بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، اقوام متحدہ

11

اقوام متحدہ نے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کشمیریوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم کیخلاف بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر رپورٹ جاری کردی، مقبوضہ کشمیر میں ’انسانی حقوق کی صورتحال‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ 49 صفحات پر مشتمل ہے جس میں  جولائی 2016 سے 2018 تک وادی میں پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر7دہائیوں سے بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکارہے، مقبوضہ وادی میں لوگوں پرسب سے خطرناک ہتھیارپیلٹ گنزکا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے ہزاروں کشمیری بینائی سے محروم ہو چکے۔

یو این رپورٹ کے مطابق جولائی 2016 سے مارچ 2018 تک 145معصوم کشمیری شہید ہوئے جب کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 28سالوں سے خصوصی آرمڈفورسز ایکٹ نافذ ہے تاہم اب تک کسی ایک بھی بھارتی فوجی پرمقدمہ نہیں چل سکا۔

رپورٹ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ  کرتے ہوئے یواین کمشنربرائے انسانی حقوق شیخ رعدالحسین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیرمیں تحمل کا مظاہرہ کرے اور مظاہرین سے نمٹنے کے لیے عالمی قوانین کی پاسداری کرے۔

دوسری جانب حقائق سامنے آنے پر بھارت سیخ پا ہوگیا اور اقوام متحدہ کی رپورٹ کو گمراہ کن اور حقائق کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ  یہ رپورٹ جانبداری پر مبنی ہے جو کسی کے ایما پر بنائی گئی ہے۔

ادھر پاکستان نے رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان مسلسل انسانی حقوق کی اداروں کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ مبزول کرا رہا ہے، بھارتی فوج معصوم شہریوں پر پیلٹ گن کا استعمال کر رہی ہے جب کہ انسانی حقوق کمیشن نے بھی واضح کیا ہے کہ جموں وکشمیر کا مسئلہ مذاکرات سے حل کرنا ہوگا اور جموں وکشمیر کے تنازعہ کے حل کے لئے اقوام متحدہ کا اہم کردار ہے۔