سرگودہا میں آسودہ خاک۔۔۔۔۔مُرشِد کامل

22

صاحبزاد اشرف عاصمی
میاں جی ؒ کا ڈیرہ شہر کے پاس ہی ایک نواحی بستی میں ہے۔ میاں جیؒ عہد اسلاف کی وہ نشانی تھے جن کی زندگی عشق رسولﷺ، پاکستان سے محبت اور انسانوں سے پیار سے عبارت ہے۔ میاں جی ؒ کا اصلی نام شائد کسی کو بھی معلوم نہ ہو چھوٹا بڑاسب لوگ اُنھیں میاں جی کہتے ۔میاں جی ؒ کے متعلق یہ ہی بات مشہور تھی کے انھوں نے مشہور حکیم قرشی سے حکمت سیکھی تھی۔ میاں جی بہت اعلیٰ پائے کے نبض شناس تھے۔میاں جیؒ کی حکمت کے ساتھ اور جو خصوصیت تھی وہ اُن کا روحانی فیض تھا۔اِسی گھر میں کئی دہائیوں سے مقیم تھے ۔ دن بھر لوگ آتے کوئی دوا لیتا اور کوئی دُعا کا طلب گار ہوتا۔میاں جی روایتی پیری مریدی کے قائل نہ تھے لیکن اُن کے حلقے میں شامل افراد انتہائی پڑھے لکھے تھے۔علماء۔نوجوان، پروفیسرز ڈاکٹرز، پی ایچ ڈی کے حامل ریسرچ سکالرز،پائلٹ، فوج کے اعلیٰ افسران۔گویا دکانداری والی پیری مریدی سے کوسوں دور میاں جی نے ایک ایسا نگر آباد کر رکھا تھا جہاں ہر دکھی کو جسمانی اور روحانی ہر بیماری سے شفا ملتی۔ میاں جی نہایت نفیس انسان۔ پاکستان اپنی آنکھوں سے بنتے دیکھا۔ اور اپنا سارا خاندان قربان کرکے ہجرت کی۔مال و متاع سے بالکل رغبت نہ تھی۔ جو بھی اسباب ہوتے وہ ضرورت مندوں میں تقسیم فرمادیتے۔ عام دیکھنے والا یہ ہی تصور کرتا کہ شائد وہ کافی مال دار ہیں کہ ہر وقت لنگر کا اہتمام۔جو بھی اُن کے ہاں آتا اُسے فوری طور پر کھانا پیش کیا جاتا۔میاں جیؒ سادہ لباس پہنتے۔ سفید قمیض اور سفید رنگ کا ہی تہمد اور نوشہ گنج بخشؒ سے نسبت کا حامل پیلے سے رنگ کا کپڑا، جسے وہ صافا کہتے اُن کے کندھے پر ہوتا اور سفید رنگ کی کپڑئے کی بنی ہوئی ٹوپی اُن کے سر پہ ہوتی۔میاں جی ؒ کی نفاست ہر کام میں اتنی کہ دیکھنے والوں کو رشک آتا۔ نہایت صاف سادہ کپڑئے پہنتے او ر بناوٹ دکھاوئے سے ہمیشہ دور رہتے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ جو بھی اُن سے ایک دفعہ ملنے آجاتا تو پھر ہمیشہ کے لیے اُن کی محفل کا شریک بنا رہتا۔ تاریخ عالم پر گہری نظر، اسلام کی حقانیت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا میاں جی کے دل و روح کے اندر۔کتابوں کا ایک لازوال ذخیرہ کہ جہاں سے بڑئے بڑئے سکالر آکر استفادہ کرتے۔اللہ پاک کے دوست میاں جیؒ ہر ملاقاتی سے ایسے ملتے جیسے کہ وہ اُن سے سب زیادہ قریب ہو۔میاں جیؒ کا ڈیرہ ایسی درگاہ ہے کہ جہاں سے عشق رسولﷺ کی دولت سے ہر کوئی مال ومال ہوتا۔میاں جیؒ ہر آنے والے کو خصوصی محبت سے نوازتے اورکھانے پینے سے خوب خاطر مدارت ہوتی۔ نوجوانوں کی تعداد آپکی محفل میں ہمیشہ زیادہ ہوتی۔ حضرت اقبالؒ کے بقول ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔ ساقی بھی اگر میاں جی ؒ جیسا ہو تو پھرعشق رسولﷺ کا جام ۔دنیا کہ ہر شے سے ماورا کر دیتا ہے۔آپؒ کے لب ہلتے اور گویا ہوتے نبی پاکﷺ کا نام جب بھی لیتے تو فرماتے سرکار دوجہاںﷺ۔آپؒ گویا ہوتے تو پھر الفاظ ہاتھ باندھ لیتے اور آپ بولتے الفاظ خاموش رہتے۔آپ کے الفاظ میں دھن گرج ایسی کہ جیسے کوئی سولہ سترہ سال کا نوجوان نبی پاکﷺ کی محبت میں مخاطب ہے۔آپؒ کے الفاظ یہ پیغام دئے رہے ہوتے کہ جس کا دل مضطرب ہو وہ خود کو ہی نہ ڈھونڈ پا رہا ہو۔ جسے دنیا کی بے وفائی اور بے ثباتی کادُکھ ہو۔پھر ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے پناہ پھر ایسی جگہ ملے جہاں سے کائنات کی ہر ذی روح فیض لے رہی ہو۔ جس کی خاطر خالق نے پوری کائنات پیدا کی ہو۔ پھر مبدا خلق عالم کے علاوہ اور کون ہوسکتا ہے جس کے دربار سے رحمت کا حصول ہو۔جب تمام دنیاوی رشتے دم توڑ جائیں تو پھر ایک ہی ہستی کا سہارا رہ جاتا ہے جو کہ ماں باپ اولاد مال سب سے بڑھ کر محبت کا منبع ہے۔وہ ہستی صرف رسول پاکﷺ کی ہے۔آپ کی گفتگو سن کر نوجوان سحر میں کھو جاتے۔ میاں جیؒ کا ایک بہت بڑا وصف یہ بھی تھا کہ وہ ظاہری نمود و نمائش سے بے نیازتھے اور نوجوانوں کے ساتھ اُن کا برتاؤ دوستوں جیسا ہوتا ۔ ہر کسی کے دکھ درد کی خبر رکھتے۔ رہنمائی فرماتے۔ حوصلہ دیتے اور خاص طور فرماتے کہ شیر بن۔جس جس کو اسباب درکار ہوتے اُس کی مدد فرماتے۔ کوئی بنک اکاونٹ اور نہ کوئی تجوری۔سب کچھ ہی تو خالق کی مخلوق کے لیے وقف کیا ہوا تھا۔ جیسے جیسے خالق نوازتا چلا جاتا ویسے ویسے میاں جی ؒ تقسیم فرماتے چلے جاتے۔میاں جی کے ڈیرئے کا ایک عجیب وصف ہے کہ جب تک میاں جی حیات رہے اُن کے ڈیرئے سے کوئی بھی شخص ناراض یا دکھی ہو کر نہ گیا۔ بلکہ ہر آنے والا سکون کی دولت لے کر گیا اور میاں جی نے اپنے رب کی عطاسے اُس کو امید کے دنیا میں جینے کے عزم سے لیس کیا۔ اکثر عشاء کے بعد نوجوان آپکے ڈیرئے پہ آجاتے اور میاں جیؒ سے اپنے دن بھر کے معاملات کی بابت اپنا احوال بتاتے۔آپؒ ہر کسی کو نوازتے۔ حوصلہ دیتے۔ اور صوفیا کہ انداز تربیت سے غیر محسوس انداز میں رہنمائی فرماتے۔میاں جیؒ کی شخصیت اتنی دلنشین تھی کے اُن کے ڈیرئے پہ آنے والا ایک ایک شخص اُن سے اپنے دل کی بات کہہ کر اپنا غم ہلکا کر لیتا۔ کوئی نمود نمائش نہیں تو تھی میاں جی میں۔ ہر کسی کی بات کو محبت سے سُنتے۔بناوٹ اور تصنہ تو چھو کر بھی میاں جیؒ کو نہیں گزرئے تھے۔آپ بعض اوقات چارپائی پر لیٹے لیٹے پاس بیٹھے ہوئے حاضرین کو تصوف کے دریچوں سے روشنی دیکھاتے چلے جاتے آپ فرماتے کہ لو بھی دوستو: پھر آپؒ کا فرمان شروع ہوجاتا اور گفتگو کا ایسا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے کہ سُننے والے محو ہوجاتے اور میاں جی فرما رہے ہوتے کہ جب بندہ اہتمام کے ساتھ اپنے خالق ومالک کی بارگاہ میں پیش ہوتا ہے اور اپنے دُکھوں کا بوجھ خالق کے دربا رمیں عرض کی صورت میں رکھتا ہے تب خالق اپنے بندے کی عاجزی اور انکساری کو بہت پسند کرتا ہے اور بندے کے دکھوں کا مداوا کرتا ہے ۔رب پاک اور بندے کا تعلق اسی طرح ہے جس طرح ایک بے حس وحرکت تصویر کو بنا نے والا جیسے مرضی رنگ بھردے اور اِن رنگوں کی بدولت وہ تصویر ایک خوبصورت نظر آنے لگے ۔اب مصور اور تصویر کا جو تعلق ہوتا ہے وہ خالق اور محلوق والا ہے ۔انسان کی پیدائش سے موت تک کے تمام تر حالات وواقعات اِس بات کے شاہد ہیں کہ انسان کی حیثیت کیا ہے ۔محبت کے ساتھ نفرت بھی انسان کی

؂جبلت میں ہے ۔چاہے جانے کا جذبہ انسان سے نیکیاں بھی کرواتا ہے اور انسان کو بدی کی طرف بھی لے جاتا ہے ۔بندے کی ساری تگ و دو ایک ایسے ٹائم فریم کے اندرہے جس کے متعلق کچھ بھی حتمی نہیں ۔اگر ایک جہا ز لاہور سے پرواز کرتا ہے اُسے ساوتھ افریقہ جانا ہے ۔اب راستے میں تو کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔کوئی بھی انہونی ہو سکتی ہے ۔یہی انہونی کا جو فیکٹر ہے یہ ہی خالق کے وجودکی گوا ہی دیتا ہے اور خالق کے ہونے کی دلالت کرتا ہے ۔سفر منزل کی جانب جب شروع ہو اور سفر کرنے والے کو منزل تک پہنچنے کی بے یقینی ہو تو در حقیقت یہ بے یقینی رب پاک پر حق الیقین ہے خالق کے معبود ہونے کی پہچان ہر اُس عمل سے ہو تی ہے جو بندے کے ارادوں کے مخالف ہو ۔ذرا تصور فرمائیے اگر انسان دوسرئے سے عاجزی اور انکساری سے ملتا ہے اور اُس کے سامنے اپنا دکھ بیان کرتا ہے تو جس کے سامنے یہ سب کچھ کیا جاتا ہے وہ بھی اپنے دل میں نرمی پیدا کر لیتا ہے ۔یہ حال تو ایک دنیا دار شخص ہے لیکن خالق کے سامنے جب عجز و انکساری ہو اور خالق اپنے بندئے سے بے پناہ محبت کرتا ہے وہ اپنے بندئے کو خالی نہیں لوٹاتا۔عبد کا اختیار اُسکی عبدیت پر منحصر ہے جیسے جیسے وہ اپنے رب کے رستے پر چلتا ہے ویسے ویسے وہ ایک مقبول عبد کی حثیت حاصل کرلیتاہے ۔ ہو۔انبیا ء اکرام تو گنا ہوں سے پاک ہیں وہ بشری لبادے میں رب پاک کے خاص عبد ہیں ۔اُن پر اُس طرح کے قوانین فطر ت کا اطلاق نہیں جس طرح ہم پر ہے ۔خالصتااپنے خالق کی رضا کو اپنا لینا بندے کو رب کا دوست بنا دیتا ہے ۔خالق اُ س بندے پر اپنی خاص رحمتوں کا نزول کرتا ہے ۔حتی کے خالق اپنے بندے کے نازبھی اُٹھاتاہے ۔بندہِ مومن کی آنکھ خالق کی آنکھ قرارپاتی ہے ۔بند ہ مو من کی خواہش کی تکمیل خالق فرما دیتا ہے۔انسانی رویے کے حوالے سے اگر ناقدانہ جائزہ لیا جائے تو یہاں معاشیات کا ایک مفروضہ جسے لائف سائیکل ہائی پوتیسیزکا نام دیا گیا ہے جس کے مطابق بچہ جب پیدا ہوتا ہے اور اُس کی حالت

اِیسی نہیں ہوتی کہ وہ کچھ کماء سکے لیکن اُس کی ذات پر اخراجات کافی آتے ہیں۔ اُس کی خوراک اُس کے لیے میڈیکل کی سہولیات، کپڑئے وغیرہ سب سے بڑھ کر یہ کہ اُسے نگہداشت کے لیے کُل وقتی ایک عدد سہارئے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ اُس کے لیے ہورہا ہوتا ہے اب آئیے اِس نقطے پہ غور کرتے ہیں کہ ایک انسان کے بچے کی نگہداشت کا معاملہ خالق نے ایسے ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ خالق تو جانوروں پرندوں سب کی پرورش پر قادر ہے اور وہ ایسا کرتا ہے ۔اِسی لائف سائیکل مفروٖضے میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ بچہ جب بڑا ہو جاتا ہے تو اُس وقت وہ اِس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ کمائی کرئے اور اُس کی اپنی ذات پر اتنا خرچ نہیں ہوتا جتنا وہ کما رہا ہوتا ہے۔ اب اگرہم خالق کے نظام کو دیکھیں کہ کس طرح ہر ذی روح کو اُس نے ایک دوسرئے کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔ اور کائنات کا نظام جاری و ساری ہے ۔ میاں جیؒ فرماء رہے ہوتے اور سُننے والے سُن رہے ہوتے۔کوئی بھی تو میاں جی ؒ کی محفل میں اکتاہٹ کا شکار نہ ہوتا تھا ہو بھی کیسے سکتا تھا کہ ایک اللہ کا دوست محبت سے ہر کسی کے دکھ سُن کر اُن کو دعا دئے رہا ہوتا ۔ حوصلہ دئے رہا ہوتا۔میاں جی کی ظاہر زندگی اور پردہ فرما نے کے بعد والی زندگی سے وہی لوگ فیض یاب ہوتے رہے ہیں جنیں دُنیاوی لالچ نہ ہو۔نوٹوں کے لالچی لوگ، ضیعیف العقیدہ لوگ ڈبہ پیروں کے پیچھے مارئے مارئے پھرتے ہیں۔ لیکن میاں جی کا تو یہ وصف تھا کہ محفل میں بار سے آنے والا شخص پہچان ہی نہ پاتا ہے کہ میاں جی کون ہین اور محفل میں دیگر افراد کون ہیں کوئی بھی تو ظاہری رعُب دبہ نہ تھا اُن میں۔اُن کو کسی جھوٹی شان کی ضرورت ہی نہ تھی وہ تو حضرت غوث پاکؒ کے مرید تھے۔میاں جی ؒ کا اصل نام میاں محمدعنایت خان قادری نوشاہیؒ ہے۔ 1929 میں پیدا ہوئے اور 2015 میں وصلا فرماء گئے۔ وہ سرگودہا کی نواحی بستی نیومسلم ٹاون سرگودہا میں آسودہِ خاک ہیں۔اُن صاحبزادئے حکیم میاں محمد یوسف خان قادری نوشاہی اپنے والد محترم کے مشن کے لیے تگ و تاز جاری رکھے ہوئے ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو صراط مستقیم پر چلائے۔(آمین)