حمل کی پیچیدگیاں

33

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر عظمیٰ عمران
چند سال پہلے آج کی طرح ٹیکنالوجی میسر نہیں تھی لیکن لوگ پھر بھی بہت خوش تھے بچے اس وقت بغیر آپریشن کے پیدا ہوتے تھے کیونکہ اس وقت کی عورت زیادہ پڑھی لکھی نہ ہونے کے باوجود بھی اپنا اور اپنے بچے کی صحت کا ہر لحاظ سے خیال رکھتی تھی لیکن اس کے برعکس آج کی عورت کو دیکھیں اس کے پاس تعلیم نہ بھی ہو تو سوشل میڈیا کے ذریعے سب باتوں کی آگاہی مل جاتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ ان باتوں پر عمل پیرا نہیں کرتی جس کی وجہ سے آج کل ہر دوسرے بچے کی پیدائش ہسپتال میں آپریشن سے ہوتی ہے اور اس میں سے بھی بیس سے تیس فیصد بچے کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں کیونکہ حمل کے دوران عورتیں احتیاط سے کام نہیں لیتی ہیں ان میں کچھ قصور عورت کا ہے اور کچھ گھریلو لیکن ہمیں اپنی آنے والی نسل کی بھی فکر کرنی پڑتی چاہیے عورتوں کو حمل کے دوران بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے حمل کے دوران عورت کے جسم میں مختلف قسم کی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں یہ تبدیلی عام طور پر معمولی سی ہوتی ہے لیکن اگر وقت پر اس کا خیال نا رکھا گیا تو اس سے کئی قسم کے جلدی امراض پیداہوجاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ درج ذیل مزید تبدیلیاں بھی پیدا ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے
قبض
حمل کے دوران ہارمون کی تبدیلی کی وجہ سے عورت کے جسم میں سب سے پہلے قبض کی شکایت پیدا ہوتی ہے اس سے بچنے کے لئے صحت مند اور بھرپور غذائیت والی خوراک استعمال کرنی چاہیے جیسا کہ اناج ۔ فروٹ۔ سبزیاں۔ پھلیاں اور دالیں وغیرہ اور اس کے ساتھ روزانہ ورزش کریں اور اس کے ساتھ پانی کا استعمال زیادہ کریں
جسم کے نچلے حصے میں درد
یہ ایک ایسا درد ہے جو اچانک سے اور تیزی سے ہوتا ہے یہ عام طور پر پاوءں میں یا پیچھے کے عضلات میں اور اکثر رات کے وقت ہوتا ہے اس درد کی اصل وجہ کے بارے میں کوئی نہیں جانتا ہے لیکن اس سے بچاؤ کے لئے ٹانگ اور ٹخنے کی ورزش کرنی چاہیے جو خون کی گردش کو بہتر بناتی ہے جس کی وجہ سے عورت درد سے محفوظ رہتی ہے اس کی ورزش کا طریقہ یہ ہے
اپنے پاؤں کو تیس مرتبہ بند کریں اور کھولیں
آٹھ مرتبہ سیدھی اور آٹھ مرتبہ الٹی سائیڈ میں گھمائیں
یہ طریقہ کار دونوں پاؤں کے ساتھ روزانہ ایک مرتبہ لازمی کریں اگر کسی اجانک سے یہ درد شروع ہو جاتا ہے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں کو جھٹکے سے اوپر کریں اور پاؤں کے عضلات کو رگڑیں
چڑچڑاپن
بعض دفعہ عورتوں میں حمل کے دوران چڑ چڑاپن ہو جاتا ہے یہ دماغ تک صاف خون نہ پہنچنے سے دماغ میں آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے یہ اکثر تیزی سے اٹھنے یا پیٹھ کے بل زیادہ دیر تک لیٹنے کی وجہ سے ہوتا ہے اس سے بچنے کے لئے اپنے اٹھنے اور بیٹھنے کا عمل آرام سے کریں اور اگر کھڑے ہونے کے دوران آپ چڑچڑاہٹ محسوس کریں تو فوری طور پر بیٹھ جائیں اور اگر سونے کے دوران محسوس کریں تو سائیڈ تبدیل کر لیں
حمل کے دوران گرمی محسوس کرنا
بعض دفعہ عورت ضرورت سے زیادہ گرمی محسوس کرتی ہے یہ ہارمون کی تبدیلی کی وجہ سے جلد کی طرف خون کا زیادہ دباؤ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے پسینہ زیادہ آتا ہے اس سے بچنے کے لئے ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننے سے سانس میں آسانی ہوتی ہے کیونکہ یہ روشنی کو جذب کرنے میں مدد کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اپنے کمروں کو بھی ٹھنڈا رکھیں اور اپنے جسم کے کھلے اعضاء کو تازہ پانی سے اچھی طرح دھوتے رہیں اس عمل سے آپ اپنے آپ کو تازہ دم محسوس کریں گے
غصہ آنا
حاملہ عورتوں کو غصہ ضرورت سے زیادہ آتا ہے جو ہارمون کی تبدیلی کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس دوران اس پر کنٹرول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اس سے بچاؤ کیلئے سبز پتوں والی سبزیوں کا استعمال زیادہ فائدہ مند ہے
پیشاب کی زیادتی
حمل کے دوران اکثر عورتوں میں پیشاب کی زیادتی ہو جاتی ہے جو پیدائش کے وقت تک رہتی ہے اگر آپ کو رات کے وقت پیشاب کی زیادتی ہوتی ہے تو شام کے وقت مشروبات سے پرہیز کریں چائے اور کافی سے بھی
جلد اور بالوں میں تبدیلی
ہارمون کی تبدیلی کی وجہ سے جلد کی رنگت ہلکی ڈارک ہوجاتی ہے اور معدے والی جگہ پر ہلکی ڈارک لائن بھی بن جاتی ہے حمل کے دوران عورت میں بالوں کی زیادتی ہوجاتی ہے جو کہ پیدائش کے بعد گرنے شروع ہو جاتے ہیں
وینز کی سوجن
حمل کے دوران عام طور پر عورت کے پاؤں کی نسیں یا وینز سوج جاتی ہیں لیکن یہ کوئی خطرے والی بات نہیں ہے کیونکہ پیدائش کے بعد یہ اپنی اصلی حالت میں آ جاتی ہیں اس سے بچنے کے لیے زیادہ دیر تک کھڑے رہنے سے اور ٹانگوں کے اوپر ٹانگیں چڑھانے سے اور زیادہ وزنی چیزیں اٹھانے سے پرہیز کریں اور اس کے ساتھ ساتھ بیٹھنے اور سونے کے دوران اپنی ٹانگیں ہلکی سی اوپر ہونی چاہییں
حمل کے دوران یہ کچھ ابتدائی تبدیلیاں ہیں اگر وقت پر ان کو دور نا کیا گیا تو اس کے بعد درج ذیل بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے
سر درد،خون کا آنا،مسوڑھوں سے خون آنا،کمر کا درد،بلند فشار خون، بد ہضمی ، سینے کی جلن،صبح کا بخار،نکسیر، بواسیر، نیند کا نہ آنا، تھکن، جوڑھوں پر سوجن وغیرہ وغیرہ
اور اس کے ساتھ اور بھی بہت سے زنانہ بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں اس لیے عورت کو حمل کے دوران اپنے کھانے کا خاص خیال رکھے جتنا ہو سکے اپنی غذا میں فروٹ کا استعمال کرے اپنے آپ کو پر سکون ماحول میں رکھے زندگی کی پریشانیوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے اور اس مقصد میں اس کا خاوند بھی اس کا ساتھ دے اور اس کو ہر وہ سہولت مہیسر کرے کیونکہ یہ صرف ایک بچے کا مسئلہ نہیں ہے یہ ایک نسل کی گروتھ کا مسئلہ ہے