عہد نبوی ﷺ کا نظام تعلیم

31

تحریر ۔۔۔ ابن یوسف
ہجرت رسول ﷺ کے بعد اسلام بڑی برق رفتاری کے ساتھ پھیلنے پھولنے لگا تھا اور مسجد نبوی ﷺ اسلام کی تمام تر تبلیغی علمی وفکری ،دینی و اخلاقی اور تعلیمی سرگرمیوں کا زبردست مرکز اور پر رونق مقام بن چکی تھی ۔جہاں ملت اسلامیہ کے سب سے پہلے معلم اعظم سروردوعالم مسلمانوں کو دن و دنیا اور علم و حکمت کی تعلیمات دے کر تربیت و ذہن و کرداراور قلوب کو روشن کیا کرتے تھے ۔مسلمانوں کی درسی کتاب قرآن مجید تھی اور مسلمانوں کے معلم اخلاق و مفکر اعظم حضور سرور کائنات ﷺکی بے مثال تعمیری اور انقلابی تعلیمات نے نوع انسانی کے قلب نظر کو بدل دیا تھا۔ ہر چند کہ حضور ﷺ کی زندگی بہت مصروف رہتی تھی تاہم آپ ﷺمسلمانوں کے تعلیمی معاملات کے لیے وقت نکال لیا کرتے تھے در حقیقت آپ کو تعلیم و تدریس کا اتنا خیال تھا کہ ہجرت نبوی ﷺ سے بہت پہلے ہی حضرت مصعب بن عمیرؓ کو جو صورت میں رسول اللہ ﷺ سے مشابہ تھے ۔بحثیت ایک ممتاز معلم اخلاق بنا کر مدینہ منورہ بھیج دیا تھا تاکہ وہاں کے آدمیوں کی تعلیم و تربیت اور تہذیب و اخلاق کی اصلاح و فروغ کا انتظام کریں۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضور ﷺ کی نظر میں علم و ادب ، دین و اخلاق اور تعلیم و تربیت کی کتنی اہمیت تھی ۔ یہی سبب ہے کہ ہجرت نبوی کے بعد جب مسجد نبوی کی تعمیر ہوگئی تو دنیا کی اولین اسلامی جامع قرار پائی ۔ جس کے بانی و نگران اور معلم اعظم حضور سرور کائنات ﷺ تھے ،اور بہترین طلباء میں نوجوان،جوان اور عمر رسیدہ غرض یہ کہ ہر قسم کے صحابہؓ کرام شامل تھے ۔ کیونکہ حصوک علم و حکمت کے معملے میں اسلام میں عمر کی کوئی قید نہیں ہے ہر مسلمان مد و عورت پر حصول علم نہ صرف فرض ہے بلکہ پیدایش سے موت تک یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے ۔حصول علم و حکمت کا اصل نصب العین اپنی ہستی کا عرفان ہے تاکہ بندہ خداشناس بن جائے۔اطھا علم وہ ہے جو بندہ کو خدا سے ملاتا ہے ،انسانی شخصیت کی مکمل طور پر ذہنی ،جسمانی ،روحانیاور اخلاقی طور پر نشود و ارتقاء کر کے فرد کو معاشرہ ملک و ملت کے حق میں مفید بناتا ہے،دین و دنیا میں کامیاب بنا کر سچی خوشیوں سے مالا مال اور ہم کنار کیا کرتا ہے۔
جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ اسلام میں حصول علم کے معاملے میں وقت اوع عمر کی کوئی قید نہیں ہے ۔فرمان رسول ﷺ ہے کہ ” پیدایش سے موت تک علم حاصل کرو ” اس حدیث مبارکہ سے یہ ظاہر اور ثابت ہوتا ہے کہ آدمی زندگی کے ہر حصہ میں علم حاصل کرے۔ خاص کر ایک مومن کی پوری زندگی حصول علم میں بسر ہونی چاہیے کیونکہ حیات انسانی کا کوئی دور ایسا نہیں جس میں کوئی ذی شعور ہستی یہ دعویٰ کرے کہ اس کا علم ہر اعتبار سے مکمل ہو چکا ہے ۔وجہ اس کی یہ ہے کہ علم ایک سمندر ہے جس کی تہہ کا کسی کو نہیں پتہ اور آدمیاس بحر کراں میں موج کی مانند ۔یہی سبب ہے کہ ہر بڑا عالم اور ادیب زندگی بھر طالب علم رہتا ہے ۔اسی حیثیت سے دیکھیے تو انسان کی تمام عمر تعلیم و تعلم میں بسر ہو جاتی ہے۔ خاص کر ایک مومن کی تو پوری زندگی امتحان ہے جس کی تیاری شب ر روز کی جاتی ہے ،علم ایک روشنی ہے جس کی ہر انسان کو ضرورت ہے ،بیشک تعلیم و تربیت قانون کائنات ہے۔ بلا شبہ اسلامی نقطۂ نظر سے ہر مرد اور عورت پر حصول علم فرض ہے اور علم و حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے کہ جہاں سے ممکن ہو حاصل کر لو اور حصول علم کے معاملے میں جو کچھ بھی مشکلات یا دشواریاں آئیں انہیں خندہ پیشانی سے قبول کیا جائے ، ہمت نہ ہاری جائے ، حوصلہ اور عزائم کو ہمیشہ بلند رکھا جائے۔حصول علیم کے لیے دنیا کے جس کونے میں جانا پڑے تو سفر اختیار کر لیا جائے، یعنی علم و فن کے راستے میں جو دشواریاں اور پریشانیاں آئیں انہیں ہنسی خوشی برداشت کر لینے میں فلاح و کامرانی ہے۔ درحقیقت یہ لطیف اشارے وہ تعلیمی نظرئیے میں جس کی جھلکیاں عہد نبوی ﷺ کے نظام تعلیم میں واضح طور پر نظر آتی ہیں۔حضور سرور کائنات ﷺ نے اپنے حجرے کے سامنے ایک چبوترا تعمیر کرا دیا تھا جس پر سائبان تھا تاریخ اسلام میں اس کو ” صفہ ” کہتے ہیں ۔یہ درس گاہ علمی دن کو مدرسہ بن جاتی اور رات کو آرام گاہ اعلیٰ ترین تعلیم حضور ﷺ خود بنفس نفیس دیا کرتے تھے ،لیکن ابتدائی تعلیم و تدریس کا کام رضاکارانہ طور پر نوجوانوں کے سپرد تھا۔
تاریخی مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہجرت کے ایک برس بعد جنگ بدر کا وہ معرکہ حق و باطل پیش آیا ،جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم الشان فتح و نصرت عطا فرمائی ۔ درحقیقت یہ ایک بڑی فیصلہ کن جنگ تھی۔ اوع اس کی عالیشان فتح سے اسلام اور مسلمان دونوں کو غیر معمولی تقویت حاصل ہوئی ، اس موقع پر بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا اور بہت آدمی قیدی بن گئے۔ کچھ لوگ غریب تھے، ان کے لیے حضور ﷺ نے یہ شرط لگائی تھی کہ ہر قیدی مدینہ کے دس مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا کر پروانہ آزادی حاصل کر سکتا ہے اس سے عظمت علم کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابتؓ وغیرہ نے اس طرح پڑھنا لکھنا سیکھا تھا ۔ اور ان کا شمار اہل علم و فضل میں کیا جاتا ہے ، اسی طرح عہد نبوی میں فروغ تعلیم و تعلم کا قانون کائنات مسلم تھا انسانی ذہن و کردار اور اخلاق ارتقاء کا ایک زمانہ اور موثر فکر عمل تھا ۔ کہنے کا مطلب اصل میں یہ تھا کہ صفہ میں مسلمانوں کو قرآن حکیم اور اصول فقہ کی بہترین تعلیم و تربیت دی جاتی تھی ۔اور فن تجوید سے آشناکرایا جاتا تھا۔ کچھ لوگ مستقل طو رپر صفہ میں قیام پذیر تھے جن کے رہنے سہنے کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا ان آدمیوں نے اپنی زندگی کے شب و روز دین و اخلاق اور علم و ادب کے حصول اور فروغ کے لیے وقف کر دیتے تھے اہل مدینہ درس میں شرکت کیا کرتے تھے یہ بات شان نبوت میں سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک نظر میں انسانی فطرت، نفسیات ، صلاحیت اور رجحان طبیعت کو سمجھ لیا کرتے تھے ۔ اور اس کی رروشنی میں نوجوان ملت کو ذمہ داریاں سونپتے تھے اور حصول علم و فن کے معاملے میں بھی یہ آزادی تھی کہ طلباء اپنے شوق و ذوق اور صلاحیت کے عین مطابق مہارت پیدا کر سکتے تھے۔ چنانچہ اس آزادی فکر و نظر کی برکت سے حضرت زید بن ثابتؓ ایک ماہت فن ریاضی داں بن چکے تھے اور حضرت علیؓ نے علمی و دینی میدان میں وہ لیاقت و کمال حاصل کیا تھا کہ عظیم ترین مفکر اسلام کہلائے او حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ”میں علم کا باب ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ” اس مقالے کا مطلب حضرت علیؓ کی لیاقت علمی کا اظہار کمال ہے لیکن درحقیقت یہ درجہ کمال عہد نبوی کے نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کا اصل جوہر اور رسشن مینار ہے جس پر چک کر مسلمانوں نے ہر شبہ حیات میں شاندار ترقی ، مسرت و شادمانی اور قانون کی حکمرانی حاصؒ کی تھی ۔ بیرونی قبائل کوبھی صفہ میں تعلیم و تربیت دی جاتی تھی علاوہ ازیں نو مساجد بھی بن چکی تھیں ۔ جہاں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رہتا تھا ہفتہ میں ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ عورتوں کو تعلیم دیتے تھے ان کی تعلیمی و اخلاقی نگارنی کے علاوہ مخصوص سوالات کے جوابات عطا فرماتے ۔ ازدواج مطہرات کے سپرد یہ کام تھا کہ وہ عورتوں کو مخصوص تعلیم و تربیت دیں ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ تعلیم سے زیادہ تربیت پر زیادہ زور دیا جا تھا تھا کیونکہ بقول امام غزالی ؒ ”کتاب و سنت کے احکام دو عقائد کی روشنی میں مسلمانوں نے علم اور ترویج علم کو اپنا شعار اور مقصد زندگی بنا لیا تھا۔�آج ہمیں اپنا موجودہ نظام تعلیم کا جائزہ لینا ہوگا کہ وہ عہد نبوی کے نظام کے مطابق ہے تو اس پر شکر ادا کریں اگر اس کے مطابق نہیں ہے تو اس جیسا کرنے کی فکر کرنی چاہیے ۔ میری ارباب وقت سے یہی التجا ہے کہ ہمارے اسکول ، یونیورسٹیوں ، کالجز اور مدارس کے نظام تعلیم کو اس نظام کے مطابق کریں جو نظام تعلیم صفہ میں پڑھنے والوں کے لیے تھا، جس میں کسی کی تخصیص نہ ہو ہر ایک اس میں برابر ہو ، اس دور میں ہمارے مدارس کے نصاب تعلیم کی اصلاح کی ضروت ہے جدید علوم مدارس میں پڑھائے جائیں تاکہ مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والا ہر ایک طالب علم عملی میدان میں اپنا مناسب انتظام کر سکے ۔