آ خر کب تک ؟

19

تحریر ۔۔۔ شیخ توصیف حسین
ہر انسان یہ بخوبی جانتا ہے کہ ہر انسان کی زندگی خواہ وہ امیر ہو یا غریب بادشاہ ہو یا پھر گداگر پانی کے بلبلے کی مانند ہے یہ جاننے کے باوجود لاتعداد انسان جس میں تاجرز ڈاکٹرز علمائے دین بالخصوص سیاست دان سر فہرست ہیں اپنی عاقبت کے خراب ہونے کی پرواہ نہ کیے بغیر دولت کے پجاری بن کر ملک وقوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف عمل ہیں جن کے اس گھناؤنے اقدام کو دیکھ کر غیر ملکی حاکمین ایک عام آ دمی سے لیکر ہمارے ملک کے وزیر اعظم کی تذلیل کرنے میں مصروف عمل ہیں جس کا واضح ثبوت ہمارے ملک کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ہے بہرحال یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا ہوا یوں کہ ایک دفعہ ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے ایک جرنلسٹ نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے تعلقات کی بہتری اور بالخصوص مسائل کے حل کیلئے حکومت پاکستان سے بات کیوں نہیں کرتے آپس میں لڑنے اور جھگڑنے سے کیا تصفیہ طلب مسائل حل ہو جائیں گے آپ نے اگر در پیش مسائل کا حل ڈھونڈنا ہے تو آپس میں ایک میز پر بیٹھ کر حل نکالو اپنی کہو اور اُن کی سنو تو درپیش مسائل کا حل نکل آئے گا اس بات کو سننے کے بعد پنڈت مہاراج نے جر نلسٹ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں حکومت پا کستان کے کس حاکم سے بات کروں جو نفسا نفسی کا شکار ہو کر حرام و حلال کی تمیز کھو بیٹھے ہیں اور ویسے بھی میں اتنے پا جا مے نہیں بدلتا جتنے پاکستان کے حاکم تبدیل ہو جاتے ہیں کیا عکاسی کی تھی پنڈت مہاراج نے ہمارے سیاسی شب و روز کی اگر آپ حقیقت کے آ ئینے میں دیکھے تو اُن کے کہے ہوئے وہ الفاظ آج بھی ہمارے ملک میں حقیقت کا روپ دھارے ہوئے ہیں آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اس ملک کے تمام سیاسی پارٹیوں کے قائدین جو الیکشن کے دوران بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں اقتدار کی کرسی پر بر جمان ہوتے ہی ملک وقوم کے اربوں کھربوں روپے از خود ہڑپ کر جاتے ہیں جبکہ دوسری جانب اس ملک کی غریب عوام عدل و انصاف اور دو وقت کی روٹی کے حصول کی خا طر در بدر کی ٹھوکریں کھاتی ہوئی نظر آتی ہے یہی کافی نہیں اس ملک کے مفاد پرست سیاست دان قرضوں کی مد میں لیے ہوئے اربوں کھربوں روپے معاف کروا لیتے ہیں جبکہ دوسری جانب اس ملک کا غریب رہائشی ماہانہ بجلی کا بل بر وقت ادا نہیں کرتا تو واپڈا حکام کے کارندے اُس کا میٹر اتار کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں یہاں یہ امر قابل ذکر ہے اور اگر ان حاکمین کے کالے کرتوتوں کا محاسبہ ہمارے ملک کی عظیم سے عظیم تر اعلی عدلیہ کے چیف جسٹس صاحبان کرے تو یہی حاکمین اپنے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کیلئے جھوٹ پر مبنی اور بے بنیاد الزام تراشی کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ ہمیں کیوں نکالا یہاں افسوس ناک پہلو تو یہ ہے کہ ان نکالے گئے حاکمین سے آج تک کسی نے نہیں پو چھا کہ کیا تمھارے دور اقتدار میں ملک کے تمام ادارے کرپشن سے پاک تھے عام شہری کو عدل و انصاف مل رہا تھا کیا آپ کے دور اقتدار میں بے روزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ ہو گیا تھا کیا آپ کے دور اقتدار میں ملک کے قرضوں میں اضافہ نہیں ہوا تھا کیا آپ کے دور اقتدار میں آپ کا خاندان انھیں ہسپتالوں میں علاج کرواتا تھا جہاں پر ایک عام آ دمی اپنا علاج کرواتا تھا کیا آپ کے دور اقتدار میں جرائم میں کمی واقع ہو گئی تھی کیا آپ کے دور اقتدار میں غریب افراد کے بچے اور بچیاں تعلیم جیسے زیور سے آ راستہ ہو کر رہ گئے تھے کیا آپ کے دور اقتدار میں ایک عام آ دمی خوشحال زندگی گزار رہا تھا کیا آپ کے دور اقتدار میں یہ ملک تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن تھا کیا آپ کے دور اقتدار میں آپ کے حواری ممبران صوبائی و وفاقی لوٹ مار کا بازار گرم کیے ہوئے نہیں تھے اور اگر تھے تو آپ نے کتنے کا محاسبہ کر کے انھیں کیفر کردار تک پہنچایا تھا کیا آپ کے دور اقتدار میں بااثر قبضہ مافیا کا خاتمہ ہو گیا تھا کیا آپ کے دور اقتدار میں ریلوے کا نظام بہتر تھا کیا آپ کے دور اقتدار میں بزرگوں کو وہ ہر ایک سہولت میسر تھی جو غیر ملکی بزرگوں کو ہر سہولت میسر ہے کیا آپ کے دور اقتدار میں تاجرز جو ذخیرہ اندوزی کر کے بعد ازاں مذکورہ ذخیرہ منہ مانگے داموں فروخت کرتے تھے کا خاتمہ ہو گیا تھا قصہ مختصر یہ وہی حاکمین ہیں جو 1947سے لیکر آج تک ہر الیکشن میں اس ملک کو جنت کا ٹکڑا بنانے کا پلان عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں اور عوام بھی ان کے جھوٹے دعووں پر یقین رکھتے ہوئے خوابوں اور خیالوں میں پیاس لگنے پر ان حاکمین کی طرف سے نکالی گئی دودھ کی نہر میں جگ بھر دودھ نکال کر بغیر گلاسوں کے پینا شروع کر دیتی ہے بس وہ اسی طرح اپنی آ نکھوں کے سامنے ایک حسین دنیا دیکھنا شروع کر دیتی ہے بس وہ اسی طرح وہ اپنے خوابوں اور خیالوں میں اپنے شہر کے اُن علاقوں میں اپنا اپنا پلاٹ منتخب کرنا شروع کر دیتی ہے جہاں پر سونے کی بنی ہوئی سڑکیں اور چاندی کے بنے ہوئے فٹ پاتھ نظر آتے ہیں جبکہ اُن کے بچے شو فر ڈریون کار میں بیٹھ کر ایچی سن کالج کو جاتے ہوئے نظر آتے ہیں عوام کی اس خواب خرگوش سے آ نکھیں تب کھلتی ہیں جبکہ اُن کے معصوم بچوں کا نام سکول کی فیس بر وقت ادائیگی کے نہ ہونے کے سبب کٹ چکا ہوتا ہے جبکہ بیوی دُہائی دینے میں مصروف ہوتی ہے کہ گھر میں راشن نہ ہونے کے سبب بچے بھوک سے بلک رہے ہیں جبکہ بوڑھے والدین اپنی بیماری کا بر وقت علاج نہ ہونے کا رونا رو رہے ہوتے ہیں جبکہ دوسری جانب سہانے سپنے دکھانے والے سیاسی لیڈر اقتدار کی کرسی پر بر جمان ہوتے ہی پاکستان کو جنت کا ٹکڑا بنانے کے بجائے سب سے پہلے اپنی جنت یعنی کہ سو ئزر لینڈ میں اپنا اکا ؤنٹ کھولتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ ملک وقوم کی لوٹی ہوئی رقوم کو مذکورہ بنکوں میں جمع کروا کر پاکستانی عوام کا مذاق اُڑاتے ہیں اور اس کے بعد وہی سائیڈ ایریا میں جو کہ امرا کا علاقہ ہے پہلے بے نام پلاٹ خرید کر اُس پر عالیشان کوٹھی تعمیر کرتے ہیں اور بعد ازاں اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر امریکن قومیت یا گرین کارڈ حاصل کر کے امریکہ کو ہی اپنا ملک تصور کرنا شروع کر دیتے ہیں پاکستانی میڈیا گواہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد جتنے بھی حاکمین آئے انہوں نے بڑے دلائل کے ساتھ عوام کو باور کرانے کی یہ کوشش کی کہ میرے آنے سے پہلے جتنے بھی حاکمین نے حکومت کی وہ چور اور ڈاکو تھے جن کی لوٹ مار کے نتیجہ میں آج ملکی خزانے خالی پڑے ہیں ملک کا اللہ ہی حافظ ہے ایسے گھسے پٹے ان حاکمین کے بیانات اخبارات میں نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود تاحال جاری ہیں افسوس ناک پہلو تو یہ ہے کہ کسی حاکم کو یہ تو فیق حاصل نہیں ہوئی کہ وہ سابقہ حکمرانوں کی عصمت دری کرنے کے بجائے عوام کو اپنے پروگرام سے آگاہ کرتے ہوئے کہے کہ جو ہونا تھا سو ہو گیا لیکن میں اب ملک وقوم کی بقا اور خو شحالی کیلئے بہتر سے بہتر اقدامات کروں گا میں تہہ دل سے افراد کے بجائے ملک بھر کے تمام اداروں کو مضبوط کروں گا میں ذاتی پسند کے بجائے اصولوں کی پاسداری کروں گا میں عدل و انصاف کے حصول کی خا طر ہر ادارے کو آ زادی سے کام کرنے کا موقع فراہم کروں گا میں اپنے کرپٹ حواری سیاست دانوں سے اس طرح نفرت کروں گا کہ جس طرح ہندو بر ہمن قوم اچھوتوں سے کرتی ہے لیکن افسوس صد افسوس کہ یہاں پر جتنے بھی لیڈر اقتدار کی کرسی پر بر جمان ہوئے لوٹ مار ظلم و ستم اور ناانصافیوں کی تاریخ رقم کر کے ملک وقوم کو قرضوں کی زنجیروں میں جکڑ کر امریکہ اور دوبئی جیسے ملکوں میں راہ فرار اختیار کر گئے لہذا اب پاکستانی عوام کو بھی ہوش کے ناخن لیتے ہوئے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جو حاکمین نصف صدی کا عرصہ گزر جانے کے باوجود تاحال ہمیں اپنے بنیادی حقوق سے محروم رکھے ہوئے ہیں اُن کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ کرنا گناہ کبیرہ سمجھے اور ویسے بھی آ زمائے کو آزمانہ بیوقوفی کی علامت ہے آ خر میں بس یہی کہوں گا
کہ اب جس کا جی چاہے پائے روشنی
ہم نے دل جلا کر سرعام رکھ دیا