کائنات کا تاریک ترین سیارہ دریافت

19

ماہرینِ فلکیات نے مشتری جیسا ایک انوکھا سیارہ دریافت کیا ہے جو خود پر پڑنے والی روشنی کی 99 فیصد مقدار جذب کرلیتا ہے۔

اس طرح اس کا شمار خلائے بسیط میں موجود تاریک ترین اجرام فلکی میں کیا جاسکتا ہے۔ اسے تاریک ترین سیارہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیوں کہ اب تک اتنا تاریک سیارہ دریافت نہیں ہوا۔ ماہرین فلکیات نے اس نو دریافت شدہ سیارے کو Wasp-104b کا نام دیا ہے۔ طبیعی خصوصیات میں یہ ہمارے نظام شمسی کے سب سے جسیم اور گیسی سیارے مشتری سے مشابہ ہے، اس لیے اسے ’گرم مشتری‘ کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔

فلکیاتی اصطلاح میں ’’گرم مشتری‘‘ ان سیاروں کو کہا جاتا ہے جو اپنی کمیت اور دوسری طبیعی خصوصیات کے اعتبار سے ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری سے مشابہت رکھتے ہیں؛ لیکن ان کا مدار بہت مختصر ہوتا ہے یعنی وہ اپنے مرکزی ستارے (سورج) سے بہت قریب ہوتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے بلکہ یہ بڑی تیزی سے اپنے سورج کے گرد چکر بھی لگا رہے ہوتے ہیں۔ ایسے ’’گرم مشتری‘‘ عموماً اپنے سورج کے گرد ایک چکر تقریباً دس دنوں میں پورا کرلیتے ہیں یعنی ایسے سیاروں کا ’’ایک سال‘‘ زمین پر گزرنے والے دس دنوں کے مساوی ہوتا ہے۔ Wasp-104b اپنے مدار میں ایک چکر صرف 1.75 دن میں پورا کرلیتا ہے۔

نیا گرم مشتری کیل (Keele) یونیورسٹی، برطانیہ سے وابستہ محققین کی دریافت ہے۔ انہوں نے زمین کے گرد مدار میں محو گردش، ناسا کی کیپلر خلائی دوربین سے حاصل شدہ ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد اس منفرد سیارے کی دریافت کا اعلان کیا۔ سیارہ اپنے سورج سے اس قدر قریب ہے کہ اس کے گرد بادلوں کا غلاف بھی موجود نہیں، جو بیشتر سیاروں کے گرد دکھائی دیتا ہے۔ سورج اور ستارے کا درمیانی فاصلہ انتہائی کم ہونے کے باعث شمسی ہوائیں، گیسی بادلوں کو سیارے سے دُور پھینک دیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں یہ سیارہ سیاہ دھند میں لپٹا دکھائی دے گا کیوں کہ اس کے اجزائے ترکیبی میں پوٹاشیم اور سوڈیم کی کثرت ہے جن کے ایٹم ٹکرانے والی تقریباً تمام روشنی جذب کرلیتے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق نودریافتہ سیارہ ’’اسد‘‘ (لیو) نامی جھرمٹ میں واقع ہے جو زمین سے 466 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ سیارہ پونے دو دن میں اپنے سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے اپنی ایک محوری گردش مکمل کرنے میں بھی اتنا ہی وقت لگتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس منفرد سیارے کا نصف کرہ ہمیشہ سورج کی جانب رہتا ہے اور بقیہ نصف ہمیشہ اس سے مخالف سمت میں ہوتا ہے۔ بہ الفاظ اس کے آدھے حصے پر ہمیشہ دن اور آدھے پر ہمیشہ رات ہوتی ہے۔