ن لیگی 5 سال؛ قرضے 31 ارب ڈالر بلند، 105 ارب کا تجارتی خسارہ

26

ن لیگ کے دور حکومت میں پاکستان کی معیشت عدم استحکام کا شکار رہی، غیرملکی قرضوں کی مالیت میں 50فیصد ریکارڈ اضافہ ہوگیا جس کے بعد غیرملکی قرضوں کی مجموعی مالیت 91ارب 80کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق معاشی عدم استحکام کا بوجھ آنے والے حکومت کو اٹھانا پڑے گا۔ روپے کی قدر میں مزید کمی متوقع ہے۔ درآمدات اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے قرضوں پر انحصار بڑھے گا۔ آنے والی حکومت کو برآمدا ت میں اضافہ اور غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے پالیسیوں کوسازگار بنانا ہوگا۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ن لیگ کی حکومت کے آغاز پر غیر ملکی قرضوں اور واجبات کی مالیت 60 ارب 90 کروڑ ڈالر تھی جو مارچ 2018کے اختتام تک 91ارب 80کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح اپنی مدت پوری کرنے والی ن لیگ کی حکومت کے دور میں غیرملکی قرضوں کے بوجھ میں 31ارب ڈالر کے لگ بھگ اضافہ ہوا جو پاکستان کی معاشی تاریخ میں کسی بھی ایک حکومت کے دور میں غیرملکی قرضوں میں اضافے کا ایک نیا ریکارڈہے۔

ن لیگ کی حکومت میں بے تحاشہ درآمدات کا سلسلہ جاری رہا اور برآمدات میں خاطرخواہ اضافہ نہ ہوسکا جس کی وجہ سے توازن ادائیگی بھی بری طرح خراب رہا اور زرمبادلہ کے ذخائر کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

ن لیگ کی حکومت کے آغاز پر زرمبادلہ کے ذخائر کی مجموعی مالیت 11ارب ڈالر تھی جس میں سرکاری ذخائر کی مالیت 6 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر کی مالیت 5ارب ڈالر تھی حکومت کی جانب سے انٹرنیشنل مارکیٹ میں بانڈز کی نیلامی کے ذریعے حاصل کردہ مہنگے قرضوں سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج اضافہ ہوا اور اکتوبر 2016میں زرمبادلہ کے ذخائر 24ارب ڈالر کی تاریخی بلند سطح تک پہنچ گئے تاہم غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی، غیرملکی قرضوں کی ادائیگی، برآمدات میں تنزلی اور درآمدات میں غیرمعمولی اضافے کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ کا شکار رہے اور مئی 2018کے وسط تک 7ارب 30کروڑ ڈالر کمی کے بعد مجموعی ذخائر 16ارب 65کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئے جن میں سرکاری ذخائر کی مالیت 10ارب 32کروڑ ڈالر اور کمرشل بینکوں کے ذخائر 6ارب 33کروڑ ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔

ن لیگ کے دور حکومت میں پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاروں نے 16ارب 32کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی تاہم اس میں سے براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 9ارب 97کروڑ ڈالر رہی۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں غیرملکی سرمایہ کاری کی مالیت 9ارب ڈالر رہی تھی۔ ن لیگ کے دورحکومت میں پاکستان کو بیرونی تجارت میں 105ارب ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ ن لیگ کی حکومت میں شامل معاشی ماہرین برآمدات بڑھانے میں بری طرح ناکام رہے جس کے بنیادی اسباب میں توانائی کا بحران، بلند پیداواری لاگت اور پاکستانی برآمدی شعبے کی مسابقتی صلاحیت میں کمی جیسے عوامل شامل ہیں۔

ن لیگ کے دور حکومت میں روپے کی ڈالر کے مقابلے میں قدر میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ دور حکومت کے آغاز پر روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر 98 روپے 55 پیسے تھی جو حکومت کی مدت کے اختتام پر 118 روپے سے تجاوز کرگئی، اس طرح 4 سال 10 ماہ کے عرصے میں روپے کی قدر 20فیصد تک کم ہوگئی۔