وہ کون سا درخت ہے جسے نبی کریم ﷺ نے مسلمان مردوں کی طرح قرار دیا

32

 

کھجوروں کی ہر قسم انسانی صحت اور توانائی سے لبریز ہوتی ہے . انہیں کئی امراض میں استعمال کیا جاتا ہے. عجوہ کھجور تو امراض قلب میں مستعمل ہے اور اس پر رسول اللہ ﷺ کی سنت و حکمت کی مہر حق ثبت ہے کہ یہ دل کے عوراض سے بچاتی ہے .بلاشبہ طب نبویﷺ علم و حکمت کا خزانہ ہے .اللہ کریم نے کھجور کے ساتھ ساتھ اسکے درخت کے گودے میں بھی غیر معمولی شفا رکھی ہے.صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے’’ہم لوگ رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ صمغ کھجور آپکے پاس لایا گیا، آپﷺ نے فرمایا درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے جو مسلمان آدمی کی طرح ہے جس پر خزاں کبھی نہیں آتی اور اس کے پتے کبھی جھڑ کر نہیں گرتے‘‘. جمار کھجور کا گابھا ہوتا ہے .یہ کھجور کے تنے کا اندرونی نرم حصہ ہے ،عربی میں اسکو قلب النخل کہا جاتا ہے .یہ کھانے میں بہت لذیذہے. صمغ کھجور کا گودا (GUM) ہی ہے جو زخموں کومندمل کرتا ‘دست روکتا ، صفراء کے غلبہ کو ختم کرتا ‘ ہیجان دم پیدا کرتا مگر دیر ہضم ہے. اس کے درخت کا ہر حصہ مفید ہے. اسی وجہ سے رسول اللہﷺ نے مرد مومن سے اس کی تشبیہ دی . جدید تحقیقات کے مطابق جمار میں پوٹاشیم کی کافی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے جو بلڈ پریشر کے مریضوں کے علاوہ بدن کے ٹشوز کی مرمت میں کام آتا ہے جبکہ اس میں وٹامن سی کی خاصی مقدار ہے.عربوں کے علاوہ بھی دیگر ممالک میں جمار کو تجارتی پیمانے پر فروخت کیا جاتا اور نباتات سے علاج کرنے والوں میں یہ معروف ہوچکا ہے.عربوں کے دسترخوان پر اسکو سلاد کی طرح پیش کیا جاتا ہے.وہ سنت نبویﷺ کے تحت اسکو اپنی صحت کے لئے استعمال کرتے ہیں.