مشتری نظامِ شمسی کا سب سے قدیم سیارہ قرار

7

مشتری (جوپیٹر)  نظامِ شمسی کا عجیب و غریب سیارہ ہے جو نظامِ شمسی میں خود زمین سے بھی پرانا سیارہ ہے اور اس لحاظ سے یہ  نظام کا سب سے قدیم سیارہ ہے۔

گیس اور گردوغبار سے بنا چوپیٹر زمین سے 20 گنا بڑھا سیارہ ہے اور سورج کی تشکیل کے صرف 10 لاکھ سال بعد ہی پیدا ہوگیا تھا اور یہ نظامِ شمسی کا سب سے بڑا سیارہ بھی ہے۔

اس پر جرمن اور امریکی ماہرین نے  ماہرِ فلکیات تھامس کروئجر کی نگرانی میں ایک تحقیق کے بعد کہا کہ مشتری نظامِ شمسی کا قدیم ترین سیارہ ہے۔ اس کا ٹھوس اندرونی قلب (کور) شمسی نیبولہ سے بھی پہلے وجود پذیر ہوگیا تھا۔

اب سے 4.6 ارب سال قبل ہمارا نظامِ شمسی گیس اور گردوغبار کا دہکتا ہوا بادل سا تھا۔ پہلے گیسیں جمع ہوکر دہکنے لگیں اور درمیان میں سورج بھڑک اٹھا ۔ اس کے بعد بچے کچے گھومتے ہوئے مادے سے سیارے وجود میں آئے جب کہ قریبی سیارے گیسی تھے اور اس سے پیچھے والے ٹھوس اجسام پر مشتمل تھے۔

اگرچہ ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ مشتری اولین تشکیل پانے والا سیارہ ہے لیکن اب تک ہم نظامِ شمسی کی درست عمر معلوم نہیں کرسکے ہیں۔ ماہرین نے زمین پر گرنے والے ٹھوس لوہے کے شہابیوں کا بغور جائزہ لیا ہے اور ان کی عمر معلوم کی ہے ۔ ماہرین نے ان شہابیوں میں مولبڈینیئم اور ٹنگسٹن آئسوٹوپس کا جائزہ لیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ شہابئے دو اہم جگہوں سے آرہے ہیں اور یہ دونوں ماخذ 20 سے 30 لاکھ سال کے فرق سے  الگ الگ ہوگئے تھے اور یہ عمل نظامِ شمسی بننے کے 10 سال بعد رونما ہوا تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ عمل ہی مشتری کی تشکیل کی وجہ بنا ۔ ہوا یوں کہ گیس اور گردوغبار کی دہکتی ہوئی ڈسک کے درمیان ایک خلا پیدا ہواجس سے شہابیوں کے ماخذ کے درمیان مادے کی آمدورفت کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ اس طرح سیارہ مشتری نظامِ شمسی کی تشکیل کے 10 لاکھ سال بعد ہی بن چکا تھا اور اچھا خاصا بڑا ہوچکا تھا تاہم اس کے بعد مشتری کے بڑھنے کا سلسلہ قدرے سست ہوگیا اور وہ 40 لاکھ سال بعد تک ہماری زمین کی کمیت کے 50 گنا تک پہنچ گیا تھا جب کہ آج جسامت میں 20 گنا اور کمیت میں 318 گنا تک طویل ہے۔