موٹیویشن

16

تحریر ۔۔۔ شاہد شکیل
دنیا کا ہر انسان یہی چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ صحت مند رہے کوئی بیماری اسے چھونہ سکے ،اپنی مرضی سے جی بھر کے جو جی میں آئے کھائے پئے اور ہزاروں سال جئے لیکن ہر انسان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوتی کیونکہ جہاں تک صحت مند رہنے کا تعلق ہے وہ سب سے اہم بات ہے اور انسان کا کبھی کبھی ذاتی طور پر کوئی عمل دخل نہیں ہوتا کیونکہ کئی لوگوں کو بیماریاں وراثت میں یعنی ماں کے بطن سے یا پیدا ہونے کے بعد ملتی ہیں مثلاً ماں کو ذیا بیطس ہے یا باپ اونچا سنتا ہے تو کئی بچوں کو ان بیماریوں کا پیدائشی طور پر ہی سامنا کرنا پڑتا ہے اونچا سننا کوئی بیماری نہیں لیکن بعض افراد پیدائشی بہرے بھی ہوسکتے ہیں اور انہیں بیماریوں کے ساتھ ساتھ تمام زندگی بسر کرتے ہیں دوسری طرف ایک صحت مند فیملی کے ہاں کسی بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو وہ صحت مند بچہ کچھ عرصہ والدین کی مرضی سے پرورش پاتا ہے لیکن بعد میں اپنی مرضی سے کھانا پینا اور پرہیز نہ کرتے ہوئے اپنی مرضی سے زندگی جیتا ہے یہی وہ نقطہ ہے کہ پرہیز نہ کرنے سے کئی بیماریاں بچپن سے ہی اسکی راہ دیکھ رہی ہوتی ہیں اور ایسی صورت میں کسی اور کا نہیں بلکہ وہ خود قصور وار ہوتا ہے اس کی اپنی غلطی سے ہی بیماری اسے جکڑ لیتی ہے ۔آج سے دو ہزار چھ سو برس قبل ایک چینی فلاسفر نے کہا تھا کہ جو اپنی عادات قدم بہ قدم تبدیل کرتا رہے گا کامیابی اسکے قدم چومے گی ،لاؤت سے نے اس زمانے میں قبل از وقت خبردار کیا تھا کہ لانگ مارچ کیلئے پہلا قدم اٹھانا ضروری ہوتا ہے جس سے زندگی طویل ہو جاتی ہے یعنی انسان یکسانیت سے ایک دن اکتا جاتا ہے اسلئے کل کے بارے میں سوچ کر آج ہی قدم اٹھایا جائے۔دوسری بات تبدیلی کبھی خود نہیں آتی بلکہ لائی جاتی ہے اور اسکے لئے انسان کو اپنی کئی عادات کو ترک کر کے خود تبدیلی لانی ہوتی ہے قدم قدم پر ناقابل تسخیر عوامل میں مہارت حاصل کرنے سے راستے ملتے اور بنتے ہیں جس سے تبدیلی رونما ہوتی ہے یعنی اگر انسان ایک جگہ بیٹھا رہے گا تو گڑھے کا پتھر بن جائے گا جسے جب جو چاہے ٹھوکر مارے گا اسلئے انسان کیلئے موومنٹ بہت اہم قرار دی گئی ہے۔یہ سچ ہے کہ عادت کو تبدیل کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ کبھی تو ارد گرد کا ماحول آڑے آتا ہے ،کبھی غربت،بیماری،کشیدگی ،تعلیم ،پرورش اور دیگر عوامل انسان کی زندگی میں روکاوٹ بنتے ہیں تو کبھی کسی ناگہانی آفت کی صورت میں اپنے منصوبوں کو پایہ تکمیل نہیں پہنچا سکتا اور اگر انسان یہ سوچ کر بیٹھ جائے اب کیا ہو گا کیا کروں گا اور حرکت نہ کرے تو اسے دماغ کا فتور سمجھا جاتا ہے سب جانتے ہیں کہ بے کار بیٹھے رہنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا بیکار بیٹھنا بھی ایک بیماری ہے کیونکہ ایک دن انسان انہی سوچوں میں گم ہو کر منفی سوچ کو جنم دیتا ہے اور کئی غلط اقدام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ان تمام منفی باتوں یا اقدام کے برعکس اگر انسان اپنی صحت پر زیادہ توجہ دے جس میں معقول غذا کے علاوہ وقت کی پابندی زیادہ اہم ہے اور ورزش کرے تو کامیابی حاصل ہوتی ہے، یہ بات درست ہے کہ زندگی گزارنا آسان نہیں کیونکہ زندگی ہر قدم اک نئی جنگ ہے لیکن اگر انسان زندگی میں کچھ کرنے کی ٹھان لے کوئی مقصد مل جائے اور عملی منصوبہ بندی کرے اپنے اندر کی آواز کو پہچانے اور اٹل فیصلہ کرے کہ میں زندگی کو ضائع نہیں کروں گا اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کیلئے بھی آسانیاں پیدا کروں گا تو کوئی ایسا انسان نہیں جو آپ کے ساتھ قدم سے قدم نہ ملا کر چلے بلکہ ہزاروں آپ کے عمل کی حوصلہ افزائی کریں گے تاکہ سب کا بھلا ہو سکے۔اس لئے ضروری ہے کہ انسان کو اپنی منزل ،مقاصد اور اقدامات کا مکمل طور پر علم ہونا چاہئے اس ضمن میں انسان کا اخلاق ہی اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے نرم لہجہ، عاجزی اور بردباری اہم رول ادا کرتی ہے اپنے دماغ کو ایسا موٹیویٹ کیا جائے کہ ٹریننگ کی ضرورت نہ پیش آئے ، موٹیویشن کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان ورزش، یوگا، فٹنس یا جوگنگ کرے بلکہ اپنے آپ کو کسی بھی حالت میں پر سکون رکھے وہ گھریلو تلخیاں ہوں ،جوب ہو یا شاپنگ ہو ،صبر اور برداشت کا دامن کبھی نہ چھوڑا جائے۔ دوسری طرف صحت مند غذا ،یعنی وٹا منز سے بھر پور اشیاء کے استعمال سے انسانی دماغ موٹیویٹ رہتا ہے کیونکہ غذا ہی انسان کو فٹ رکھتی ہے اور وہ چار قدم چلنے کی ہمت اور طاقت رکھتا ہے ۔موٹیویشن کا اصل مقصد دیکھا جائے تو روزمرہ زندگی میں جسمانی سرگرمی ہے وہ کسی بھی قسم کی ہو یعنی برداشت،ورزش،طاقت،روابط اور اعتدال پسندی صحت کو فروغ دیتی ہے۔میونخ کی کیرولین ہائل مین جو سپورٹس پر ریسرچ کرتی ہیں کا کہنا ہے بہت سے لوگ جلد بازی کرتے اور نتیجے میں سب کچھ کھو دیتے ہیں دنیا کی ہر شے کو حقیقت پسندانہ اور منصوبہ بندی سے ہی پایہ تکمیل پہنچایا جا سکتا ہے اور اچھے نتائج کیلئے انسان کے اندر احساس کا مادہ ہونا ضروری ہے،امریکی ماہر نفسیات کا کہنا ہے جس انسان کو اپنے مقاصد کا علم نہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔جارج برناررڈ شا نے کہا تھا جو انسان اپنی سوچ اور دماغ تبدیل نہیں کر سکتا وہ کچھ بھی تبدیل نہیں کرسکتا۔