گورنمنٹ کالج سرگودہا کی چیف جسٹس سے فریاد

21
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی
دردمندانہ التماس ہے کہ گورنمنٹ کالج سرگودھا ایک نہایت ہی تاریخی اور شاندار تعلیمی درسگاہ تھی جس کی تاریخ 1914سے شروع ہوتی ہے ۔یہ سرگودھا ڈویژن اور گردو نواح کے تقریباََ 8اضلاع کے لئے معیاری تعلیم کی واحد درسگاہ تھی جس نے گذشتہ صدی میں لاکھوں طلباء کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا ۔ 2002میں کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دے کر اس کا نام یونیورسٹی آف سرگودھا رکھا گیا یونیورسٹی آف سرگودھا کے آرڈیننس میں سرگودھا کالج کی ذمہ داریوں یعنی کالج کی کلاسز کو جاری رکھنے کا واضح اعلان کیا گیا ۔سرگودھا یونیورسٹی 2014تک اپنی یہ ذمہ داریاں سر انجام دیتی رہی اور یوں گورنمنٹ کالج سرگودھا کی سنہری تاریخ زندہ رہی اور اہل علاقہ کے بچے بھی انٹر میڈیٹ اور گریجویشن لیول کی تعلیم اس میں حاصل کرتے رہے ۔2014میںیونیورسٹی آف سرگودھا نے یکطرفہ اور غیر حقیقت پسندانہ طور پر انٹر میڈیٹ کی کلاسزختم کر دیں جس سے سرگودھا ڈویژن اور گردو نواح کے اضلاع کے سینکڑوں طلبا ء کے لئے معیاری اور سستی تعلیمی درسگاہ ختم ہو گئی ۔مندرجہ ذیل ناقابل تردید حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے گورنمنٹ کالج سرگودھا کی بحالی کے فوری اور واضح احکامات جاری کیے جائیں:۔
-1 یونیورسٹی آرڈیننس 2002کی خلاف ورزی:
یونورسٹی آف سرگودھا کے 2002کے آرڈیننس میں واضح طور پر کالج کی ذمہ داریاں(انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن کلاسز) یونیورسٹی کو سونپی گئی ہیں۔یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے انٹر میڈیٹ کی کلاسزبند کرنا یونیورسٹی آرڈیننس 2002کی اصل روح کی واضح خلاف ورزی ہے۔
-2ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، گورنمنٹ آف پنجاب کے احکامات کی خلاف ورزی:
ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ،گورنمنٹ آف پنجاب نے یونیورسٹی آف سر گودھا کے وائس چانسلر کے نام اپنے مراسلہ نمبر NO.SO(UNIV.)15-2/2004 مورخہ 28-8-2012میں انٹرمیڈیٹ کلاسز کو جاری رکھنے کا واضح حکم دیا ہے بلکہ انٹرمیڈیٹ کلاسزجاری نہ رکھنے کی صورت میں کالج کی عمارت اور اثاثہ جات یونیورسٹی سے واپس لینے کی وارننگ دی ہے ۔یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے انٹر میڈیٹ کی کلاسزبند کرنا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
-3 بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی:
1973کے آئین کے مطابق تعلیم ہر پاکستانی شہری کا بنیادی حق اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔بادی النظر میںیونیورسٹی آف سرگودھا کا انٹر میڈیٹ کی کلاسز کو بلا جواز غیر حقیقت پسندانہ انداز میں ختم کرنا سرگودھا اور گرد ونواح کے شہریوں کوان کے بنیادی انسانی حق تعلیم سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔
-4 100سالہ قدیم قومی تاریخی قیمتی ورثے کا ضیاع :
گورنمنٹ کالج سرگودھا آکسفورڈ یونیورسٹی ،کیمبرج یونیورسٹی اور جامعۃ الا اظہر کی طرح ایک قیمتی قومی اورتاریخی تعلیمی ورثہ ہے جس کی تاریخ 100سال سے زیادہ پرانی ہے اس کی بحالی اور حفاظت حکومت پنجاب اور حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے ۔یونیورسٹی آف سرگودھا کی طرف سے کالج سیکشن ختم کرنے پر یہ 100سالہ قدیم قومی تاریخی قیمتی ورثے کو ضائع ہونے کاخطرہ ہے۔
-5 سرگودھا اور گردو نواح کی مڈل کلاس کمیونٹی کے ساتھ ظلم :
یونیورسٹی آف سرگودھا نے انٹر میڈیٹ کی کلاسز (FA /FSc /ICS) بلا جواز،یکطرفہ ختم کر کے شہریوں کومہنگے ترین پرائیوٹ کالجز کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے ۔ پرائیویٹ کالجز کی فیس غریب اور مڈل کلاس آدمی کے بس میں نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلواسکے گا اور یہ ان کے ساتھ بہت بڑا ظلم اور ناانصافی ہے۔
-6 قدیم ادبی اور ثقافتی ورثے کا ضیاع :
گورنمنٹ کالج سرگودھا 100سال تک پورے علاقہ میں ادبی ،ثقافتی اور تہذیبی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔یونیورسٹی آف سرگودھا کا کالج سیکشن کو ختم کرنا ان 100سالہ ادبی ثقافتی اور تہذیبی کامیابیوں کو ضائع کر کے آنے والی نسلوں کو اس سے محروم کرنیکے مترادف ہے۔
مندرجہ بالا حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا کوواضح احکامات جاری کیے جائیں کہ گورنمنٹ کالج سرگودھا کو اپنی بنیادی عمارت کم از کم جناح بلاک ،مولا بخش آڈیٹوریم ، اقبال ہاسٹل اورجنا ح ہال میں اپنے اصلی نام اور مونو گرام کے ساتھ فوری بحال کیا جائے۔ انٹر میڈیٹ کی کلاسز (FA /FSc /ICS) کا 2018کے نئے سیشن سے فوری داخلے شروع کیے جائیں اور ابھی سے ہنگامی بنیادوں پر اس کی تیاری شروع کی جائے جس میں جناح بلاک اور دیگر عمارت کی تزئین و آرائش ،پراسپیکٹس کی پرنٹنگ ،سٹاف کی تعیناتی اور اہل علاقہ کو مطلع کرنے کے لئے اخبارات اور دیگر ذرائع کے توسط سے تشہیر شامل ہے۔