دنیا کی 95 فیصد آبادی آلودہ فضا میں سانس لینے پر مجبور، رپورٹ

18

دنیا کی 95 فیصد آبادی آلودہ فضا میں سانس لینے پر مجبور ہے جب کہ ترقی پذیر ممالک کے غریب لوگ اس کے زیادہ شکار ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں بیماریوں کے باعث ہونے والی اموات میں بلند فشار خون، ناقص غذا اور سگریٹ نوشی  کے بعد فضائی آلودگی چوتھی نمبر پر ہے۔

ہیلتھ ایفیکٹ انسٹی ٹیوٹ کے وائس پریذیڈنٹ باب اوکیفے نے کہا ہے کہ  فضائی آلودگی دراصل دنیا بھر میں وصول کیا جانے والا ایک طرح کا بہت بڑا ٹول ٹیکس ہے جس کی وجہ سے سانس لینے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں نتیجے میں نوجوان سے بوڑھے تک اسپتال جاتے ہیں، بچوں کا اسکول اور لوگوں کا کام پر جانا معطل ہوجاتا ہے اور روزانہ کی اموات میں فضائی آلودگی کا بڑا کردار ہے۔

باب نے مزید کہا کہ اس رپورٹ کا مقصد دنیا کے مختلف خطوں کی اصل صورتحال کو سامنے لانا ہے کیوں کہ نظر انداز کیے گئے اس اہم چیلنج سے نمٹنے کے لیے بہت کام کرنا باقی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آلودگی سے ہلاک ہونے والے افراد کی اکثریت ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں رہنے والے کم آمدنی والے افراد کی ہے۔ دنیا بھر میں فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات (61 لاکھ) میں سے 50 فیصد اموات کے ذمہ دار صرف دو ممالک چین اور بھارت ہیں۔ بھارت میں ہر چار میں سے ایک اور چین میں ہر پانچ میں سے ایک موت فضائی آلودگی سے پیدا شدہ بیماریوں کے باعث ہوتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین نے فضائی آلودگی میں کمی کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں جب کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں 2010ء کے بعد سے فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

رپورٹ کی تیاری میں گھروں میں کھانا پکانے کے دوران ٹھوس ایندھن (لکڑی اور کوئلہ) کے استعمال اور ان سے نکلتی ہوئی حرارت سے فضا کو پہنچنے والے نقصان کو بھی شامل کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں گھروں کے اندر کی  فضا بھی آلودہ ہوجاتی ہے۔

ایسے افراد کی اکثریت کا تعلق افریقا اور ایشیا کے کم آمدنی اور متوسط طبقے سے ہے جنہیں گھروں کے اندر اور گھروں کے باہر دونوں جگہ آلودگی کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ لینسٹ میں شائع ہونے والی ایک اسٹڈی کے مطابق سال 2015ء میں تقریباً ہر 6 میں سے ایک موت یعنی دنیا بھر میں 90 لاکھ اموات کا تعلق کسی نہ کسی طرح فضائی آلودگی کی مختلف اقسام سے تھا ان میں ہوا، پانی، مٹی، کیمیکل یا دیگر اقسام کی آلودگیاں شامل ہیں۔