پانی بجلی کا بحران ، کراچی و حب میں صنعتیں بند کرنے کی دھمکی

27

کراچی کے 7 صنعتی علاقوں کی نمائندہ ایسوسی ایشنز نے حکومت کوبجلی اور پانی کا بحران ختم کرنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ الٹی میٹم کی مدت ختم ہونے پرکراچی کی تمام صنعتی علاقوں میں قائم صنعتوں کی تالا بندی کردی جائے گی۔

منگل کو پی ایچ ایم اے ہاؤس میں کراچی انڈسٹریل فورم کے تحت 7 صنعتی علاقوں سائٹ، کورنگی، لانڈھی، فیڈرل بی ایریا، نارتھ کراچی، سائٹ سپرہائی وے، بن قاسم انڈسٹریل ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کے ہمراہ فورم کے کنوینرجاوید بلوانی نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ 20 روز سے صنعتی علاقوں میں میں8 سے10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ اور 25 دن سے پانی کی عدم فراہمی سے شہر کی15 ہزار صنعتوں کی پیداواری سرگرمیاں50 فیصد گھٹ گئی ہیں لیکن وفاقی اور سندھ حکومت اس ضمن میں کوئی کردار ادا کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی مشیرخزانہ مفتاح اسماعیل اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو اس سنگین بحران سے آگاہ کردیاتھا لیکن تاحال اس مسئلے کوحل کرنے پرکوئی توجہ نہیں دی گئی، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پانی کی عدم سپلائی کے ذریعے کراچی کی50 فیصد معیشت کو مفلوج کردیا گیا، اگر کراچی کی صنعتیں بند ہوگئیں تو ملکی معیشت کو50 فیصد ریونیو اور برآمدات کی مد میں خطیرنقصان کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ ان صنعتوں میں خدمات انجام دینے والے لاکھوں افراد بے روزگار ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے صنعتی علاقوں میں ہزاروں ایسی صنعتیں جن کا بنیادی خام مال پانی ہے جن کی ایک بڑی تعداد کی پیداواری سرگرمیاں منجمد ہوگئی ہیں، صنعتی علاقوں میں ایک پوری شفٹ کاکام بند ہوگیا ہے جبکہ دوسری شفٹ بھی ایک دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے متاثر ہے۔

کراچی میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ اور پانی کی قلت کے باعث فیکٹری پہنچنے والے مزدوروں کی فعالیت ختم ہوگئی ہے، کراچی کے صنعتکار اب تنگ آکر مسئلے کوبہرصورت حل کرنے کے لیے حکومت کو48 گھنٹے کا الٹی میٹم دے رہے ہیں اور صنعت کاروں نے ایک ہفتے قبل ہی اپنے ورکرز کو اس بحران سے آگاہ کرتے ہوئے اپنے روزگار کے بندوبست کرنے ہدایت کردی ہے تاہم صنعتی شعبہ لیبرلاز کے مطابق ان کے واجبات ضرور اداکرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وصوبائی حکومت صنعتی علاقوں کے لیے پانی بجلی گیس ، سیکیورٹی،سیوریج سمیت انفرااسٹرکچر کی سہولت فراہم کی پابند ہے جس کے لیے ان حکومتوں کو اربوں روپے ٹیکسوں کی مد میں ادا کیے جاتے ہیں۔

کراچی وفاق کو60 فیصد جبکہ سندھ کو90 فیصد ریونیو فراہم کرتا ہے لیکن اسکے باوجود کراچی کی صنعتوں کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی اور پانی کی قلت سے لاتعداد برآمدی آرڈرز کی تکمیل نہیں ہوسکے گی جو 35 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کے تناظر میں انتہائی تشویشناک ہے حکومت کوتو ایک گھنٹے کی بھی فکر ہونی چاہیے۔ حب انڈسٹریل ایریا کی ایسوسی ایشن نے بھی کراچی سے سپلائی ہونے والی بجلی کے بحران سے آگاہ کرتے ہوئے کراچی کی تمام صنعتی علاقوں کی تنظیموں کے ساتھ احتجاجی مہم میں شریک ہونے کا اعلان کیا ہے۔ پریس کانفرنس میں سائٹ سپرہائی وے کے ڈاکٹرقیصروحید،کاٹی کے طارق ملک، ایف بی ایریا کے بابر خان، لانڈھی کے اسلام الدین ظفر، بن قاسم کے نوید شکور، سائٹ کے عرفان موٹن، نارتھ کراچی کے شاہدصابر بھی موجود تھے۔