میرے خلاف ایک ثبوت بھی نہیں لاسکا، جس شخص نے ایف بی آئی ڈائریکٹر کوبرطرف کرنے کا مشورہ دیا وہی معاملے کی چھان بین کررہا ہے

میں سوشل میڈیا سے استفادہ کرتا ہوں تو’’جعلی ذرائع ابلاغ‘‘ کو بہت برا لگتا ہے ، امریکی صدر، رابرٹ مولر نے تحقیقات کیلئے 13ماہر وکلا کی خدمات حاصل کرلیں، ترجمان واشنگٹن ( فارن ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میں نے صدارتی اتخاب کے دوران روس کے ساتھ کوئی ساز باز نہیں کی ،اس حوالے سے میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے ، وائٹ ہائوس سے اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہاکہ گزشتہ 7ماہ سے اس معاملے کی تحقیقات اور کمیٹیوں میں سماعت ہورہی ہے ، اس کے باوجود کوئی میرے خلاف ایک ثبوت بھی نہیں لاسکا، جس شخص نے مجھے ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی کو برطرف کرنے کا مشورہ دیا اب وہی معاملے کی چھان بین کررہا ہے کہ میں نے کومی کو ان کے عہدے سے کیوں ہٹا دیا،صدر ٹرمپ نے امریکی صدارتی انتخاب میں مبینہ روسی کردار سے متعلق امریکی ذرائع ابلاغ کی خبروں اور تبصروں پر بھی اظہار برہمی کیا،انہوں نے کہا کہ جب میں طاقتور سوشل میڈیا سے استفادہ کرتا ہوں تو ہمارے ملک کے ’’جعلی ذرائع ابلاغ‘‘ کو بہت برا لگتا ہے ، کیونکہ سوشل میڈیا کے ذریعے میں جب چاہوں پورے امریکا کے عوام تک اپنی بات پہنچا سکتا ہوں، صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرے خلاف بدنیتی پر مبنی مہم وہ لوگ چلا رہے ہیں جنہیں میں ’’ بہت برے لوگ‘‘ قرار دینے پر مجبور ہوں، دوسری جانب 2016 کے صدارتی انتخاب میں مبینہ روسی مداخلت کی تحقیقات پر مامور رابرٹ مولر کے ترجمان پیٹر کار نے انکشاف کیا کہ مولر نے اپنی تحقیقاتی ٹیم کیلئے 13 ماہر وکلا کی خدمات حاصل کر لی ہیں، انہوں نے کہا کہ مزید کئی لوگ جلد ہی مولر کی ٹیم میں شامل کیے جائیں گے ، دریں اثنا ایک امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ نائب صدر مائیک پنس نے نجی طور پر معروف قانون داں رچرڈ کولن کی خدمات حاصل کرلی ہیں، مائیک پنس نے صحافیوں کے سوال پر کہا کہ میری جانب سے وکیل کا تقرر کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے ، رپورٹ کے مطابق نائب صدر کے اس اقدام سے وائٹ ہائوس کے عملے میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے ،انہیں یہ اندیشہ لاحق ہوگیا ہے کہ صدارتی انتخاب سے متعلق تحقیقات میں کوئی ایسا مرحلہ نہ آجائے جو ان کیلئے بھی ناسازگار ثابت ہو، واضح رہے کہ صدرٹرمپ پر ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی کی برطرفی کے علاوہ یہ الزام بھی عائد کیا جاچکا ہے کہ انہوں نے کئی سینئر انٹیلی جنس افسران سے بھی کہا تھا کہ وہ انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کے بارے میں تحقیقات کے رخ کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں، امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہو سکتا ہے کہ اس تحقیقات کے دوران ایسی صورتحال رونما ہو جائے جو ٹرمپ کی صدارت پر گہرے منفی اثرات مرتب کرے ۔