ممبئی بیانئیے کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔نیا بیانیہ

23

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی
نواز شریف کے مبئی کے حوالے سے بیان نے جس طرح پورئے ملک میں بھونچال کی کیفت پیدا کردی ہے ایسے میں شہباز شریف کی جانب سے پاک فوج اور پاکستانی عوام کے موقف کی تائید بہت بڑی بات ہے۔ شہباز شریف کو حالات کا ادراک ہے۔ یقینی طور پر نواز شریف کو غدار نہیں کہا جاسکتا لیکن جس طرح کی باتیں وہ نا اہل ہونے کے بعد کر رہے ہیں وہ کسی بھی پاکستانی کے لیے قابل قبول نہیں ہیں ۔ اِس لیے نواز شریف کو اپنی سزائیں نظر آرہی ہیں۔ مزاحمت کے طور پر اپنے غلط مشیروں کے نرغے میں ہیں یہ وہ مشیر ہیں جو بھارت کے ساتھ سرحد کی لیکر مٹانا چاہتے ہیں۔ جنہیں مذہب سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ یہ لبرل فاشسٹ طبقہ قادیانی نواز ہے۔ ایسے میں جناب شہباز شریف کا قومی معاملات پر عوامی موقف کی بات کرنا یقینی ایک بڑی سیاسی جماعت کے صدر ہونے کے ناطے یہ بہت بڑاا قدم ہے۔ اللہ پاک پاکستان کو قائم دائم رکھے۔ نواز شریف کی نااہلیت نے نواز شریف کے اعصاب پر بہت بُرا اثر ڈالا ہے ۔اِس لیے نواز شریف نے ملک و قوم کے وقار کی بجائے اپنی جان بچانے کے لیے ہر طرح کی جنگ لڑنا شروع کی ہوئی ہے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ سابق آمر پرویز مشرف کیخلاف غداری کا مقدمہ بنانے پر وزارت عظمیٰ اور پارٹی صدارت سے ہٹا کر میرے خلاف جھوٹے‘ بے بنیاد اور من گھڑت کیس بنا دیئے گئے ہیں‘ میں نے خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کی باگ ڈور منتخب عوامی نمائندوں کے ہاتھ میں دینے کی کوشش کی اور اپناگھر ٹھیک کرنے کی بات کی‘ سابق صدر آصف علی زرداری نے مجھے پرویز مشرف کی2007ء کے غیر آئینی اقدامات کی پارلیمنٹ کے ذریعے توثیق کرنے اور مصلحت سے کام لینے کا مشورہ دیا لیکن میں نے انکار کردیا‘ مجھے کہا گیا کہ بھاری پتھر کو اٹھانے کا ارادہ ترک کرو‘ مشرف کا تو کچھ نہیں بگڑے کا لیکن آپ کے لئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی لیکن میں نے مشورہ نما دھمکیوں کو مسترد کردیا‘ ایک انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ نے مجھے وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کا پیغام بھجوایا اور کہا گیا کہ اگر استعفیٰ نہیں دیتے تو طویل رخصت پر چلے جاؤ‘ ڈکٹیٹر کو عدالتی کٹہرے میں لانا آسان کام نہیں‘ قانون و انصاف کے سارے ہتھیار صرف اہل سیاست کے لئے بنے ہیں‘ ہائی جیکر‘ سسلین مافیا‘ گاڈ فادر، وطن دشمن یا غدار کے القابات سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ میں پاکستان کا بیٹا ہوں اور اس مٹی کا ایک ایک ذرہ مجھے اپنی جان سے بھی پیارا ہے‘ مجھے کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں‘ ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے بدلے 5ارب ڈالر کی پیشکش ہوئی جسے مسترد کیا‘ احتساب عدالت میں استغاثہ میرے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت پیش کرسکا نہ کوئی الزام ثابت ہوا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ میں پانامہ پیپرز کی بنیاد پر بنائے گئے کھوکھلے ریفرنسز کی لمبی داستان کو ایک طرف رکھتے ہوئے مختصراً یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ مجھے ان مقدمات میں الجھانے کا حقیقی پس منظر کیا ہی ان مقدموں‘ ان ریفرنسز‘ میری نااہلی اور پارٹی صدارت سے فراغت کے اسباب و محرکات کو میں ہی نہیں پاکستانی قوم بھی اچھی طرح جانتی ہے اور مقدمات کا کھیل کھیلنے والے بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرے نامہ اعمال کے اصل جرائم کیا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 12اکتوبر 1999ء کو پرویز مشرف نامی جرنیل نے آئین سے بغاوت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ جما لیا۔ ہر دور کے آمروں کو خوش آمدید کہنے والے منصفوں نے آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا اور اس کے ہاتھ پر بیت کرلی۔ 8سال بعد 3نومبر 2007 کو اس نے ایک بار پھر آئین توڑا‘ ایمرجنسی کے نام پر ایک بار پھر مارشل لاء نافذ کیا اور چیف جسٹس آف پاکستان سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ساٹھ کے لگ بھگ جج صاحبان کو اپنے گھروں میں قید کردیا۔
دنیا کے کسی بھی ملک میں اس طرح کی شرمناک واردات کی نظیر شاید ہی ملتی ہو۔ نواز شریف نے کہا کہ ایک جمہوری جماعت کی حیثیت سے مسلم لیگ (ن) نے مشرف کے غیر آئینی اقدامات کے بارے میں ایک واضح موقف اپنایا۔ 2013 کی انتخابی مہم میں اپنا یہ موقف عوام کے سامنے رکھتے ہوئے ہم نے واضح طور پر کہا کہ حکومت قائم ہونے کی صورت یں آئین پاکستان کے آرٹیکل 6 کی روشنی میں مشرف پر ہائی ٹریزن کا مقدمہ قائم کیا جائے گا۔عوام نے ہمارے موقف کی تائید کی۔ حکومت قائم ہونے کے بعد توانائی کے بحران اور دہشت گردی پر قابو پانے کی اولین ترجیحات کے ساتھ میری حکومت نے پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کے لئے وکلاء سے مشاورت کا آغاز کیا۔ مجھے مشورہ دیا گیا کہ اس بھاری پتھر کو اٹھانے کا ارادہ ترک کردوں۔ مجھے ایسے پیغامات بھی ملے کہ مشرف پر مقدمہ قائم کرنے سے اس کا تو شاید کچھ نہ بگڑے مگر میرے لئے بہت مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔نواز شریف نے کہا کہ میں اپنے اقتدار میں اپنی ذات کو خطرے میں ڈال کر کیوں بضد تھا کہ ایک ڈکٹیٹر کو اپنے کئے کی سزا ضرور ملنی چاہئے۔ صرف اس لئے کہ آمریتوں نے پاکستان کے وجود پر گہرے زخم لگائے ہیں۔ آئین شکنی یا اقتدار پر قبضے کا فیصلہ ایک یا دو تین جرنیل کرتے ہیں اقتدار کی لذتیں بھی صرف مٹھی بھر جرنیلوں کے حصے میں آتی ہیں لیکن اس کی قیمت مسلح افواج کے پورے ادارے کو ادا کرنی پڑتی ہے۔
میں اپنی مسلح افواج کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ فوج کی کمزوری کا مطلب ملکی دفاع کی کمزور ہے۔ قابل تحسین ہیں ہمارے وہ بہادر سپوت جو مادر وطن کے دفاع کے لئے ہر وقت سینہ سپر رہتے اور وقت آنے پر اس پاک سرزمین کے لئے اپنے خون کا نذرانہ تک پیش کردیتے ہیں۔ اس فوج کی اصل آبرو بہادر ماؤں کے وہی فرزند ہیں جو اقتدار کی بارگاہوں کے بجائے سرحدی مورچوں میں بیٹھتے اور حکمرانی کی لذتیں سمیٹنے کے بجائے ہمارے کل کے لئے اپنا آج قربان کردیتے ہیں۔
نواز شریف نے آج جو پریس کانفرنس کی ہے اُس میں نواز شریف نے ممبئی حملے کے تناظر میں جو بیان دیا تھا اُس بیانیے کو وطن سے محبت کے بیانیے کے فیکٹر کے ساتھ ٹھندا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ پاکستان پر رحم کرئے۔