اسپرین کینسر کے خطرات کم کرتی ہے

11

ایک سو سال سے زائد عرصے سے  بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے درد کش دوا اسپرین میں اب سرطان کے خلاف مزاحمت بھی دریافت ہوئی ہے۔

اسپرین، جس کا کیمیائی نام ’’ایسی ٹائل سیلی سائیلک ایسڈ‘‘ ہے، خون کے لوتھڑے بننے سے بچاتی ہے اور یوں فالج سمیت کئی بیماریوں کو دور رکھتی ہے۔ پھر ایک عرصے سے ماہرین کہتے آرہے ہیں کہ اسپرین کئی طرح کے سرطان کو بھی روک سکتی ہے۔

اسی ضمن میں سائنسدانوں نے 20 سال میں ہونے والی مختلف طبّی آزمائشوں (رینڈم کلینکل ٹرائلز) کا جائزہ لیا ہے جس سے ظاہر ہوا ہے کہ کئی سال تک اسپرین باقاعدگی سے کھانے سے آنتوں کے سرطان کو ٹالا جاسکتا ہے۔ اگر صرف پانچ سال تک بھی اسپرین باقاعدگی سے کھائی جائے تو اس کی کم ترین مقدار کھانا بھی آنتوں کے سرطان سے تحفظ دیتا ہے۔

تاہم سائنس اب بھی اس کی وجہ جاننے سے قاصر ہے۔ اس مطالعے میں ماہرین نے خلیے کے مرکزے (نیوکلیئس) سے وابستہ ساخت نیوکلیولوس پر غور کیا ہے جو انسانی خلیے میں سب سے بڑا حصہ ہوتا ہے۔ اس میں موجود رائبوسومز خلیے کے لیے پروٹین بناتے ہیں۔

لیکن جب نیوکلیولوس میں رائبوسومز کی پیداوار غیرمعمولی طور پر بڑھ جاتی ہے تو اس سے سرطانی رسولیوں کی افزائش میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں واقع کینسر ریسرچ سینٹر کے ماہرین نے تجربہ گاہ میں سرطانی رسولیوں پر اسپرین کے اثرات نوٹ کئے تو پتا چلا کہ اسپرین نئے پروٹین بننے کو روکتی ہے اور بطورِ خاص آنتوں کے کینسر میں مفید پائی گئی ہے۔

تاہم ماہرین نے کہا کہ اسپرین کا باقاعدہ استعمال دیگر کئی امراض کو بھی روکتا ہے جن میں الزائیمر جیسی دماغی بیماریاں بھی شامل ہیں۔ تحقیق میں شامل ڈاکٹر لیزلے اسٹارک نے کہا کہ اس طرح اسپرین کئی اقسام کے کینسر میں بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔