کون لگائے گا مارشل لا، کس میں ہمت ہے ؟ چیف جسٹس ثاقب نثار

36

لاہور: (فلک نیوز) چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کون لگائے گا مارشل لا کس میں ہمت ہے ؟ قائداعظم کے ملک میں جمہوریت رہے گی ، جس دن مارشل لا لگا اس دن عہدے چھوڑ دیں گے ، جوڈیشل مارشل لا کا آئین میں کوئی وجود نہیں ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کوئی بھی فیصلہ کریں تو شور اٹھتا ہے جوڈیشل مارشل لا، جوڈیشل مارشل لا۔ انہوں نے کہا جوڈیشل مارشل لا کی باتیں کرنیوالے اپنا ذہن صاف رکھیں۔ ان کا کہنا تھا ووٹ کی قدر اور عظمت یہ ہے کہ قوم کی خدمت کریں ، بنیادی حقوق کی فراہمی کی ذمے داری ریاست کی ہے ، بنیادی حقوق کی فراہمی کیلئے کام کیا تو کیا غلط کیا ؟ میرے پاس اپنے ججز کی تعداد بڑھانے کا اختیار نہیں ، مجھے وسائل دے دیں۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا تھا پاکستان ہمیں خیرات یا تحفے میں نہیں ملا ، کاش علامہ اقبال اور قائداعظم ابتدائی وقت میں ہوتے تو پاکستان کا یہ مستقبل نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کتنے بد نصیب ہیں وہ لوگ جن کا اپنا ملک نہیں، اقبال، قائداعظم کی جدوجہد اور اللہ کی نوازش سے یہ ملک مل گیا ، ذاتیات سے الگ ہو کر پاکستان کیلئے کام کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا میری نظر میں سب سے زیادہ اہمیت تعلیم کی ہے ، تعلیم حاصل کرنے والی قومیں ترقی کر رہی ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا پاکستان کے تصور کو چکنا چور کر دیا گیا ، پنجاب یونیورسٹی کی 80 کنال زمین گرڈ اسٹیشن کیلئے لی گئی ، یہ کیسے ہوا ؟ پنجاب یونیورسٹی کی زمین حکومت کو کیوں دی گئی ؟ انہوں نے کہا امتیازی کلچر ختم کرنا ہوگا، بچوں کو یکساں نظام تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا تعلیم سے متعلق کسی چیز پر سمجھوتہ نہیں کروں گا ، بچوں کو تعلیم دینے میں کوتاہی کرنے والے والدین مجرم ہیں۔