المصطفے ویلفیئر سوسائٹی کی خدمات

23

المصطفے ویلفیئر سوسائٹی اور المصطفے ویلفیئر ٹرسٹ دُنیا بھر میں بلا امتیازرنگ و نسل ومذہب فلاحی کاموں میں مصروف عمل
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی
نہایت محترم بھائی جناب محمد نواز کھرل، جن کے ساتھ انجمن طلبہء اسلام کے مشن کے لیے زندگی بھر تگ و تاز کی اُن کا گرامی نامہ موصول ہوا اپنھوں نے ارشاد فرمایا کہ برادرم میاں محمد اشرف عاصمی صاحب!
السلام علیکم! امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔۔۔ میں اخبارات میں آپ کی معرکہ آرائیاں پڑھتا رہتا ہوں اور آپ کو ہمہ وقت متحرک دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔۔۔ بھائی جان میں آپ کو المصطفے ویلفیئر سوسائٹی اور المصطفے ویلفیئر ٹرسٹ کی مشترکہ رپورٹ بھیج رہا ہوں۔ میری آپ سے گذارش ہے کہ آپ رمضان المبارک کے دوران ” المصطفے ” کے حوالے سے ایک کالم ضرور لکھیں۔۔ میری اس گزارش میں حاجی حنیف طیب صاحب اور عبدالرزاق ساجد صاحب کی گذارش بھی شامل کر لیں۔ محمد نواز کھرل۔ قارئین اکرام جناب حاجی حنیف طیب اور عبدالرزاق ساجد دونوں انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی صدر ہیں۔ آئیے اِن دونوں احباب کی مشترکہ فلاحی کوششوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
’’المصطفے‘‘ کی فلاحی خدمات کا مختصر جائزہ :غربت کے اندھیرے اور محرومی و مفلسی کے سائے میں زندگی گزارنے والے مفلوک الحال خاک نشینوں کی بلا امتیاز رنگ و نسل اور مذہب بیلوث خدمت کرنے والی عالمی فلاحی و رفاہی تنظیم ’’المصطفے ویلفیئر سوسائٹی‘‘ 1983 میں کراچی میں قائم کی گئی۔۔۔۔ اس وقت ’’المصطفے‘‘کا نیٹ ورک پاکستان کے علاوہ کشمیر،برطانیہ، بنگلہ دیش، برما، شام، فلسطین، گیمبیا، صومالیہ، سوڈان، کینیا، اتھوپیا، نائیجیریا سمیت 22 ممالک تک پھیل چکا ہے۔ اور اس عالمگیر منظم اور فعال نیٹ ورک کے ذریعے خدمت انسانیت کا مشن جوش و جذبے اور خلوص و دیانت کے ساتھ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ نیک نام سماجی، سیاسی و دینی شخصیت الحاج محمد حنیف طیب اس تنظیم کے بانی اور سرپرست اعلی ہیں۔۔۔۔ الحاج محمد حنیف طیب پاکستان وفاقی وزیر کی حیثیت سے بہترین خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ پاکستان اور کشمیر میں 2005ء کے زلزلہ اور 2010۔2011ء کے سیلاب اور قحط سالی کے متاثرین کی جس لگن اور جذبے کے ساتھ المصطفے نے خدمت کی اس کا اعتراف اقوام متحدہ کے اس وقت کے سیکریٹری جنرل کو فی عنان، پرنس کریم آغا خان اور پاکستان و آزاد کشمیر کے صدر اور وزیر اعظم نے بھی کیا۔
کراچی میں ’’المصطفے‘‘کے فلاحی منصوبوں پر ایک نظر :کراچی میں المصطفے کا بڑا ہسپتال ’’المصطفے میڈیکل سنٹر‘‘کے نام سے گلشن اقبال میں قائم ہے۔ اس ہسپتال میں دل، گردے، شوگر، ہیپاٹائٹس، تھیلیسیمیا، آئی، سمیت تمام امراض کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔المصطفے کے اس ہسپتال میں غریب افراد کے ہر طرح کے ٹیسٹ فری کئے جاتے ہیں اور ادویات بھی مفت مہیا کی جا رہی ہیں۔اس ہسپتال میں ہر روز کم و بیش ایک ہزار مریض استفادہ کرتے ہیں۔ہسپتال میں دو سو افراد کا طبی عملہ خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ پچھلے تیس سالوں سے طبی خدمات سرانجام دینے والے اس ہسپتال سے اب تک لاکھوں افراد ایک روپیہ خرچ کئے بغیر علاج کروا کر شفایاب ہو چکے ہیں۔۔۔۔ اس ہسپتال میں ڈائیلائسز کا شعبہ 1998 سے کام کر رہا ہے جس کے ذریعے اب تک 112000 سے زائد ڈائیلسز کئے جا چکے ہیں۔۔۔ تھیلیسیمیا کا شعبہ 2008 میں قائم ہوا اور اب تک 18911 بچوں کے اضافی فولاد کا اخراج اور 6821 بچوں کے خون کی تبدیلی کی گئی ہے۔ جبکہ 70 بچوں کا مکمل مفت علاج کیا گیا ہے۔۔۔۔۔کراچی میں المصطفے کے گلشن اقبال والے مرکزی اور بڑے ہسپتال کے علاوہ بھی شاہ فیصل کالونی، او رنگی ٹاؤن، ملیر، گلشن اقبال بلاک 10اور کو رنگی کے علاوہ مختلف مقامات پر 8 میڈیکل سنٹر لاچار اور بیمار افراد کو علاج معالجے کی مفت سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ صرف کراچی میں المصطفے کے پاس 130 ایمبولینسیں ہیں۔۔۔۔ کراچی میں المصطفے کی 12 میت گاڑیاں بھی خدمت میں مصروف ہیں۔۔۔۔۔ پچھلے سال المصطفے کی طرف سے کراچی کے مختلف علاقوں میں 120 فری میڈیکل کیمپ لگائے گئے جن سے ہزاروں افراد نے استفادہ کیا۔۔۔۔۔۔۔ کراچی میں المصطفے کے 15 سکولز میں غریب طلباء و طالبات کو مفت تعلیم اور کتابیں فراہم کی جارہی ہیں۔۔۔۔۔
یتیموں کی کفالت :المصطفے نے 2005 کے زلزلہ میں یتیم ہونے والے بچوں کی کفالت کے پروگرام آغاز کیا اور زلزلے کے نتیجے میں یتیم ہو جانے والے 300بچوں کی کفالت اپنے ذمے لیکر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ان کی رہائش کا بندوبست کرکے ان کی تعلیم،لباس اور دوسری تمام ضروریات کو پورا کیااور اب یہ بچے تعلیم مکمل کرکے با روزگار ہو چکے ہیں۔المصطفے کا یتیموں کی کفالت کا اب یہ شعبہ بہت وسعت اختیار کر چکا ہے۔۔۔۔ اس وقت کراچی کے علاقے کورنگی میں المصطفے کا آرفن ہاؤس ’’میرا گھر‘‘کے نام سے قائم ہو چکا ہے، بہترین سہولتوں سے آراستہ اس آرفن ہاؤس میں 130 یتیم بچے گھر جیسے پرسکون میں پرورش پا رہے ہیں اور ان کی تعلیم، خوراک اور لباس کی تمام ضرورتیں المصطفے پوری کر رہی ہے۔۔۔۔ اسی طرح آذاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سے گیار ہ کلو میٹر دور دریائے نیلم کے کنارے آباد گاؤں کہوڑی میں بھی المصطفے کا آرفن ہاؤس چل رہا ہے جس میں غریب بچیوں کو مختلف ہنر سکھانے کے لئے انڈسٹریل ہوم بھی بنایا گیا ہے۔ آذاد کشمیر کے اس آرفن ہاؤس کی نگرانی آذاد کشمیر کے سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن اور ریٹائرڈ سیشن جج جناب حاجی محمد یونس کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔
اولڈ ہومز :المصطفے نے کراچی کے گلستان جوہر بلاک 15 میں بے سہارا اور بیوہ خواتین کے لئے ’’گوشہ سیدہ فاطمتہ‘‘کے نام سے سنٹر بنایا ہے۔۔۔۔ اسی طرح اپنی اولاد کی طرف سے نظرانداز کئے جانے والے ضعیف العمر بوڑھوں کے لئے ’’گوشہ سیدنا امیر حمزہ‘‘ کے نام سے سنٹر کام کر رہا ہے۔ ان سنٹرز میں مقیم خواتین اور مردوں کو مفت رہائش، خوراک اور لباس کے ساتھ ساتھ تفریح کی سہولتیں بھی مہیا کی جاتی ہیں۔۔۔
اجتماعی شادیاں :
المصطفے کی طرف سے پچھلے کئی برس سے مظفرآباد، کوٹلی (آذاد کشمیر) فیصل آباد، گوجرانوالہ اور کامونکی میں ہر سال غریب بچیوں کی اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ ان اجتماعی شادیوں میں المصطفے کی طرف سے غریب خواتین کو ایک لاکھ مالیت کے جہیز کے علاوہ باراتوں کو کھانا بھی کھلایا جاتا ہے۔ المصطفے کے اجتماعی شادیوں کے اس پروجیکٹ کے تحت اب تک ہزاروں غریب، مفلس اور بے سہارا خواتین شادیاں کروا کر اپنے گھروں میں بس چکی ہیں۔
ہونٹ اور تالو کٹے بچوں کے مفت آپریشن :المصطفے، کلیپ ٹرسٹ کے اشتراک سے ہونٹ اور تالو کٹے بچوں کے چہروں کی مسکراہٹ بحال کرنے کا مشن بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس منصوبے کے سربراہ ڈاکٹر غلام قادر فیاض ہونٹ کٹے تالو کٹے کے 30ہزار سے زائد آپریشن کر کے دنیا بھر کے ان چند ڈاکٹروں میں شامل ہو چکے ہیں جنہیں ہونٹ کٹے تالو کٹے بچوں کی پلاسٹک سرجری کے سب سے زیادہ آپریشن کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس منصوبے کے تحت اب تک ہونٹ اور تالو کٹے بچوں کے 8 ہزار آپریشن پلاسٹک سرجری ہسپتال فیصل ٹاؤن لاہورجبکہ 10 ہزار آپریشن مختلف علاقوں میں لگنے والے المصطفے کے فری کیمپوں میں مکمل ہو چکے ہیں۔

غریب خاندانوں میں 800 ٹن چاولوں کی تقسیم :2012ء میں حکومت تائیوان نے المصطفے کے فلاحی کاموں اور حسن کارکردگی سے متاثر ہو کر 200 ٹن (2 لاکھ کلو) چاول غریب خاندانوں میں تقسیم کرنے کے لئے المصطفے کے حوالے کئے۔ اس کے بعد المصطفے کی ڈسٹریبیوشن سے مطمئن ہو کر اگلے سال 400 ٹن چاول بھیجے گئے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اب تک ’’المصطفے‘‘ پاکستان میں اپنے ملک گیر نیٹ ورک کے ذریعے تائیوان سے ملنے والے 800 ٹن چاول 80 ہزار غریب اور ضرورت مند خاندانوں میں تقسیم کر چکا ہے۔
لاہور کا المصطفے میڈیکل سنٹر :لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں المصطفے نے جگہ خرید کر اپنا میڈیکل سنٹر تعمیر کیا ہے۔ یہ سنٹر 1992ء سے علاقے کے مستحق افراد کو علاج معالجے کی مفت سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔جہاں پر روزانہ 100افراد استفادہ کررہے ہیں۔ اس سنٹر میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر خدمات سرانجام دے رہا ہے۔۔۔
مظفرآباد (آذاد کشمیر) کا المصطفے کمپلیکس :
آذادکشمیر کے کیپیٹل سٹی مظفرآباد میں ’’المصطفے کمپلیکس‘‘تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کمپلیکس میں 2005 کے زلزلہ میں معزور ہو جانے والے افراد کے لئے فزوتھراپی سنٹر اور بیوہ خواتین کے لئے ’’انڈسٹریل ہوم‘‘کے علاوہ عوام کو مطالعہ کی سہولت فراہم کرنے کے لئے وسیع لائبریری قائم ہے۔ اسی کمپلیکس میں ہر سال فری آئی کیمپ بھی لگایا جاتا ہے۔ المصطفے کے اس کمپلیکس میں بیوگان کو مختلف ہنر سکھا کر باعزت روزگار کمانے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ یہ کمپلیکس غریب افراد کے لئے کمیونٹی سنٹر بن چکا ہے۔
برطانیہ میں کام کا آغاز:پاکستان میں المصطفے کے ملک گیر نیٹ ورک کے قیام کے بعد اسی فلاحی کام کے تسلسل میں 2006 میں برطانیہ میں المصطفے کے کام کا آغاز ہوا اور الحاج محمد حنیف طیب کے دیرینہ رفیق سفر اور انجمن طلباء اسلام کے مرکزی صدر کی حیثیت سے ایک معروف و مقبول سٹوڈنٹ لیڈر کے طور پر اپنی پہچان بنانے والے عبدالرزاق ساجد کی سربراہی میں برطانیہ میں المصطفے کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ذیل میں ہم المصطفے ویلفیئر ٹرسٹ انٹرنیشنل برطانیہ کی فلاحی و رفاہی خدمات کا ایک مختصر جائزہ پیش کر رہے ہیں۔
روشنی سب کے لئے :المصطفے نے آنکھوں کے 75 ہزار مفت آپریشن مکمل کر لئے۔المصطفے اس وقت دنیا میں آنکھوں کے مفت آپریشن کرنے والی سب سے بڑی چیرٹی بن چکی ہے۔ پچھلے 9 برس میں المصطفے کی طرف سے پاکستان اور دوسرے ملکوں کے پسماندہ علاقوں میں لگائے جانے والے فری آئی کیمپوں میں آنکھوں کے 75 ہزار مفت آپریشن مکمل کر لئے گئے ہیں جبکہ اس سال کے آخر تک ایک لاکھ آئی آپریشن مکمل کرنے کا ہدف پورا کر لیا جائے گا۔ المصطفے سال میں دو بار فری آئی کیمپوں کی مہم چلاتی ہے۔ اس مہم کے دوران پاکستان، بنگلہ دیش، گیمبیا، کینیا سمیت مختلف ممالک کے پسماندہ اور غریب علاقوں میں فری آئی کیمپ لگائے جاتے ہیں۔ ان کیمپوں میں آنکھوں کے معائنے اور سفید موتیا کے آپریشن کے علاوہ مریضوں لینز، ادویات اور عینکیں بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ کیمپوں کے دوران مریضوں اور ان کے لواحقین کو کھانا بھی المصطفے کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے۔ غریب مریضوں کو گھروں سے کیمپ میں لانے اور آپریشن کے بعد واپس گھروں میں پہنچانے کا بندوبست بھی المصطفے کرتی ہے اس طرح وسائل سے محروم غریب افراد ایک روپیہ خرچ کئے بغیر آنکھوں کا آپریشن کروا کر پھر سے دیکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ المصطفے ’’روشنی سب کے لئے‘‘ کے مشن کے تحت اندھے پن کے خلاف مسلسل جہاد کر رہی ہے۔ آنکھوں کی بینائی ختم ہو جانے کی وجہ سے بیروزگاری کا عذاب جھیلنے والے لاکھوں افراد المصطفے کے فری آئی کیمپوں میں علاج کروا کر پھر سے اپنے خاندان اور بچوں کے لئے روٹی روزی کمانے کے قابل ہو چکے ہیں۔ المصطفے کے فری آئی کیمپوں میں امراض چشم کے ماہر ڈاکٹر خدمات سرانجام دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ المصطفے پاکستان میں بڑے پیمانے پر ’’آئی ہسپتال‘‘کے قیام اور موبائل آئی آپریشن تھیٹر کے لئے بھی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔۔۔ المصطفے کے فری آئی کیمپوں کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کیمپوں میں آنے والے مریضوں کے آنکھوں کے آپریشن سے پہلے ان کی ہیپاٹائٹس بی 228سی اور ایڈز کے ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں اور ہیپاٹائٹس یا ایڈز کی تشخصیص کی صورت میں ان مریضوں کو علاج معالجے میں تعاون کیا جاتا ہے۔
برما (میانمار) کے بے گھر روہنگیا مسلمانوں کی امداد :برما کے روہنگیا مسلمان پچھلے کئی سالوں سے برمی فوج کے ظلم کا شکار ہیں۔ ان کی گھر جلا دیئے گئے ہیں۔ بستیاں راکھ کا ڈھیر بنا دی گئی ہیں۔ فصلیں اجاڑ دی گئی ہیں اور ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ برما سے جانیں بچا کر قریبی ملک بنگلہ دیش میں پناہ گزیں ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد آٹھ لاکھ ہو چکی ہے۔ شہریت کے حق سے محروم یہ لٹے پٹے بے گھر روہنگیا مسلمان مہاجرین بنگلہ دیش کے سرحدی علاقے کاکس بازار میں خیموں اور درختوں کے نیچے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں مقیم ہیں۔۔۔ المصطفے 2012 سے مسلسل روہنگیا مسلمانوں کی مشکلات کے ازالے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ المصطفے کے چیئرمین عبدالرزاق ساجد بارہ مرتبہ برما اور بنگلہ دیش پہنچ کر روہنگیا مسلمانوں میں امداد تقسیم کر چکے ہیں۔ اب تک المصطفے روہنگیا مسلمانوں کے امدادی مشن میں ایک ملین خرچ کر چکی ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی برما سے بنگلہ دیش ہجرت کے بعد برطانیہ سے امداد لے کر بنگلہ دیش پہنچنے والی پہلی چیرٹی المصطفے ہے۔ پہلی مرتبہ کاکس بازار بنگلہ دیش جانے والی المصطفے کی ٹیم کی قیادت برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے رکن لارڈ نذیر احمد کر رہے تھے جبکہ چیئرمین المصطفے عبدالرزاق ساجد بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس کے بعد بھی المصطفے کی ٹیم عبدالرزاق ساجد کی سربراہی میں متعدد بار بنگلہ دیش پہنچ کر روہنگیا مسلمانوں میں خوراک، ادویات، کپڑے، خیمے، نقد رقوم، جرسیاں اور دوسرا سامان تقسیم کر چکی ہے۔ المصطفے نے روہنگیا مسلمان مہاجرین کے کیمپوں میں ہر روز بیس ہزار فوڈ بیگز تقسیم کرنے کا مستقل نظام بنا دیا ہے۔ ایک فوڈ بیگ میں کھانے پینے کا وافر سامان موجود ہوتا ہے جس سے ایک خاندان کی دو ماہ کی غذائی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔ اب تک ایک لاکھ خاندانوں تک کھانے پینے کا سامان پہنچایا جا چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔ کھانے کے علاوہ المصطفے کی طرف سے روہنگیا مسلمانوں کے کیمپوں میں واٹر پروجیکٹ بھی مسلسل جاری ہے۔ اس منصوبے کے تحت مہاجرین کو صاف پانی کی فراہمی کے لئے ہزاروں ہینڈ پمپس نصب کئے جا چکے ہیں اور ٹائیلٹس تعمیر کی جا چکی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ المصطفے نے روہنگیا مہاجرین کو علاج معالجے کی مفت سہولتوں کی فراہمی کے لئے مہاجر کیمپوں میں جگہ جگہ میڈیکل سنٹر قائم کر دیئے ہیں۔ ان سنٹرز میں کوآلیفائیڈ ڈاکٹرز، لیڈی ڈاکٹرز اور دوسرا طبی عملہ خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ المصطفے کے میڈیکل کیمپوں میں ادویات بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ چونکہ بنگلہ دیش میں فری آئی کیمپوں کے حوالے سے المصطفے کا نیٹ ورک پہلے سے موجود تھا اس لئے المصطفے کے رضاکاروں نے دربدری کے عذاب سے دوچار روہنگیا مسلمان مہاجرین کی سب سے زیادہ خدمت کی ہے۔
شامی مہاجرین کے لئے المصطفے کی خدمات :سات سال سے خانہ جنگی اور بیرونی مداخلتوں کی آگ میں جلتے ملک شام کے لاکھوں افراد مسلسل بمباری سے تنگ آ کر مختلف ممالک میں مہاجر بن کر پناہ گزیں ہیں۔ یہ لاکھوں شامی مہاجرین بے پناہ مسائل و مشکلات کا شکار ہیں۔ المصطفے 2014 سے شام میں اپنا سیٹ اپ بنا کر کام کر رہی ہے۔ چیئرمین المصطفے عبدالرزاق ساجد خود بھی کئی بار شام جا چکے ہیں۔ المصطفے شام کے اندر جنگ سے متاثرہ افراد کی دادرسی اور شام سے باہر شامی مہاجرین کی امداد کے لئے مسلسل سرگرم عمل ہے۔ اب تک المصطفے مجموعی طور پر شامی مہاجرین کے امدادی مشن پر ایک لاکھ پاؤنڈ خرچ کر چکی ہے جبکہ خدمت کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ مارچ 2018 میں المصطفے کی ٹیم برطانیہ سے امداد لے کر عبدالرزاق ساجد کی قیادت میں ترکی پہنچی اور ترکی کے بارڈر پر واقع شہر آفریں میں قائم کئے گئے شامی مہاجرین کے کیمپوں میں کھانے پینے کے سامان پر مشتمل فوڈ بیگز تقسیم کئے۔ المصطفے کی طرف سے تیار کئے گئے فوڈ بیگ چاول، چینی، گھی، دالوں، بسکٹ، چائے پتی اور دوسری اشیائے خورد و نوش پر مشتمل تھے۔ المصطفے کی ٹیم نے ترکی میں ایک ہفتہ قیام کے دوران مجموعی طور پر 25 ہزار خاندانوں میں فوڈ بیگ تقسیم کئے۔۔۔۔۔ اس سے پہلے المصطفے فرانس کے بارڈر ’’ڈوور‘‘کے علاوہ ہنگری اور آسٹریا میں پناہ گزین شامی مہاجرین میں امدادی اشیائے ضرورت تقسیم کر چکی ہے۔ المصطفے نے یہ عزم کر رکھا ہے کہ بے گھری اور ہجرت کے دکھ جھیلتے شامی مہاجرین کی وطن واپسی تک ان کی خدمت کا مخلصانہ مشن جاری رہے گا۔
غریب طلباء کے لئے حافظ سپانسر شپ پروجیکٹ :المصطفے پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں رہنے والے غریب بچوں کو قرآن حفظ کرانے کا پروجیکٹ بھی کئی برسوں سے چلا رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان میں اوکاڑہ، راولپنڈی، خانیوال، رحیم یار خان، جھنگ، بہاولنگر اور کوئیٹہ کے اضلاع میں 500 بچوں کو قرآن حفظ کروایا جا رہا ہے اور ان بچوں کو کھانا، رہائش اور لباس کے ساتھ ساتھ وظیفہ بھی فراہم کیا جاتا ہے اور قرآن حفظ کروانے والے اساتذہ کی تنخواہیں المصطفے کی طرف سے ادا کی جاتی ہیں۔ حفاظ پروجیکٹ پاکستان کے علاوہ کشمیر، بنگلہ دیش، کینیا، گیمبیا اور صومالیہ میں بھی جاری
ہے۔
پاکستان میں سیلاب زدگان کے لئے گھروں کی تعمیر :پاکستان میں۔۔۔۔ کے دوران آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں بیشمار غریبوں کے گھر ختم ہو گئے تھے۔ آزمائش کے اس موقع پر المصطفے نے پاکستان کے ضلع مظفرگڑھ کی بستی میرن والا اور بیری والا میں پچاس گھر مکمل تعمیر کر کے بے گھر ہو جانے والے غریبوں کے حوالے کئے جبکہ سینکڑوں گھروں کی تعمیر و مرمت کروائی گئی۔
المصطفے کا واٹر پروجیکٹ :المصطفے مختلف ممالک کے غریب علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے واٹر پروجیکٹ بھی کامیابی کے ساتھ چلا رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت اب تک پاکستان، بنگلہ دیش، سوڈان سمیت مختلف خطوں میں ہزاروں واٹر پمپس کی تنصیب اور کنوؤں کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔
مصنوعی اعضا کی فراہمی:المصطفے حادثات اور امراض کی وجہ سے معذور ہو جانے والے افراد کو مصنوعی اعضا کی فراہمی کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے۔ اب تک مختلف ممالک میں سینکڑوں افراد کو مصنوعی بازو، ٹانگیں اور ہاتھ لگائے جا چکے ہیں۔
ہسپتالوں کو طبی آلات کی فراہمی:المصطفے برطانیہ کے ہسپتالوں سے مختلف جدید طبی آلات جمع کر کے غریب ممالک کے خیراتی ہسپتالوں کو بھیجتی ہے۔ اب تک بڑی تعداد میں مختلف امراض کے ٹیسٹوں اور علاج سے متعلقہ طبی آلات کے علاوہ وہیل چیئرز اور ایمبولینسیں پاکستان، کشمیر، بنگلہ دیش، نائیجیریا، اتھوپیا کے خیراتی ہسپتالوں کو فراہم کی جا چکی ہیں۔

تمام مخیر احباب سے گزارش ہے کہ المصطفے کے پراجیکٹ میں آپ تعاون فرمائیں۔ اللہ پک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔