نیکی کی راہ

105

تحریر۔۔۔ زکیر احمد بھٹی
بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اس پاک ماہ رمضان المبارک میں کسی روزے دار کا روزہ افطار کروایا اس نے اپنے گناہوں اور دوزخ سے نجات پانے کا سبب بنایا روزے دار کو چاہیے ایک گھونٹ پانی اور ایک کجھور ہی کیوں نا کھلائی ہواس میں کوئی شک نہیں کہ روزہ روحانی عمل بھی ہے روحانی اس طرح سے کہ عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جانے سے ہماری روح پاک ہوتی ہے اور ہمیں اپنے اندر جو سکون محسوس ہوتا ہے وہ ہمارے بیان سے باہر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جانے سے ہماری زندگی کی پریشانیاں اور بہت سارے گناہ ختم ہو جاتے ہے بہت سی الجھنوں سے ہمیں نجات مل جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو رمضان المبارک میں بھی خاص رعایت دے رکھی ہے جب انسان بیمار ہوتا ہے یا سفر میں ہوتا ہے تو روزہ قضاء کرکے باقی کے دنوں میں وہ چھوڑے ہوئے روزے کسی بھی وقت رکھ سکتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’یہ ایسا مہینہ ہے جس کا پہلا عشرہ رحمت درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے ‘‘ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے کہ ’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت کی واضح اور حق و باطل سے جدا کرنے والی دلیلیں ہیں پھر تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے تو اسے چاہئے کہ روزے رکھے‘‘آیت نمبر185سورۃ البقرہ۔ایک حدیث میں ہے کہ ’’ رسولؐاللہ نے فرمایا جن آدمیوں نے ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے رکھے اس کے پہلے کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے‘‘ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ’’ رسولؐ اللہ نے فرمایااللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیونکہ روزہ میرے لیے ہے اورمیں ہی اس کی جزا دوں گا‘‘۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ’’ رسولؐاللہ نے فرمایا رمضان میں اللہ کی طرف سے ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو اس رات کی بھلائی سے محروم رہا وہ بس محروم ہی رہ گیا‘‘۔
آجکل ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے پاس ہر چیز ہو جس سے اس کی زندگی اچھی گزرے ہر کوئی دیکھ کر کہے کہ یہ انسان کتنا خوش قسمت ہے اس کی زندگی ہر طرح سے اچھی ہے اتنی سی تعریف سننے کے لیے ہر انسان بے قرار رہتا ہے مگر سوچتا نہیں انسان کما تو لیتا ہے ہر طرح سے مگر خرچ وہی کرتا ہے جہاں اس کی تعریف ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے ہر دن ہی ہمارے لئے قیمتی رکھا ہے مگر ان دنوں میں جمعہ مبارک اور خاص طور پر ماہ رمضان جس میں ہم ہیں کہ ہم نے روزہ رکھ لیا اور بھوکے پیٹ رہ کر بہت ثواب کما لیا اور اپنے نزدیک کے رشتے داروں کو روزہ افطار کروا کر بہت ثواب کما لیا اصلی ثواب تو کسی غریب کی مدد کرنا ہے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا ہے کسی غریب کا احساس کرنا ہے کسی بے سہارا کو سہارا دینا ہے ہمیں چاہے خاص طور پر کہ ہم رمضان میں اپنے آس پاس کے لوگوں کا بھی خیال رکھے اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے تو ہمیں اللہ تعالیٰ کی رہ میں خرچ بھی کرنا چاہیے جب ہم اللہ تعالیٰ کی رہ میں خرچ کریں گے ہمیں چاہیے کہ مستحق افراد کی سحری اور افطاری کا خاص خیال رکھیں ان کی پریشانیوں کو خوشیوں میں بدل دیں جب ان کو خوشیاں ملی گی تو ان کی زبان سے جو دعائیں نکلے گی وہ ہماری بخشش کا سبب بنے گی اللہ ہم سب کو نیکی کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین