برصغیر کے نیک اور رحم دل حکمران: ناصر الدین محمود

13

ناصر الدین محمود برصغیر کے نیک، رحم دل ، عبادت گزار اور سادہ مزاج حکمران تھے آپ 1229ئ626/ ھ کو پیدا ہوئے اس وقت برصغیر پر ان کے والد شمس الدین التتمش حکمران تھے جو علم دوست اور نیک سیرت حکمران تھے۔ جب ان کا انتقال ہو گیا تو ناصر الدین ابھی صرف سات برس کے تھے اس لئے ان کے بڑے بیٹے رکن الدین نے اقتدار سنبھالا لیکن وہ زیادہ عرصے حکومت نہ کر سکے اور پھر اقتدار ان کی بہن رضیہ سلطانہ کے پاس چلا گیا لیکن وہ بھی تین برس سے زیادہ حکومت نہ کر سکیں۔ لوگ ان کے خلاف ہو گئے اور ایک لڑائی میں وہ جاں بحق ہو گئیں۔ اس کے بعد معزالدین بہرام اور علاؤالدین مسعود نے بھی حکومت کی لیکن حالات خراب ہوتے رہے، اسی دوران ناصرالدین محمود کو بہرائچ کا حاکم مقرر کر دیا گیا۔ اس وقت ناصرالدین کی عمر 16 برس تھی لیکن انھوں نے ابتدا ہی سے اپنی انتظامی صلاحیتوں کی بنا پر اس علاقے کی بہت اچھی حکومت سنبھالی، عوام سے عدل اور نیکی کا برتائو کرتے رہے، جنگی مہمات میں خود شرکت کرتے اور رعایا کی خوشحالی پر خصوصی وجہ دیتے اور ذاتی زندگی میں عبادت و ریاضت ذکر و اذکار اور شب بیداری میں مشغول رہتے، عشق رسالت مآبؐ بھی آپ کے اندر موجود تھا۔ اسی دوران مرکز کی حکومت کمزور ہوتی رہی تو ناصر الدین کو مرکز کی حکومت بچانے کے لئے دہلی بلا لیا گیا۔ انھوں نے تخت پر بیٹھتے ہی ایسے فیصلے کیے کہ مملکت مضبوط ہونا شروع ہو گئی۔ آپ خود جنگوں میں حصہ لیتے لیکن ان کامیابیوں کی اصل وجہ آپ کا تقویٰ، خوف خدا اور دین سے رغبت تھی۔روایت کے مطابق ایک دفعہ آپ کی اہلیہ محترمہ نے آپ سے شکایت کی کہ آپ اتنی بڑی حکومت کے فرمانرواں ہیں اور مجھے گھر کے کام کاج خود کرنے پڑتے ہیں اور روٹیاں بھی پکانی پڑتیں ہیں جس سے میرے ہاتھ جل جاتے ہیں کیوں نہ بیت المال سے رقم لے کر ایک خادمہ کا انتظام کر لیا جائے یہ سن کر ناصر الدین کہنے لگے یہ بیت المال کا پیسہ بندگان خدا کا ہے میں کیسے اس میں خیانت کر سکتا ہوں اور اہلیہ کو صبر کی تلقین کی۔ آپ اپنے ذاتی اخراجات پورے کرنے کے لئے خود محنت کر کے کماتے ۔ آپ فن خطاطی کے ماہر تھے جسے آپ نے ذریعہ معاش بھی بنایا۔ ناصر الدین طبعاً امن پسند ،صلح جو اور نرم طبیعت کے مالک تھے لیکن جب بات مملکت کے دفاع کی ہوتی تو کسی بھی جنگ سے خوف نہیں کھاتے تھے۔ انھوں نے برصغیر پر بیس برس حکومت کی اور اپنے نائب بلبن کی مدد سے اپنی مملکت کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے اور منگولوں کے وحشیانہ حملوں سے بچایا۔ ناصر الدین محمود کے دور میںجو علمی کارنامے ہوئے ان میں سے تاریخ کی مشہور کتاب طبقات ناصری تصنیف ہو ئی۔ یہ کتاب مولانا منہاج السراج نے لکھی اور اپنے عزیزدوست ناصرالدین محمودکے نام پر رکھی یہ کتاب بائیس حصوں پر مشتمل ہے اور ہر حصہ اس کا طبقہ کہلاتا ہے۔ اس میںمولانا نے زمانہ قبل از تاریخ سے لے کر اپنے وقت تک کے تاریخی واقعات بیان کئے۔ یہ کتاب جب ناصر الدین محمود کو پیش کی گئی تو آپ بہت خوش ہوئے اور یہ کتاب سات سو برس سے زائد گزر جانے کے بعد آج بھی بہت کارآمد ہے۔ 18 فروری1266 کو اس عظیم حکمران کا انتقال ہوا اور آپ کو دہلی کے علاقے ملک پور میں سپرد خاک کر دیا گیا۔