دوستی ۔۔۔۔۔ حقیقت کے آئینے میں

29

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی
فراز نے برسوں پہلے کہا تھا کہ تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز ۔دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے ولا۔ انسان جب تک خود صاحب اولاد نہیں ہوجاتا اور اُس کے بچے جوان نہیں ہوجاتے اُسکی زندگی میں دوستوں کی دوستی کی چاشنی بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے پھر گھریلو مصروفیات زندگی کو اِس دور میں داخل کردیتی ہیں کہ انسان اپنے دوستوں سے رابطہ میں کمی کا شکار ہوجاتا ہے۔ لیکن دوستی کے اِس جذے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔مولا علیؓ کا قول ہے وہ شخص غریب ہے جس کا کوئی دوست نہیں ہے۔
انسانی جبلت میں ہے کہ وہ اپنی ذات کا اظہار چاہتا ہے۔ انسان کے اندر چاہے جانے کا جذبہ بدرجہ اُتم موجود ہوتا ہے۔ انسانی زندگی میں خواب بھی اُتنے ہی ضروری ہوتے ہیں جتنا خود انسان کی اپنی ذات۔ انسانی زندگی میں جو رشتے جزولاینفک ہیں اُن میں والدین بہن بھائی بیوی بچے وغیرہ وغیرہ۔مجھے آج انسانی زندگی کے جس رویے پر بات کرنی ہے وہ ہے انسان کی زندگی میں دوستی کے رشتے کی فعالیت۔
انسان اپنا بچپن بہن بھائیوں کے ساتھ کھیل کود کر گزارتا ہے لیکن زندگی کے اِس دور میں بھی وہ زیادہ کمفرٹ ایبل اُس وقت محسوس کرتا ہے جب وہ اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ کھیلتا ہے۔ یوں اُس کی اپنی کلاس کے ساتھیوں کے ساتھ دوستی ہوتی ہے۔ عموماً بچے کا میلانِ دوستی اُس بچے کی جانب ہوتا ہے جو اُسے اپنے ساتھ کھیلاتا ہے اُس کے ساتھ برابری کی بنیادپر سلوک کرتا ہے۔ جو بچے اپنے ساتھی کلاس فیلوز کو تنگ کرتے ہیں مارتے پیٹتے ہیں اُن سے پھر دوستی کے خواہشمندکم ہی ہوتے ہیں۔ اِس لیے ضروری ہوتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کی آغاز سے ہی اِس طرح تربیت کریں کہ وہ اپنے ہم عمر ہم جماعت بچوں کے ساتھ اچھے انداز میں پیش آئے اوروہ اچھا طالب علم ثابت ہو۔ انسانی زندگی کا یہ نفسیاتی پہلو ہے کہ بچے کو اگر بچپن میں کسی خاص شے کا نام لے کر ڈرایا جاتا رہا ہو یا بچے کو کسی خاص انداز میں پکارا جاتارہا ہو جو اُس کے مزاجِ سلیم پرگراں گزرتا ہو تو اُس رویے کی وجہ سے بچہ ساری زندگی اُس طرح کے رویوں سے شاکی ہوجاتا ہے اور اُس کے اندرایسے رویوں کے حوالے سے منفی جذبات انتہا کو پہنچ جاتے ہیں۔ اِسی طرح اگربڑئے بھائی بہن بچے کو تنگ کرتے ہیں یا کسی طرح چھیڑتے ہیں یا اُس کو مارتے پیٹے ہیں تو وہ بچہ اُن بہن بھائیوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ایسے حالات میں بچے کو ایسے دوست کی ضرورت ہوتی ہے جو اُس کی بات سُننے اُس سے محبت کا اظہار کرئے اور اُسے حوصلہ دے اور اُس کے ساتھ چاہت کرئے۔ یہ وہ جذبہ ہے جس سے چھوٹا کیا، بڑا کیا سب کا آپس میں دوستی کا ایسا بندھن قائم ہوجاتا ہے کہ اُسکے تعلق کی آبیاری پھر حالات و واقعات کے گزرنے کے ساتھ ساتھ جاری رہتی ہے ۔
ایسے بچے جن کے والدین یا والدہ یا والدہ میں سے کوئی ایک فوت ہو جاتا ہے ایسے بچے کے اندر بھی چاہے جانے کی تڑپ بہت ہوتی ہے۔ عام لوگوں کے رویوں سے نالاں ہو کر اور ماں یا باپ کی کمی کی وجہ سے محبت اور چاہے جانے کے جذبے کی طمانیت کا حصول دوستی کے انتہائی مضبوط بندھن میں باندھ دیتا ہے۔ پھر یہ خلوص ،کمتری کے احساس میں کمی لاتا ہے اور دوست کی دوستی پر ناز کیا جاتا ہے اور اِسی دوستی کی بدولت انسان اپنے اندر توانائی، خود اعتمادی محسوس کرتا ہے اور ایسا انسان دُنیا میں عام بچوں سے عادات و خصائل کے حوالے سے مختلف ہوتا ہے۔ توجہ یا محبت سے محروم بچے کی زندگی میں مخلص دوست کا ہونا درحقیقت اُس کی زندگی کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ایک ایسے معاشرئے میں جہاں نفسا نفسی کا عالم ہو اور دولت کی ہوس نے رشتوں کے تقدس کو گہنا دیا ہو ایسے میں کسی انسان کے ساتھ بغیر کسی لالچ کے دوستی کا تعلق قائم رکھنا یقینی طور پر کافی مشکل کام ہے۔
فی زمانہ تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ اِس رشتے میں اب وہ طاقت نہ ہے لیکن اگر توجہ سے محروم بچے کے ساتھ کسی بچے کی دوستی مخلص بنیادوں پر ہو ۔ تو وہ بچہ جو کہ خود کو دوسروں سے کم تر سمجھتا ہے وہی بچہ دوستی کے جذبے سے ملنے والی طاقت سے اپنی جبلت میں وہ تبدیلیاں بپا کردیتا ہے کہ وہ معاشرئے کا نہ صرف ایک فعال رُکن بن جاتا ہے بلکہ اپنے ہم عصر ساتھیوں میں سے زیادہ ممتاز ہو جاتا ہے اور اُسکی نفوس پذیری عام انسانوں سے زیادہ ہوتی ہے۔
راقم نے اپنے یہ چند الفاظ اپنے دوست ڈاکٹر عرفان علی ظفر کے لیے لکھے ہیں جن کی بارہ جون کو سالگرہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی بے لوث محبت میرے لیے زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ اللہ پاک ڈاکٹر عرفان علی ظفر اور اُن کے والدین کو عمر خضر عطا فرمائے۔ اللہ پاک ڈاکٹر صاحب کی اولاد کو نیک و صالح بنائے(آمین)