صحافی، صحافت اور پاکستان

13

تحر یر ۔۔۔سید کمال حسین شاہ
صحافی مختلف خبریں لاتے ہیں مختلف ٹی وی چینلوں اور اخبارات کے لئے اور در بہ در گھوم پھر کے مختلف تازہ ترین خبریں دیتے ہیں۔۔۔
صحافت کسی بھی معاملے بارے تحقیق اور پھر اسے صوتی، بصری یا تحریری شکل میں بڑے پیمانے پر قارئین، ناظرین یا سامعین تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے ۔جدید دور میں، صحافت مکمل طور پر نیا رخ اختیار کر چکی ہے اور عوامی رائے پر اثرانداز ہوئی ہے ۔ عوام کا بڑے پیمانے پر اخباروں پر معلومات کے حصول کے لیے اعتماد صحافت کی کامیابی کی دلیل ہے ۔ اب اخباروں کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر عوام تک رسائی ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ اور ریڈیو کے ذریعے بھی کی جاتی ہے جس کی وجہ سے دنیا میں وقوع پزیر ہونے والے واقعات بارے معلومات کا حصول انتہائی آسان ہو گیا ہے ۔زرد صحافت” پست ترین شکل جس میں کسی خبر کے سنسنی خیز پہلو پر زور دینے کے لیے اصل خبر کی شکل اتنی مسخ کر دی جاتی ہے کہ اس کا اہم پہلو قاری کی نظر سے اوجھل ہو جاتا ہے ۔ صحافت کسی ریاست کا ایک اہم ستون ہوتا ہے ۔۔۔
دنیا کے کسی بھی ملک کے معاشرے میں صحافیوں کو ایک بلند مقام حاصل ہے کیونکہ اپنے علاقہ کے مسائل کا خاتمہ، اپنے علاقہ کے لوگوں کے ساتھ ہونیوالے ناروا سلوک کا خاتمہ صحافی اپنی خبروں،آرٹیکل، ڈائریوں اور کالم کی شکل میں کرنے کیلئے بھر پور جدوجہد کرتا ہے ،
صحافی قلم کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اپنے علاقہ کے مسائل کے خاتمہ کیلئے بھرپور کوشش کرتا ہے ، صحافی علاقائی مسائل کے خاتمہ کے لئے عوام کے بازو ہوتے ہیں۔۔۔
ایک صحافی معاشرے میں بیداری پیدا کرنے میں بڑا کردار ادا کرسکتا ہے اور ایک خبر کو وہاں پہنچاتا ہے جہاں شاید عام انسان کے لئے ناممکن ہو۔2005 تک تو پاکستان اس شعبے میں اتنا اآگے نہ تھا تاہم اب پاکستان اس شعبے میں انتہائی ترقی کر رہا ہے اور آج کل 30 سے زائد پاکستان کے نیوز چینلز ہیں۔۔۔ٹیکنالوجی تیزی سے بدل رہی ہے ۔ حالیہ برسوں میں نوجوانوں میں موبائل فون پر خبریں سننے ، پڑھنے اور دیکھنے کا رجحان بڑھا ہے ۔ وہ صرف سننا نہیں کچھ کہنا بھی چاہتے ہیں۔ اپنی آواز دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں، جس کے لیے وہ فیس بک اور ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں۔اکیسویں صدی کے آغاز پر پاکستان میں نجی ذرائع ابلاغ کی آمد کی صورت میں جو ابلاغی انقلاب آیا ہے اس کا نتیجہ ہے کہ آج شعبہ صحافت تیزی سے ترقی کر رہا ہے ۔ اگر ماضی سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان کا الیکٹرانک و پرنٹنگ میڈیا پہلے سے کافی آگے کھڑا ہے ۔۔۔
اختلاف رائے رکھنا زندہ معاشروں کی پہچان ہے مگر کسی بھی فرد یا ادارے کا محض اُسے رسوا کرنے کے لیے پیچھا کرنا مناسب عمل نہیں کہا جا سکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں میڈیا کو محض کسی کے خلاف یا حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ میڈیا کا کام لوگوں کی راہنمائی کرنا اور اطلاع دینا ہی ہے مگر انہیں اپنے معاشی مفاد کے لیے استعمال کرنا ہرگز نہیں ہے ۔ میڈیا لوگوں کو آگاہ تو کر سکتا ہے ۔۔۔یہ بھی وضاحت ضروری ہے کہ تمام میڈیا ایسا نہیں ہے مگر زیادہ تر ایسا ہی ہے ۔ لوگوں کی راہنمائی کا حق صرف اُسی کو حاصل ہے کہ جس کا اپنا دامن مکمل صاف ہو، غلطی ہو سکتی ہے مگر غلطی کو بار بار دہرانا غلطی شمار نہیں کیا جا سکتا ہے ، پاکستان میں آزادی اظہار پر پابندیاں ضرور رہی ہیں مگر گزشتہ عشرے سے ملنے والی آزادی کو ہمارے میڈیا نے جس طرح “کیش” کرانے کی کوشش کی ہے وہ چند الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے ۔پاکستان میں موجود وہ صحافی جو اردو میں لکھ رہے ہیں، یا جو اردو نشریاتی اداروں سے منسلک ہیں، اور وہ جو پاکستان میں انگریزی صحافت کر رہے ہیں، ان میں خاصا فرق ہے ۔ ایک فرق تو خود زبان کا ہے ، یعنی وہ جن کے لیے لکھ یا بول رہے ہیں ان کے سماجی اور معاشی رویے بے حد مختلف ہیں۔ یہ طبقاتی معاملہ بھی ہے ۔ ظاہر ہے کہ پاکستان کی اردو صحافت کے پڑھنے ، سننے اور دیکھنے والے انگریزی زبان بولنے والوں سے مختلف رویے رکھتے ہیں۔ اس کا پس منظر نو آبادیاتی دور میں تلاش کیا جانا چاہیے ۔اردو صحافی تمام امور کو ایک نسبتاً تنگ تناظر میں دیکھنے کا عادی ہے ۔ ہر بات پاکستان کی سیاست کے گرد گھومتی ہے ۔ مطالعے میں کمی کے باعث وہ چیزوں کو وسیع، عالمی تناظر میں دیکھ نہیں پاتے ۔
بڑے اداروں کے لیے پیسہ کمانے کا ذریعہ بن گئی ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے ادارے بھی اب ایسی نیوز شائع کرتے ہیں، جن سے انہیں سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ لائکس اور کمنٹس مل سکیں، خواہ وہ ان کی موافقت میں ہوں یا مخالفت میں۔۔۔ صحافت اب ایک سپیشلائزڈ شعبہ بن چکا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ صحافت پڑھ کر اور اسے سیکھ کر کم لوگ آتے ہیں۔ پہلے کم از کم لوگ زبان پہ عبور حاصل کرکے آتے تھے ۔
پاکستان صحافت کے لیے خطرناک ملک ہے ۔پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی میں بیس سے زیادہ صحافیوں کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا اور ایک کے بھی قاتل کیفرِ کردار تک نہیں پہچنے ۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق پاکستان بدترین ملک ہے جہاں سزا کے خوف سے بالاتر صحافیوں کا قتل کیا جاتا ہے ۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے ) کے مطابق سزا کے خوف سے بے نیاز ہو کر صحافیوں کو قتل کرنے کے معاملے میں پاکستان دنیا کا بدترین ملک ہے ۔ سی پی جے کی جانب سے حکومتِ پاکستان کے ساتھ اعلیٰ سطح پر رابطوں کے باوجود بظاہر اب تک اس صورت حال میں بہتری کے آثار پیدا نہیں ہوئے ۔۔۔رواں سال میں اب تک چار صحافیوں کا وحشیانہ انداز میں قتل ہو چکا ہے اور ابھی کتنے ہٹ لسٹ میں ہیں کہا نہیں جا سکتا۔ پاکستان میں برسرکار صحافیوں کے لیے یہ کہنا کہ وہ تلوار کی دھار پر چل رہے ہیں غلط نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ وہ تو ہمیشہ سے ہی تلوار کی دھار پر چلتے رہے ہیں۔ اب تو وہ شعلہ بداماں ، پا بہ جولاں اور صلیب بردار ہو کر اس خارزارِ رزم گاہ کی بادیہ پیمائی کر رہے ہیں۔۔۔ پاکستان میں صحافت مشکل ہوگئی، گزشتہ 22 سالوں میں 120 سے زائد صحافی شہید کردئیے گئے ،ی حقوق اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مقامی و بین الاقوامی تنظمیں یہ مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے موثر اقدام کیے جائیں اور صحافتی شعبے سے وابستہ افراد پر حملوں میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کو بھی یقینی بنایا جائے
ہ صحافیوں کی نمائندہ تنظیموں سے مشاورت کے ساتھ ایسے اقدام کر رہے ہیں کہ جس سے اس پیشے سے وابستہ افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی بہبود کے لیے بھی کام ہو سکے ۔