ایسٹر آئی لینڈ اور بلند قامت مجسمے

16
AH2B07 Chili

چلی کے ساحل سے تقریباً3600 کلومیٹر کی دوری پر واقع جزیرہ ’’ایسٹرآئی لینڈ‘‘ دنیا کی قدیم ترین آبادیوں میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن اب یہاں کوئی نہیں رہتا۔ اس جزیرے سے متعلق سب سے نمایاں بات جو آج بھی سیاحوں اورماہرین آثاریات کو ورطہ حیرت میں مبتلا کردیتی ہے، وہ یہاں کے کھلے میدانوں میں کھڑے پتھر کے بلند قامت بت ہیں جنہیں ’’موئی‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ بت مجموعی طورپر چھ سو کی تعداد میں جزیرے میں ایک میل کے رقبے میں پھیلے ایک میدان میں موجود ہیں۔ ان میں سب سے دراز قدبت 65 فٹ لمبائی کا ہے جبکہ اس کاوزن 270ٹن سے زیادہ ہے۔ آتش فشانی کے عمل سے وجود میں آنے والے اس جزیرے پرموجود یہ بت لاوے کے سخت ہو جانے والے ٹکڑوں ہی سے بنائے گئے ہیں اورایسی اعلیٰ مہارت سے ان کی تعمیر کی گئی ہے کہ جو اس قدیم ترین آبادی کے بارے میں ماہرین آثاریات کو کئی طرح کے مفروضات قائم کرنے کی طرف راغب کرتی ہے۔ مثلاً یہی کہ اس جزیرے پر کبھی آباد لوگ غیر معمولی طورپر ترقی یافتہ تھے اورانہوں نے فن تعمیرات میں نہایت کمال حاصل کرلیا تھا۔ یہاں رہنے والے لوگوں کے بارے میں ماہرین آثاریات کے مفروضات اس بنا پر بھی غیرمعمولی ہوجاتے ہیں کہ اس ویران جزیرے سے اس بات کے آثار ملے ہیں کہ یہاں آباد لوگ آدم خور تھے۔