عید اور اسلام

57

تحریر۔۔۔ڈاکٹر عظمیٰ عمران
مسلمانوں کیلئے سال میں دو تہوار بہت اہمیت کے حامل ہیں ایک عیدالفطر اور دوسری عیدالضحیٰ یعنی قربانی کی عید ہے عید الفطر وہ عید ہے جو ایک مہینے کے روزوں کے بعد آتی ہے ہم پورا مہینہ عبادت کرنے کے بعد اپنے لئے اور اپنے پیاروں کیلئے مختلف قسم کے تحائف خریدتے ہیں نئے کپٹرے ، جوتے اور بہت سی قسم کی چیزیں خریدتے ہیں جن کی ہم اور ہماری فیملی والے خوش ہو جاتے ہیں کبھی ہم نے سوچا ہے کہ یہ رمضان الکریم کا بابرکت مہینہ ہمیں کس بات کی تعلیم دیتا ہے ہمیں چاہیے کہ اخوت و مساوات کے ساتھ زندگی گزاریں تاکہ کسی دوسرے کی دلازاری نہ ہو جب ہم اپنے اور اپنی فیملی کیلئے کچھ خریدتے ہیں تو ہمارے اوپر ان لوگوں کا بھی حق ہے جو ان وسائل سے محروم ہیں ہمیں اپنی عید کی خوشیوں میں ان کی شراکت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کسی کو خوشی دے کر جو روح کو خوشی ملتی ہے اس کا اندازہ ہمیں نہیں ہے ورنہ ہم اپنے سے پہلے دوسروں کی خوشی کا خیال کرتے جس طرح ہم رمضان الکریم میں اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کیلئے حقوق اللہ کا خاص خیال رکھتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بندوں کا خیال رکھنا بھی عبادت ہے لیکن ہم دن بدن اس عبادت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں اس کی وجہ خود غرضی ہے ہم صرف اور صرف اپنے اور اپنوں کے بارے میں سوچتے ہیں حالانکہ اسلام ہمیں اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ ہمیں اپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شریک رکھنا ہے جو اپنے لئے پسند کرو وہ اپنے بھائیوں کیلئے بھی پسند کرو
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ کسی انسان کی مدد کرو لیکن اس کو محسوس نہ ہونے دو کیونکہ ہر انسان کی معاشرے میں کچھ عزت ہوتی ہے مگر ہم نے تو یہ دیکھاوا بنا لیا ہے کہ کسی مدد کرو اور ساتھ اس کو رسوا بھی کرو
حضرت علی ؒ کا قول ہے کہ کسی کو تکلیف دینے سے پہلے یہ ضرور سوچ لو کہ اگر اس کی جگہ پر تم ہوتے تو تمہارا کیا ردعمل ہوتا
اس لئے ہمیں کسی کی مدد کرنے چاہیے ناکہ اس کو رسوا ہمیں چاہیے کہ اس عید پر اپنے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کا بھی خیال رکھیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر سکیں اور ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کر سکیں جیسا کہ مشہور ہے کہ غریب ہونے میں دیر نہیں لگتی اس سے پہلے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہم پر نازل ہو ہمیں اس سے بچنے کیلئے غریبوں کی دعائیں اپنے ساتھ رکھنی چاہیں جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے پوری انسانیت بچا لی
اسی طرح ہمیں اپنی عید کی خوشیوں میں اپنے سے کمزور لوگوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے کیونکہ ان کا بھی ہماری زندگی میں کوئی عمل دخل ہے ہمارے معاشرے میں بہت سی ایسی لڑکیاں ہیں جن کی زندگی جہیز کی وجہ سے خراب ہو رہی ہے ہمیں اپنی عید کی خوشیوں میں ان کی خوشی کا بھی خیال رکھنا چاہیے کیونکہ وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں وہ بھی ہماری طرح انسان ہیں ان کا بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی خوشگوار زندگی گزاریں کیونکہ ہمارے معاشرے کی تقریباً ساٹھ فیصد بیماریاں لیٹ شادی کی وجہ سے ہوتی ہیں برٹش ہیلتھ ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ذہنی مرض ڈیمنشیا اکیلے پن کی وجہ سے بھی پھیلتا ہے اس لئے ہمیں چاہیے کہ جتنا ہو سکے غریبوں کی مدد کریں اور غریب بچوں کے سر پر ہاتھ رکھیں ہمارے معاشرے میں چند ایسے بچے بھی ہیں جو پڑھنا لکھنا چاہتے ہیں لیکن وسائل کے ہاتھوں مجبور ہیں ہمیں ان کا بھی خیال رکھنا چاہیے بہت سی بیوا عورتیں بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں ان کی بھی خواہشات ہوتی ہیں ہمیں اللہ تعالیٰ کی راضا کیلئے جتنا ہو سکے کرنا چاہیے لیکن ہم تو اپنی خوشیوں میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ دوسروں کی تکلیف نظر ہی نہیں آتی کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ہمارے گردونواح میں کوئی بھوکا یا پیاسا تو نہیں سو رہا ہے ہمیں ہر وقت صرف اپنے کھانے کی فکر لگی رہتی ہے ہم نے کبھی اپنے کھانے پینے میں تصرف نہیں اختیار کیا اسی لئے ہم دن بدن تنگ دستی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں ہمارا پیارا مذہب اسلام ہمیں اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ ہم فضول خرچی سے اجتناب کریں اس کے بارے میں ہمارے پیارے نبی کریم کی زندگی ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے سب کچھ ہونے کے باوجود نبی کریم نے بہت ہی سادہ زندگی گزاری اس لئے ہم پر بھی فرض ہے کہ اپنی زندگی میں خواہشات کو کم جگہ دیں تاکہ زندگی آسان ہوجائے۔