جناح کی تصویر 80 سال بعد یادآئی

64

تحر یر۔۔۔ رفا قت حسین
بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے جان بوجھ کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لائف ممبر کی حیثیت سے وہاں1938 سے آویزا ں محمد علی جناح کی تصویر پر شور ہنگامہ کیا ، مگر قابل تعریف ہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جرات مند و باشعور طلبہ جو بیک وقت حکومت، ہندوتوادیوں اور نام نہاد مخالف جناح عناصر کا مقابلہ کررہے ہیں۔ بی جے پی نے سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کو مسلم یونیورسٹی کے طرف سے دئے جانے والے اعزاز اور طلبہ یونین کی تاعمر رکنیت سے محروم کرنے کے لئے یونیورسٹی کے سرسید گیٹ پر جو طوفانِ بدتمیزی اٹھایا تھا اور یونیورسٹی کے طلبہ پر تشدد کا مظاہرہ کیا تھا،اس کو چھپانے کے لئے اِن لوگوں نے یونیورسٹی طلبہ کی یونین کے ہال میں جناح کی تصویر کی موجودگی پر ہنگامہ کھڑا کیا۔ ورنہ یونیورسٹی میں یہ تصویر آزادی سے قبل بھی لگی ہوئی تھی لیکن کسی کو محمد علی جناح کی یہ تصویر یاد نہیں آئی۔ اس موقع پر ٹی وی کے مختلف پروگراموں میں بعض خودساختہ دانشوروں اور سکالروں نے محمد علی جناح کی مخالفت میں جو قابل اعتراض زبان استعمال کی، اخلاق اس کی اجازت نہیں دیتا ۔ جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ مطالبہ پاکستان کے علاوہ محمدجناح کا کوئی نظریہ نہیں تھا۔ رہا دو قومی نظریہ تو اس کی شروعات سرسید کے زمانے سے ہورہی تھی اور ملک کی تقسیم کا مطالبہ بھی لالہ لاجپت رائے اور ساورکر نے 1930 سے قبل ہی کیا تھا۔ علی گڑھ یونیورسٹی میں جناح کی تصویر رہے نہ رہے ،ہم کو اس سے کوئی غرض نہیں لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ محض بانی پاکستان کی مخالفت میں ان کو ملک کی تقسیم کا قصوروار ٹھہرا دینا بھارتی سیا سی پارٹیوں کا پرانا وطیرہ ہے۔ اس تاریخی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ہے کہ برطانوی حکومت کے ہندوستان بھیجے ہوئے مشہور زمانہ کابینی وفد کی تجاویز کو منظور کرکے محمد علی جناح نے نہ صرف متحدہ ہندوستان کے نظریہ کو قبول کرلیا تھا بلکہ مطالبہ پاکستان سے دستبرداری بھی اختیار کرلی تھی لیکن پہلے پنڈت نہرو نے متحدہ ہندوستان کی کابینی وفد کی تجویز کو ناکام بنایا کیونکہ انہوں نے کابینی وفد کی تجاویز میں ترمیم کئے جانے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا۔ اس کے بعد 1946 میں ملک میں قائم شدہ عارضی حکومت میں ملک پر شدید مالی کنٹرول قائم کرنے والے وزیر خزانہ لیاقت علی خاں سے سردار پٹیل کی بالکل نہیں بنتی تھی ۔ سردار پٹیل نے محض لیاقت علی خاں سے نجات پانے کے لئے نہرو کو مشور ہ دیا کہ ملک کی تقسیم کا مطالبہ قبول کرلیا جائے۔کچھ ردوکد کے بعد پنڈت نہرو بھی اس پر راضی ہوگئے اور دونوں نے مل کر مہاتما گاندھی کو بھی جوں توں اس فارمولے پر راضی کرلیا۔ اگر سردار پٹیل لیاقت علی خاں سے نجات پانے اور پنڈت نہرو ، سردار پٹیل کے اثر میں نہ آتے یا کم از کم مہاتماگاندھی جو کہتے تھے ملک کی تقسیم میری نعش پر ہی ممکن ہے پٹیل اور نہرو کی باتیں نہ قبول کرتے تو ملک شاید تقسیم ہی نہ ہوا ہوتا۔ اس طرح اکیلے محمد جناح کو ملک کی تقسیم کا ذمہ دار قرار دینا تاریخ کا مذاق اڑا نے کے مترادف ہے اور حقیقتوں کو جھٹلانا ہے۔ نہ صرف مولانا ابوالکلام آزاد، خوشونت سنگھ اور کئی غیر جانبدار مورخین نے مندرجہ بالا امور کو بڑی ساف گوئی کے ساتھ تفصیلا اپنی کتابوں میں بیان کرتے ہوئے بانی پا کستان کو ملک کی تقسیم کے الزام سے بری کیا ہے۔ اس کے علاوہ لارڈ ماونٹ بیٹن کے پرسنل سکریٹری نے بھی اپنی کتاب The Great Divideمیں مندرجہ بالا امور کا پوری تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے لیکن کانگریسی حضرات اسے گزشتہ 70 سال سے جھٹلارہے ہیں کیونکہ کانگریسی نہرو اور گاندھی کو ملک کی تقسیم کا ذمہ دار کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ بھاجپا جو ہر معاملہ میں نہرو اور گاندھی کو مطمین کرتی ہے، وہ بھی ان باتوں سے محض اس وجہ سے گریز کرتی ہے کہ اس سے ملک کی تقسیم کا الزام سردار پٹیل پر آتا ہے اور سردار پٹیل سنگھ پریوار کے سب سے بڑے آئیڈیل تھے اور آج بھی ہیں۔ پٹیل پربھلا کوئی سنگھی قائد یا کارکن اتنے بڑیا الزام لگاسکتا ہے؟ ۔ انڈیا میں گزشتہ 70 سال میں جو نصابی کتابیں لکھی گئیں ان میں بھی مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو اور سردار پٹیل کو ہر الزام سے بری کرتے ہوئے صرف جناح کو تقسیم کے لئے موردِالزام ٹھہرایاگیا ہے ۔ تصویر پر حالیہ ہنگامہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا کر ناٹک کے الیکشن کیلئے صرف شور شر ابہ تھا اور جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی بری طر ح ناکام ہو ئی ہنگا مے کے با جود بھارتیہ جنتا پارٹی کو صرف دو سیٹیں مل سکیں،اس کے علاوہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جن لوگوں نے ملک کی سیاسی تاریخ کو کبھی پڑھا ہی نہیں خاص طور پر نام نہاد مسلم دانشور ، علما اور سیاست دان وہ اس سلسلہ میں اپنی کم علمی اور ناقص معلومات کو چھپانے کے لئے سنگھ پریوار کا ساتھ دیتے ہیں۔ رہا محمد علی جناح کی تصویر کا معاملہ تو ان کی نہ صرف تصویر بلکہ ان کی یادگار میں عمارتیں، ادارے اور سڑکیں بھارت بھر میں ہیں۔ اِس موقع پر جنوبی ہند کے قارئین کے لئے یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ آندھراپردیش کے مشہور شہر گنٹور میں بھی ایک چوراہے کا نام جناح اسکوائر ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں مہاتما گاندھی کے نام پر اب بھی سڑکیں اور باغ منسوب ہیں۔ کراچی کا گاندھی گارڈن بڑا مشہور ہے۔ گوکہ بعض نے ان ناموں کو بدلنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکے۔ اس طرح جو لوگ مسلم یونیورسٹی میں جناح کی تصویر کی موجودگی پر اعتراضات کرتے ہیں، وہ اپنی کوتاہ نظری اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے ہندوستان کو بھی کوتاہ نظر قرار دینے پر آمادہ ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی بھارتی انتہاء پسندوں نے پا کستان کیخلاف منہ کھولا تو ان کے حصے میں صرف رسوائی ہی آئی۔