مسئلہ کشمیر اقلیتوں پر مظالم لندن: مودی کی آمد پر احتجاج مردہ باد کے نعرے

75

مظاہرے میں پاکستانی ، کشمیری، سکھ کمیونٹی ، بھارتی اقلیتوں سمیت ہزاروں افراد کی شرکت، مظاہرین گو مودی گو، آرایس ایس دہشتگرد، فری کشمیرفری اور ننھی آصفہ کو انصاف دو کے نعرے لگاتے رہے شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے ، لارڈ نذیر، وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق، چوہدری یاسین و دیگر موجود تھے،بھارتی سفارتخانے نے کرائے کے لوگ بھیجے جولوگوںکوطیش دلاتے رہے

لندن(فلک نیوز)مسئلہ کشمیر اور اقلیتوں پر مظالم کی وجہ سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو لندن آمد پر شدید احتجا ج کا سامنا کرنا پڑا، مظاہرے میں پاکستانی ، کشمیری، سکھ کمیونٹی ، بھارتی اقلیتوں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین بھارت مردہ باد، گومودی گو،،آرایس ایس دہشتگرد،فری کشمیرفری اور ننھی آصفہ کو انصاف دو کے نعرے لگاتے رہے ۔ شرکاء نے پلے کارڈز، بینرز اور آصفہ کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی دولت مشترکہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے لندن پہنچے تو ان کی آمد پر لندن میں مظاہرہ اور احتجاج کیا گیا۔ برطانوی پارلیمنٹ کی فضا بھارت مردہ باد اور کشمیر کی آزادی کے نعروں سے گونج اٹھی۔ بھارتی وزیراعظم مودی کے خلاف مظاہرے میں وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر، اپوزیشن رہنما یاسین چوہدری ، سابق وزیراعظم بیرسٹرسلطان محمود چوہدری، برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ نذیراحمد ، ناز شاہ، افضل خان، ریحام خان، عشرت ناز اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔ پارلیمنٹ کے باہر ہونے والے مظاہرے میں برطانیہ بھرسے ہزاروں پاکستانی ، کشمیری اور سکھ شریک ہوئے ، اس مظاہرے کے لیے کئی ماہ سے تیاریاں جاری تھیں۔ مظاہرے میں خالصتان تحریک کے کارکن اور دیگربھارتی اقلیتیں بھی شریک ہوئیں۔ مظاہرے میں خواتین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر ’’دنیا نیوز‘‘ سے گفتگوکرتے ہوئے برطانوی پارلیمنٹ کے تاحیات رکن لارڈ نذیراحمد کاکہناتھا کہ ابھی توپارٹی شروع ہوئی ہے ، بھارتی سفارت خانے نے کرائے پر لوگ اکٹھے کر رکھے ہیں، جو مظاہرین کو طیش دلا رہے ہیں، کوئی گڑبڑہوئی تو ذمے داربھارتی قونصلیٹ ہو گا۔ ایم پی افضل خان نے بھی کچھ یوں ہی اظہارخیال کیا۔ ایم پی ناز شاہ ، ریحام خان اوردیگر خواتین نے برطانوی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وہ مودی سرکار پر مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے دباؤ ڈالے ۔ مظاہرے میں اسکاٹ لینڈ کے مختلف شہروں سے پاکستانی اورکشمیری گروپس کی صورت میں شرکت کے لیے لندن پہنچے ۔ مودی مخالف مظاہرے کا توڑکرنے کے لیے بھارتی قونصلیٹ نے بھی کرائے پرمظاہرین کا انتظام کررکھاتھا جو بینڈ باجے کے ساتھ موج مستی کرتے رہے ۔ کئی شرپسندوں نے کشمیری اورپاکستانی مظاہرین سے چھیڑچھاڑکی کوشش بھی کی، صورت حال پرقابوپانے کے لیے موقع پرپولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔