5500 ارب حجم کا وفاقی بجٹ کل پیش ہوگا

19

وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2018-19 کیلیے بجٹ کل پیش کیا جائے گا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2018-19 کیلیے پارلیمنٹ میں کل پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 5500 ارب روپے کے لگ بھگ رکھے جانے کا امکان ہے۔

ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4 ہزار 433 ارب روپے، ترقیاتی بجٹ کا حجم 1030ارب روپے اور بجٹ خسارے کا ہدف 1870 ارب روپے رکھے جانے کی توقع ہے، اس کے علاوہ اگلے مالی سال کیلیے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 6.2 فیصد، زرعی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد، بڑی اور اہم فصلوں کا ہدف 3 فیصد تجویز کیے جانیکا امکان ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10تا 15فیصد اضافہ کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ 2ہزار سے 16ہزار روپے ماہانہ تک یوٹیلٹی الاؤنس دینے، ہاؤس رینٹ سیلنگ میں اضافہ اور میڈیکل الاؤنس میں اضافہ سمیت دیگر مراعات بھی زیر غور ہیں، برآمدات کا ہدف 27 ارب 30 کروڑ ڈالر، درآمدات کا ہدف 56 ارب 50 کروڑ ڈالر اور تجارتی خسارے کا ہدف 29 ارب 20 کروڑ ڈالر مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس سے قبل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوگا جس میں اگلے مالی سال کیلیے وفاقی بجٹ کی منظوری دی جائے گی۔ اسی اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن اور مراعات میں اضافہ کے بارے میں بھی منظوری دی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ سے متعلق تین تجاویز زیر غور ہیں جو کل وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلی تجویز سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10سے 15فیصد اضافہ کی ہے جبکہ دوسری تجویز ملازمین کو ملنے والے دو ایڈہاک ریلیف تنخواہوں میں ضم کرکے اس کے بعد 10فیصد اضافہ کرنے کی ہے۔ تیسری تجویز ایک ایڈہاک ریلیف ضم کرکے اس پر 15فیصد ایڈہاک ریلیف دینے کی ہے۔

رٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 25فیصد تک اضافہ کی تجویز زیر غور ہے دوسری تجویز پنشن میں 15سے 20فیصد اضافہ کی ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی ہائرنگ اور رینٹل سیلنگ میں اضافہ کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں دفاع کیلیے 11 سو ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ۔ ترقیاتی بجٹ میں سب سے زیادہ فنڈز بنیادی ڈھانچے کے منصوبوںکیلیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ سیکیورٹی اور بے گھر افراد کی بحالی کے اقدمات کیلیے دوسرے نمبر پر خطیر رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ہائیر ایجوکیشن کیلیے 57 ارب روپے، صحت اور بہبود آبادی کے لیے 17 ارب، سٹرٹیجک ڈویلپمنٹ گولز، کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 5 ارب اور سماجی شعبے کے دیگر پروگراموں کیلیے 36 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلیے 12 ارب، گورننس کیلیے 18 ارب روپے اور آزادکشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا کے علاقوں کیلئے 72 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بے گھر افراد کی بحالی اور سیکیورٹی کی بہتری کے مختلف منصوبوں کیلئے 105 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔