غداروطن

25

تحریر۔۔۔ شاہدجنجوعہ ۔۔ لندن
جماعت علی شاہ وہ شخص تھا جسکی ملی بھگت سے بھارت پاکستان کا پانی بند کرنے کی سازش میں کامیاب ہوا۔ قوم اور باقی ادارے بے خبر تھے اور دریا ئے سندھ پر بھارت نے بجلی گھر کی تعمیر مکمل کرلی۔یاد رہے یہ 2002 کا سال تھا جب پہلی دفعہ دریائے سندھ پر بھارت کے متنازع بجلی گھر نیمو بازگو کی تعمیر رکوانے میں غفلت کے نئے انکشافات سامنے آئے۔ وفاقی حکومت نے دفتری ریکارڈ کی خصوصی حفاظت کا حکم دیا اورانکوائری پر دوبارہ غور کرنے کی نوید سنائی گئی۔پھرجنرل مشرف ہی کے دور میں دو ہزار سات میں متنازع بجلی گھر کی مانیٹرنگ کے انچارج افسر کو ہٹا کر جونئیرافسر کو لگا دیا گیا لیکن اسوقت تک بھارت نے ڈیم کی تعمیر مکمل کرلی تھی۔لاہور میں وزارت پانی و بجلی کے ذرائع نے اسوقت کہا تھا کہ دفتری ریکارڈ کے مطابق #نیموبازگوکیس میں اکیلے جماعت علی شاہ غفلت کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ سندھ طاس کمشن کے دیگر افسر بھی اس کے ذمے دار ہیں جس کو اب نئی انکوائری میں شامل تفتیش کئے جانے پر غورجاری ہے۔
پھر اسی سال 2007ء میں نیمو بازگو بجلی گھر کی مانیٹرنگ کا انچارج سندھ طاس کمشن کے جائنٹ کمشنرعثمان غنی کو بنایا دیا گیاتھا لیکن اس وقت کے قائم مقام کمشنر نے ان سے چارج واپس لے کر جونئیر افسر فارس قاضی کو دیدیا اور اس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں نیمو بازگو کی تعمیر مکمل ہوتی رہی اور پاکستان کی محبت کا دم بھرنے والے سارے ادارے سوئے رہے اور یہ کھچڑی پکتی رہی اسوقت کے مستقل کمشنر جماعت علی شاہ نے چھٹیوں سے واپسی پر بھی عثمان غنی کو ہٹانے کا نوٹس نہ لیا اور بھارت نے کاربن کریڈٹ کی صورت میں عالمی ایجنسیوں سے پونے پانچ لاکھ ڈالرز کی سہولت حاصل کر لی۔نیمو بازگو کا قصہ وزیر اعظم شوکت عزیز کے غیر اعلانیہ مشیر آبی وسائل کمال مجید اللہ اور جماعت علی شاہ کے درمیان کشن گنگا کیس کے لئے وکیل کے تقرر پر اختلافات کے بعد سامنے آیا۔ کمال مجید اللہ کی خواہش کے برعکس وزارت پانی و بجلی کے حکام اورجماعت علی شاہ نے پروفیسر قیقوباد کی بجائے جیمز کرافورڈ کو وکیل مقرر کر دیا۔ جنہوں نے پاکستان کے موقف کو غلط طور پر پیش کیا۔
آج یہ سارے قومی مجرم پاکستان سے فرار ہوچکے ہیں اور انہیں پاکستان سے بگھانے میں سیکورٹی ادارے اور اسوقت کی حکومت برابر کی مجرم ہے۔اسوقت اطلاعات یہ ہیں کہ اسوقت کے کمشنر سندھ طاس شیرازجمیل میمن بھی جماعت علی شاہ کیساتھ کینیڈا کی مائیگریشن حاصل کرچکے ہیں۔جبکہ جماعت علی شاہ کی ٹیم میں شامل کشن گنگا منصوبے کے ماہر طاہر وسیم کو واپڈا میں بھیجا دیا گیا تھا اور اس سے بھی تفتیش نہیں کی گء۔جماعت علی شاہ سے ایک وقت پہلے کینڈا میں رابطہ کیا گیا تو اس نیکہا کہ وہ اگلے ماہ وطن واپس آکر اہم حقائق سامنے لانے کو تیار ہیں اور اپنے کینڈا فرار کا دفاع کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ وہ 2006 اکتوبر میں سیکرٹری واپڈا امتیاز تاجور کی فیکٹ فائینڈنگ انکوائری کے بعد حکومت کی اجازت سے اپنی والدہ کی تیمار داری کرنے آئے تھے۔ اس سے بھونڈا مذاق اور کیا ہوسکتا ہے؟
آج جب پاکستان پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے اور بعض علاقوں میں پینے تک کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ ان حالات کا زمہ دار کون ہے یہ بھی طے ہونا چاہئے اور اس کوتاہی کی زمہ داری سے جنرل مشرف، شوکت عزیز، جماعت علی شاہ، آصف زرداری و دیگر بیوروکریٹ اور سیکورٹی اداروں سے سپریم کورٹ کو پوچھ گچھ کرنی چاہئے۔ اسلئے کہ کسی ملک کو تباہ کرنا ہوتو اس پر حملے کی بجائے اسکے آبی و معدنی ذخائر کو تباہ کردینا بہترین انتقام ہے جو بھارت نے پاکستان سے خوب لیا۔ آج انرجی کرائسز کی ایک بڑی وجہ یہی پانی کا نہ ہونا ہے جسکی وجہ سے منگلا اور تربیلا ڈیم خالی پڑے ہیں۔ لیکن باقی لوگوں کو زمہ دار قرار دیکر نوازشریف کو بھی چھوٹ نہیں دیجاسکتی۔#نوازشریف نے بھی پانی کے معاملے میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند رکھیں اور اپنے تیسرے دورحکومت میں پانچ سال گزاردیئے مگر پانی کے ذخائر بڑھانے کیلئے کوئی ایک بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی اس لحاظ سے نوازشریف بھی ایک قومی مجرم ہے۔