عافیہ صدیقی کی پاکستانی سفارتکار سے ملاقات میں جنسی و جسمانی تشدد کی تصدیق

2838

امریکی جیل میں قید پاکستانی ڈاکٹرعافیہ صدیقی پر جنسی اور جسمانی تشدد کی تصدیق ہوگئی ہے جب کہ انہیں ایسی دوائیں بھی دی جاتی ہیں جس سے وہ اکثر بے ہوش رہتی ہیں۔

فلک نیوز کو حاصل ہونے والی اہم دستاویز کے مطابق امریکا میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے 23 مئی کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کی ہے۔ قونصل جنرل نے ملاقات کے مندرجات کو خفیہ رپورٹ کی شکل دے کر حکام کے حوالے کردیا ہے جس کے مطابق ملاقات میں عافیہ صدیقی نے دوران حراست جنسی اور جسمانی تشدد کے خوف اور خدشات کو بیان کیا ہے۔

رپورٹ میں پاکستانی اعلیٰ سفارتی حکام کو سفارش کی گئی کہ ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کےلیے معاملے کو ہر حال میں اعلیٰ سطح پر اٹھایا جائے تاکہ وہ اپنی بقیہ قید کی مدت پاکستان میں پوری کرسکیں جہاں  کم از کم ان کی عزت تو محفوظ ہو جس پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے جبکہ وہ اپنی والدہ و بچوں سے بھی ملاقات کرسکیں جن کی شکل دیکھے انہیں 8 سال ہوچکے ہیں۔ رپورٹ میں عافیہ صدیقی کی بدترین صورتحال کی عکاسی کی گئی ہے کہ انہیں اپنی عزت و ناموس بچانے کے لیے کتنے جتن کرنے پڑتے ہیں۔

عائشہ فاروقی نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ پر ہونے والے جسمانی و جنسی تشدد کی تحقیقات کے لیے امریکی محمکہ انصاف کو خط لکھا جائے اور ان کی جان و عزت کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ان کی کوٹھری میں امریکی جیل کے مرد اہلکاروں کو داخلہ ممنوع قرار دیا جائے۔ ڈاکٹر عافیہ نے بتایا کہ جیل کے مرد اہلکار ان کے سامان پر پیشاب کردیتے ہیں۔

امریکی ریاست ہوسٹن میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے اپنی دستاویز میں لکھا ہے کہ زیر حراست  عافیہ صدیقی کو ہر وقت جسمانی اور جنسی طور پر تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا خوف رہتا ہے۔ عائشہ  فاروقی کے مطابق ملاقات کے دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی دو گھنٹوں تک بات چیت کرتی رہیں اور تمام سوالات کا جواب دیتی رہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی نے اپنے وکلاء کیتھی اور اسٹیوینز پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔

عائشہ فاروقی  کے مطابق ملاقات میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے کہا کہ گفتگو ریکارڈ ہونے کی خوف کی وجہ سے وہ کراچی میں مقیم اپنی والدہ کے ساتھ فون پر بات  نہیں کرتیں۔ دوران حراست اپنی صورت حال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جیل حکام ان کو ڈراتے دھمکاتے ہیں اور ان کو جنسی اور جسمانی طور پر ہراساں کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کو کوئی ایسی دوائی دی جاتی ہے جس سے وہ اکثرنیم بے ہوش رہتی ہیں۔

ملاقت کے اختتامی لمحات میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنی والدہ کے لیے تحریر کیے گئے ایک مختصر خط کو پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی کے حوالے کیا جس میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی نے اپنی والدہ کو آگاہ کیا کہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر مکمل طور سے صحت یاب ہیں۔