امریکا ہماری ملکی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کررہا ہے، چین

20

بیجنگ: چینی وزراتِ دفاع نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا نے متنازعہ جزائر جنوبی بحیرہ چین کے قریب جنگی بحری جہاز بھیج کر ہماری ملکی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چینی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ امریکا نے متازع جزائر جنوبی بحیرہ چین کے قریب  2 جنگی بحری جہاز بھیج کر چین کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ بیان میں واضح کیاگیا ہے کہ امریکی بحری جہازوں نے جنوبی بحیرہ چین کے چار مقامات پر نقل و حرکت کی ہے جس میں ووڈی جزیرہ بھی شامل ہے جہاں  چین نے میزائل نصب کر رکھے ہیں۔

چین کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ جنوبی بحیرۂ چین میں امریکی نقل وحرکت کو روکنے اور امریکا کو خبردار کرنے کے لئے ملکی فضائیہ کے بمبار طیاروں کو پہلی بار جنوبی بحیرہ چین میں بھجوایا ہے جس میں دور تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل بمبار H-6K بھی  شامل ہے۔

دوسری جانب بحرالکاہل میں امریکی بحری بیڑے کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ اس علاقے میں نقل و حرکت کی آزادی کے حوالے سے معمول کی فوجی مشقیں کی جاتی ہیں اور آئندہ بھی ان کو جاری رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ جنوبی بحیرہ چین کا سمندر اہم تجارتی گزرگاہ ہے اور اس پر 6 ممالک اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہیں جس میں چین بھی شامل ہے۔ چین پر الزام ہے کہ وہ اس کے وسیع حصے پر اپنے حق کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے وہاں فوجی نقل و حرکت کرتا ہے۔  جب کہ چین بھی متعدد بارمتنازع جزائر کے قریب امریکی بحری جہازوں کی موجودگی کے واقعات پر اپنا شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے سنگین سیاسی اور فوجی اشتعال انگیزی قرار دے چکا ہے۔