افغان فضائیہ کے مدرسے پر حملے میں 30 بچے جاں بحق ہوئے، اقوام متحدہ کی تصدیق

22

اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ ایک ماہ قبل افغان فضائیہ کی بمباری میں جاں بحق ہونے والے بچے ایک مدرسے کے طالب علم تھے اور حملے کے وقت مدرسے میں مذہبی تقریب جاری تھی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ دی ہے کہ قندوز کے مضافات میں ایک مدرسے پر بمباری کے نتیجے میں  معصوم بچوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ فضائی حملے میں 36 افراد ہلاک ہوئے جن میں 30 کم عمر بچے تھے جب کے 71 افراد زخمی ہوئے۔ افغان حکومت نے راکٹ اور خود کار ہتھیاروں سے مدرسے پر گولیاں برسائیں۔

اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ واقعے سے متعلق 90 سے زائد عینی شاہدین سے بات چیت کی گئی جنہوں نے بتایا کہ جنگی ہیلی کاپٹروں نے ضلع ارچی کے معروف مدرسے میں منعقدہ ‘دستار بندی’ کی تقریب پر 12 راکٹ داغے اور ہیوی مشین گنوں سے فائرنگ کی۔ تقریب میں کم عمر بچوں سمیت بزرگ اور نوجوان بھی شریک تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 2 اپریل کو ایک مدرسے پر فضائی بمباری کے نتیجے میں 200 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ افغان صدر نے بھی واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات کی یقن دہانی کرائی تھی۔ واقعے میں بڑی تعداد میں معصوم بچوں کی ہلاکتوں کی خبر نےعالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا جس کے بعد اقوام متحدہ نے تحقیقات کا عندیہ دیا تھا۔