سپریم کورٹ نے نا اہلی معطل کرنے سے متعلق خواجہ آصف کی استدعا مسترد کردی

48

اسلام آباد( فلک نیوز) سپریم کورٹ نے نااہلی معطل کرنے سے متعلق خواجہ آصف کی استدعا مسترد کردی، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتے کیلئے ملتوی کر دی۔

جسٹس عطا عمر بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے خواجہ آصف کی نااہلی معطل کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی ،خواجہ آصف کی جانب سے منیر اے ملک سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف کی نااہلی 3 نکات پر ہوئی،اس پر وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ میرے موکل پرالزام ہے کہ اقامہ رکھا، دوسرا الزام تنخواہ لینے اورکاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے کا ہے، جس بینک اکاونٹ میں 4700 درہم تھے اسے بھی ظاہر نہ کرنے کاالزام ہے۔

منیر اے ملک نے کہا کہ دبئی بینک اکاؤنٹ میں کبھی کوئی ٹرانزیکشن نہیں ہوئی ، 2012 کے گوشواروں میں بھی تنخواہ کا ذکر ہے ،کاغذات نامزدگی میں 6.82 ملین غیرملکی زرمبادلہ ظاہرکیا، اس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں غیرملکی تنخواہ صفرلکھی گئی ہے، کاغذات نامزدگی میں دونوں باتوں کی وضاحت نہیں کی گئی۔

وکیل صفائی نے کہا کہ گوشواروں میں غیرملکی تنخواہ اور 9 ہزار درہم کا بھی ذکر ہے، گوشواروں میں ذرائع آمدن اورتنخواہ بھی درج ہے۔

منیر اے ملک نے کہا کہ غیرملکی آمدن میں تنخواہ اوردبئی ہوٹل کے فروخت کی رقم کا بھی ذکر ہے، انتخابی عذرداری درخواست میں غیر ملکی تنخواہ کا ذکر نہیں کیا گیا ، 2013 میں الیکشن پٹیشن میں تنخواہ کودفاع کے طور پرپیش نہیں کیا گیا ۔ خواجہ آصف کا اقامہ کاغذات نامزدگی کےساتھ لگایا گیا تھا۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ الزام ہے خواجہ آصف وزیرہوتے ہوئے غیرملکی ملازمت نہیں کرسکتے، درخواست گزار کا موقف ہے یہ مفادات کا ٹکراو ہے ، فیصلہ مفادات کے ٹکراؤ اورغیرملکی اکاونٹس چھپانے پردیا گیا  ، عدالت نے دلائل سننے کے بعد نااہلی معطل کرنے سے متعلق خواجہ آصف کی استدعامسترد کردی۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ خواجہ آصف اورعثمان ڈاراپنی تحریری گزارشات دائرکریں،عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔