رمضان کریم اور انسان

29

تحریر ۔۔۔ ڈاکٹر فیاض اٖحمد ،لندن
انسان کی ایک قدرتی فطرت ہے کہ وہ پریکٹیکل کو زیادہ اہمیت دیتا ہے آج کل سائنس کا دور ہے لیکن سائنس میں بھی پہلے حقائق اکٹھے کئے جاتے ہیں پھر ان پر مشاہدات کئے جاتے ہیں اور اس کے بعد تجربات کئے جاتے ہیں جس کے بعد رزلٹ نکلتاہے اور اس طرح سے چیزوں کو زندگی میں استعمال کیا جاتا ہے ہم مسلمان اس مہینے کی برکات سے فیض یاب ہونے کیلئے کتنی دنیاوی چیزوں سے پرہیز کر لیتے ہیں اور ہماری کوشش ہوتی ہے کہ جتنا ہو سکے ایک دوسرے کی مدد کریں ایکدوسرے کا خیال رکھیں اور اس کے ساتھ ایکدوسرے کو مساوات اور ہمدردی کا درس دیتے ہیں حتیٰ کہ ہم اپنے آپ کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں اور ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہر کام اسلام کے مطابق کریں اراکان اسلام کی سختی سے پابندی کرتے ہیں جھوٹ فریب سے دور بھاگتے ہیں اپنی شرمگاہوں حفاظت کرتے ہیں یہ سب کچھ خداوند کریم کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کرتے ہیں کیونکہ رمضان کریم ایک بابرکت مہینہ ہے اور اس میں قرآن پاک کا نزول ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت سی رحمتیں بھی نازل ہوئیں اس بات میں سو فیصد صداقت ہے کہ یہ بابرکت مہینہ ہے لیکن ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جو واقعات قرآن پاک میں رقم کئے گئے ہیں وہ آج کل کے سائنسدان مشاہدات و تجربات کے بعد بتاتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم اپنے پروردگار کی کونسی کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ سب کچھ دیا ہے اگر ہم بغور دیکھیں تو ہمیں پتہ چلے کہ صبح سے شام تک اور رات سے صبح تک ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتنی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں اس لئے ہمیں چاہیے کہ قرآن پاک کو ترجمے اور تفسیر کے پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہمیں اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے
اس مہینے میں ہم روزے رکھتے ہیں اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت شامل ہے کیونکہ انسانی میٹابولزم کی ایسی ترتیب کی وجہ سے غذا چھ سے آٹھ گھنٹے تک جسم کو انرجی مہیا کرتی ہے اس کے بعد قدرتی طور پر ہمارا جسم کاروبوہائیڈریٹ اور جسم میں موجود دوسرے اجزاء سے انرجی وصول کرنا شروع کر دیتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں موجود نقصان دہ جراثیم کی موت ہو جاتی ہے کیونکہ انہیں خوراک کے لئے وافر فوڈ میسر نہیں ہوتا اس وجہ سے ہم بہت سی اندرونی بیماریوں سے بچ جاتے ہیں اسی طرح نماز پڑھنے سے ہم اپنے اعضاء کو تازہ پانی سے دھوتے ہیں جس کی وجہ سے ہم بہت سی جلدی امراض سے محفوظ ہو جاتے ہیں اس کے بعد نماز ادا کرنے سے بہت سی ہڈیوں کی بیماریوں سے اپنے آپ کو محفوظ کر لیتے ہیں نماز ایک ایسی عبادت ہے جس کے ساتھ ورزش بھی ہو جاتی ہے کیونکہ سجدے کے دوران ہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کا دل دماغ سے اوپر ہوتا ہے جس کی وجہ سے خون دماغ کی طرف تیزی سے حرکت کرتا ہے جو ڈپریشن ، سر درد کے ساتھ اور بھی بہت سی دماغی بیماریوں سے نجات کا باعث بنتا ہے
اسی طرح ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اس مہینے میں جتنا ہو سکے اسلامی قوانین کی پابندی کریں اور اس کے ساتھ ہم اس مہینے میں غریبوں ، مسکینوں اور لاچاروں کا حد سے زیادہ خیال رکھتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں حتیٰ کہ حقوق العباد کو پوری ایمانداری سے ادا کرتے ہیں اپنے والدین، بہن بھائی، رشتے داروں ، ہمسائیوں سب کے حقوق کا خاص خیال رکھتے ہیں کبھی ہم نے سوچا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ برکت کے ساتھ ایک پریکٹیکل بھی ہے اگر ہم یہ ایک مہینہ اسی طرح پابندی کے ساتھ گزار سکتے ہیں تو باقی کے دنوں میں بھی ہمیں ہمدردی اور مساوات کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے آپ نے دیکھا ہو گا کہ بعض لوگوں کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود وہ خوش نہیں ہوتے انہیں دلی سکون میسر نہیں ہوتا تو اس کی یہی وجہ ہے کہ ہم حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد سے بھی دور ہو جاتے ہیں ہمیں چاہیے کہ اس عبادت سے فائدہ اٹھائیں اور اس کو عبادت کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی میں پریکٹیکل کے طور پر عمل میں لائیں پھر دیکھیں زندگی کتنی خوبصورت ہو جاتی ہے اور دل میں کتنا سکون ہوتا ہے میری رب العزت سے التجاء ہے کہ ہمیں اور ہمارے معاشرے کے ہر فرد کے دل میں احساس پیدا کر دے جس سے ہمیں ایک دوسرے کے دکھ درد کا اندازہ ہو آمین۔