حسین حقانی کی حوالگی کے مطالبے پر امریکا نے بھی پاکستان سے ایک مجرم مانگ لیا

25

میمو گیٹ میں مفرور ملزم حسین حقانی کی حوالگی کے مطالبے پر امریکا نے بھی پاکستان سے ایک مجرم مانگ لیا۔

سپریم کورٹ میں میمو گیٹ کمیشن کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا حسین حقانی کے ریڈ وارنٹ جاری نہیں ہوئے؟۔ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے بتایا کہ اس حوالے سے انٹرپول کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی، امریکی حکام کو ریڈ وارنٹس سے متعلق آگاہ کیا، تاہم امریکا نے بھی پاکستان سے ایک مجرم مانگ لیا ہے، امریکی حکام کہتے ہیں ہمارا بھی ایک بندہ آپ کے پاس ہے۔

ڈی جی ایف آئی اے نے حسین حقانی کے ریڈ وارنٹ پر امریکا کا جواب چیف جسٹس کو پیش کردیا۔ بشیر میمن نے بتایا کہ حسین حقانی کے حوالے سے امریکا کو لکھے گئے خط میں ایف آئی اے نے صرف اینٹی کرپشن کیس کا حوالہ دیا تھا، لیکن امریکہ نے جواب میں میمو کمیشن کا ذکر کیا۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا امریکی حکومت نے حسین حقانی کو دینے سے انکار کردیا، امریکہ سے کون پوچھے گا کہ حسین حقانی وطن واپسی کی یقین دہانی کروا کے بیرون ملک گئے تھے، کیا پاکستان امریکی عدالت کو دھوکہ دینے والوں کو واپس نہیں کرے گا، کوئی ملزم امریکی سپریم کورٹ کو بیان حلفی دیکر پیش نہ ہو تو امریکا کے مانگنے پر پاکستان انکار کرسکتا ہے؟

بشیر میمن نے کہا کہ انہوں نے امریکی حکام کو تمام تر حقائق سے آگاہ کیا ہے، مگر امریکا کے لیے شاید 41 لاکھ ڈالر کی بدعنوانی زیادہ بڑی کرپشن نہیں ہے، ہمارا ملک غریب ملک ہے، پھر عالمی سطح پر بھی پاکستان کو سپورٹ حاصل نہیں ہے کہ حسین حقانی کی گرفتاری میں مدد سکے، انٹر پول میں 5 بھارتی افسران ہیں لیکن ایک پاکستانی بھی نہیں، الطاف حسین کیس میں بھی یہی مشکل درپیش آئی ہے۔ سپریم کورٹ نے کیس میں احمر بلال صوفی کو عدالتی معاون مقرر کردیا۔

واضح رہے کہ 2011  میں امریکا نے ایبٹ آباد میں ایک گھر پر حملہ کرکے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو قتل کردیا تھا، جس کے بعد اس وقت امریکا میں مقرر پاکستان کے سفیر حسین حقانی کی جانب سے امریکی تاجر منصور اعجاز کی وساطت سے امریکی حکام کو مبینہ طور پر ایک خط بھیجا گیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ آپریشن کے بعد پاکستان میں فوجی بغاوت کا خطرہ ہے اس لئے امریکا پاکستان میں برسراقتدار جمہوری حکومت کی مدد کرے۔ میمو کے مندرجات سامنے آنے کے بعد نواز شریف سمیت کئی افراد نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ 2012 کے بعد سے یہ کیس زیر التوا تھا۔