شدید گرمی میں بدن ٹھنڈا رکھنےکیلئے کیا کرنا چاہیئے۔

22

موسمِ گرما شروع ہوتے ہی پاکستان کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 30 اپریل کو نوابشاہ میں جدید انسانی تاریخ میں ماہِ اپریل میں سب سے زیادہ درجہ حرارت نوٹ کیا گیا ہے جو 50 سینٹی گریڈ سے کچھ زیادہ تھا۔

اس تناظر میں سائنسی طور پر تسلیم شدہ بعض ایسے اقدامات ہیں جنہیں اپنا کر نہ صرف آپ اپنا جسم ٹھنڈا رکھ سکتے ہیں بلکہ ہیٹ اسٹروک سے بھی بچ سکتے ہیں۔ یہ سارے ٹوٹکے باہم مل کر قدرتی طور پر ایئرکنڈیشنڈ کا احساس دلاتے ہیں۔

بہت بہت پانی پیئیں

پسینہ بہنے سے جسم کی حرارت باہر نکلتی ہے اور بدن کا درجہ حرارت معمول پر آتا ہے۔ لیکن یہ عمل اسی صورت بہتر طور پر ہوتا ہے جب جسم میں پانی کی مناسب مقدار موجود ہو۔

عام دنوں کے مقابلے میں گرمیوں کے دنوں میں پیاس اسی وقت لگتی ہے جب بدن سے پانی کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس لیے پیاس کے اشارے کا انتظارنہ کیجئے اور دن بھر وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں۔ پانی کی مناسب مقدار سے بدن میں خون کا بہاؤ ہموار انداز میں جاری رہتا ہے۔

اسی لیے سائنسدانوں کا مشورہ ہے کہ شدید گرمی میں پیاس نہ لگنے کی صورت میں بھی پانی کا استعمال جاری رکھیں۔

ڈھیلا اور ہوا دار لباس

یہ ایک واضح امر ہے کہ گرمی میں چست، گہری رنگت والے اور موٹے کپڑے پہننا کسی بھی طرح درست نہیں۔ جینزاور دیگر موٹے لباس سے ہوا اندر رہ جاتی ہے اور جسم کی گرمی باہر نہیں نکل پاتی۔

اسی بنا پر ماہرین باریک لباس کو متنفس (بریدایبل) لباس بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے ہوا کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔ اس ضمن میں ماہرین کاٹن سے بنے لباس پر زور دیتے ہیں۔ پاکستان میں اسی بنا پر گرمیوں میں لان فروخت ہوتی ہے اور مرد بھی ململ جیسے کپڑے پہننا پسند کرتے ہیں۔

نبضوں پر برف کا ٹکور

ہمارے جسم میں کئی مقامات ایسے ہیں جہاں ہم نبض محسوس کرسکتے ہیں۔ ان میں دونوں ہاتھوں کی کلائیوں، پاؤں کے دونوں ٹخنوں اور گردن کی شہ رگ کو ہم نبض والے گوشے کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کنپٹی اور بازوؤں کے جوڑ اور ہاتھ کی پشت پر بھی یہ رگیں واضح ہوتی ہیں۔ انہیں سرد رکھا جائے تو جسم ازخود ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔

وجہ یہ ہے کہ ان مقامات پر خون کی اہم شریانیں جلد کے قریب ہوتی ہے جس کے بہت سے فائدے ہیں۔ اب ان مقامات کو ٹھنڈا کرکے جسم کا درجہ حرارت ازخود کم کیا جاسکتا ہے۔ شدید گرمی کی صورت میں کپڑے میں رکھے برف کے ٹکڑے سے ان مقامات پر ٹھنڈک پہنچائیں۔ برف نہ ہو تو بار بار یہاں ٹھنڈا پانی ڈالیں یا ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھیں۔ تھوڑی دیر میں جسمانی درجہ حرارت کم ہونا شروع ہوجائے گا اور بدن کو ایک نئی فرحت محسوس ہوگی۔