شفاف انتخابات کے لیے پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ

26

لاہور: (فلک نیوز) عام انتخابات سے پہلے بڑی ہلچل، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف مستعفیٰ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عاصمہ حامد کی عہدے سے چھٹی، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ، کئی سیکریٹریز تبدیل کرنے کی منظوری، پولیس افسران کے بھی تبادلے ہوگئے۔

عام انتخابات سے پہلے بڑی ہلچل، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے استعفیٰ دے دیا، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عاصمہ حامد کو ہٹا دیا گیا۔ سندھ کی بیوروکریسی اورپولیس میں بھی بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ ہوئی۔ 14 سیکرٹریز، 2 اے آئی جیز اور 14 ڈی آئی جیز سمیت کئی اعلیٰ پولیس افسر تبدیل کر دیے گئے۔ الیکشن کمیشن نے بلوچستان اور پنجاب میں بھی تقرر و تبادلوں کی منظوری دے دی۔

اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف نے استعفیٰ صدر مملکت کو ارسال کردیا اشتر اوصاف کا کہنا ہے کہ استعفیٰ عام انتخابات کی وجہ سے دیا، نہیں چاہتا ان کی موجودگی سے شفاف انتخابات کی راہ میں رکاوٹ کا تاثر ملے۔

اٹارنی جنرل تو خود گھر چلے گئے لیکن دوسری طرف ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عاصمہ حامد کی چھٹی کرا دی گئی۔ عاصمہ حامد کی تعیناتی پر پی ٹی آئی کے تحفظات کے بعد پنجاب کی نگران حکومت نے انہیں عہدے سے ہٹا دیا۔ شہباز شریف نے اپنی حکومت ختم ہونے سے دو دن پہلے عاصمہ حامد کو ایڈووکیٹ جنرل تعینات کیا تھا۔ پنجاب کے 10 اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔

سندھ کی بیوروکریسی میں بھی بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی گئی۔ نگران حکومت نے 14 سیکرٹریز، 2 اے آئی جیز، 14 ڈی آئی جیز اور کئی ایس ایس پیز تبدیل کر دیے۔

الیکشن کمیشن نے بلوچستان کی بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ کی منظوری دے دی۔ تین سیکریٹریز، 6 کمشنرز، 33 ڈپٹی کمشنرز اور کئی پولیس افسر تبدیل کیے جائیں گے۔

الیکشن کمیشن نے پنجاب کی بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ کی منظوری بھی دے دی۔ پنجاب پولیس کے 18 سینئر افسران کی خدمات وفاق کے حوالے کر دی گئیں۔ پنجاب میں 34 سیکرٹری، 35 ڈپٹی کمشنراور 77 اے آئی جیز، ایس ایس پیز، ایس پیز اور ایڈیشنل ایس پیز کو تبدیل کرنے کی منظوری دے دی گئی۔