صدر ٹرمپ

18

امریکی صدر ٹرمپ نے بالآخرپورے عالم اسلام کی دشمنی لیکراپنے سفارتخانے کا مقبوضہ فلسطین (غزہ) کی سرزمین پر گذشتہ دنوں افتتاح کر ہی ڈالاایسی قرارداد تو سابق ادوار میں ہی امریکی حکمرانوں نے پاس کر رکھی تھی مگر کسی سابقہ امریکی صدر کوایسی اسلام دشمنانہ حرکت کی جرآت نہ ہوتی تھی کہ ملت اسلامیہ ایسے عمل کا سخت رد عمل دے گی مگرٹرمپ کے دور میں امریکن بر بریت اور دہشت گردی کھل کر دنیا کے سامنے آچکی مگر چونکہ اسرائیلیوں نے ٹرمپ کو صدر منتخب کروانے میں اس کی بھرپور امداد کی تھی اور سبھی یہودی تنظیموں نے بڑھ چڑھ کرالیکشن مہم میں اربوں ڈالر خرچ کیے اس لیے “ادلے کا بدلہ”والا محاورہ یہاں فٹ بیٹھتا ہے ۔ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران ہی مقبوضہ فلسطین میں امریکی سفارت خانہ بنانے کا جو اعلان کیا تھا مقتدر ہوتے ہی اس نے یہ بزدلانہ اور احمقانہ فیصلہ برقرار رکھا حالانکہ امریکی عوام کا ایسا کوئی مطالبہ نہ تھا صرف یہودیوں اور اسرائیل کے بذات خود پریشر کی وجہ سے ٹرمپ مجبور محض ہواسینکڑوں ملکوں کے سفیروں کوشرکت کی دعوت دی گئی مگر بیشتر اس میں شامل نہیں ہوئے جنوبی افریقہ اور ترکی نے افتتاح موقع پر6درجن سے زائد افراد کے قتل اور ہزاروں مسلمانوں کے زخمی ہونے پر اپنے سفیروں کو واپس بلالیا ۔ہمارے مقتدر افرادتو پھسلنے چکنے گھڑے کی طرح کے رہے ہیں کمانڈو مشرف کا جھکاؤ اسرائیل کی جانب تھا اسے تسلیم کرنے کا عندیہ دیامگر ہماری غیرت مند پاک افواج کہ جس کا ماٹو ہی جہاد فی سبیل اللہ ہے نے ایسا نہ ہونے دیا ۔مشرف نے اکیلے فون کال پر 9/11کے بعد اپنے ہوائی اڈے امریکنوں کو دے ڈالے تھے مگر اسے اسرائیل کے مسئلہ پر تسلیم کرنے کی جرآت پلیدہ نہ ہو سکی ۔سفارتخانے کے افتتاح پر مقامی فلسطینیوں نے زبردست احتجاجی مظاہرے کیے۔ہزاروں خون میں نہلائے گئے مگر غیرت ایمانی کا مظاہرہ جاری رکھا۔نامعلوم وجوہ کی بنا پر عالم اسلام ایسے چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہے جیسے انہیں کسی سانپ نے سونگھ اور ڈس لیا ہوکاش آج شاہ فیصل شہید مسٹر بھٹو اور ضیاء الحق زندہ ہوتے تو عالم اسلام اس مسئلہ پر لازماً مشترکہ موقف اپناتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ کی بھرپور مذمت کرتا ۔امریکی تعلقات پر بھی لازماً نظر ثانی کی جاتی ویسے مسلمانوں کی تنظیمں اوآئی سی وغیرہ بھی آج تک کاغذی تنظیمیں ثابت ہو ئی ہیں۔اس کاہنگامی اجلا س ترکی نے بلوایا ہمارے وزیر اعظم نے بھی وہاں جا کر تقریر فرمائی قرار دادیں منظور ہوئیں یہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل پرایک بڑا پریشر تو ہیں مگر آمدن نشتندبرخواستندوالا معاملہ نہ ہو کہ وہاں امریکہ اسے ویٹو کردے اور ہم خاموش بیٹھ جائیں ۔عالم اسلام کو ڈٹ جانا چاہیے ۔اور سچ تو یہ بھی ہے کہ پورے عالم اسلام کے56اسلامی ممالک کے پاس ایٹمی قوت نہ ہے جن سے اسرائیلوں اور امریکیوں کو کوئی خطرہ محسوس ہوتا صرف پاکستان ہی عالم اسلام میں ایٹمی قوت رکھتا ہے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کی بھرپور دفاعی امداد کرنے کے قابل بھی مگر جرآت رندانہ کہاں سے آئے ؟ہمارے ہاں تو بڑی سیاسی جماعتوں کے راہنمایان ایک دوسرے کے لتے لے رہے ہیں گالی گلوچ الزام تراشی کردار کشی جوتے سیاہیاں پھینکنے و مخالفین پر فائرنگ کرنے جیسے قابل مذمت واقعات میں انتخابات سے قبل ہی تیزی آتی جارہی ہے باشعور افراد کا خیال ہے کہ آئندہ آمدہ2018کے انتخابات خونی ہوں گے اور مار دھاڑ سے بھرپور کریہہ ظالمانہ فلم بھی چلے گی جس سے ووٹر خوفزدہ بھی ہیں کہ انہی کے بچوں عزیزوں کو ایسے تصادم میں زخمی ہو کر موت سے ہمکنار ہونا ہے کسی لیڈر کا تو بال بھی بیکا نہیں ہوگاکہ وہ درجنوں مسلح افراد کے جلو میں گھومتے ہیں ان بڑے جغادری سیاسی پہلوانوں میں کوئی بھی کشتی جیت گیا تو ہارنے والے پہلوان قطعاً برداشت نہیں کریں گے اور انتخابات سے قبل ہی اس میں دھاندلیوں کے الزامات لگ رہے ہیں بیشتر محب وطن عوام بڑی سیاسی جماعتوں کو بڑے بھینسوں کی لڑائی سمجھ کر اس سے علیحدہ رہنے میں بھلائی سمجھتے ہیں ان کا بجا خیال ہے کہ نعرے باز لوٹوں کو اکٹھا کرنے والے کبھی بھی غرباء کسانوں مزدوروں اور محنت کشوں کے مسائل حل نہ کر پائیں گے دینی جماعتیں لاکھ کہیں کہ ہیں مگر نہ ہیں صرف اپنے اپنے مسالک کے افراد کے اکٹھ ہیں عام ووٹر تو لیڈروں کا نام سنتے ہی کانوں کو ہاتھ لگانے پڑ جاتا ہے کہ سبھی سیاسی پارٹیوں پر جاگیرداروں ،نودولتیے سود خور سرمایہ داروں ظالم کرپٹ وڈیروں کا قبضہ ہو چکا ہے نئی قیادت جیسے نعرے کبھی کے دفن ہو چکے عین ممکن ہے کہ”تنگ آمد بجنگ آمد” کی طرز پر پسے ہوئے طبقات کے مظلوم بھوک، مہنگائی اوربے روزگاری سے بلکتے ہوئے عوام اللہ اکبر اللہ اکبر اور ختم المرسلین تاجدار ختم نبوت محمد عربیﷺکے نعرے لگاتے اللہ اکبر تحریک کی صورت میں گندی غلیظ گلیوں کوچوں اور رہائشوں سے نکلیں اور کسی بھی جغادری سیاستدان کی اقتداری خواہشات کو کچلتے ہوئے خدا کی زمین پر خدا کی حکومت قائم کرٖڈالیں اس پر پاکستان عالم اسلام بالخصوص فلسطین ،کشمیر کے مظلوم افراد کی بھرپور امداد کر سکے گا اقتداری چھینا جھپٹی نے آج تو تقریباً تمام ہی قائدین کو مصروف کر رکھا ہے کہ “تجھے پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو “کے مصداق کر پشنوں کے الزامات سے جان چھڑانے رائیونڈی اور بنی گالائی محلات کی حفاظت کرنے اور عوام میں مقبول ہوجانے کے لیے نت نئے بیانیے جاری کیے جارہے ہیں خدائے عزوجل مسائل میں الجھی ہوئی اس قوم پر لازماً اس دفعہ اپنی خصوصی رحمتوں کی بارشیں برسا کر ملک کو اسلامی فلاحی مملکت بنا ڈالیں گے کہ لا الہ الا اللہ کی بنیادپر بننے والی اس نظریاتی مملکت کے لاکھوں بچوں عورتوں جوانوں کے خون نے اس کی جڑوں کو سینچا تھا۔سلامتی کونسل نے غزہ کی پٹی پر بہیمانہ اسرائیلی قتلوں پر تحقیقات کا مطالبہ تو کیا ہے مگر امریکہ نے ایسی کسی بھی قرارداد کو ویٹو کردیا ہے۔