ذرا سوچ سمجھ کے

24

تحریر ۔۔۔ شیخ توصیف حسین
ایک بادشاہ کو اُس کے وزیر نے کہا کہ بادشاہ سلامت آپ کی رعایا اس قدر بے حس ہو چکی ہے کہ انھیں ملک وقوم کی کوئی پرواہ نہیں رہی یہ سن کر بادشاہ کو تشویش لاحق ہوئی اور وہ اپنے وزیر کے ہمراہ بازار کے ایک چوک پر کھڑا ہو کر عوام کی حالت زار کو دیکھنے لگا کافی دیر وہاں پر کھڑا رہنے کے باوجود عوام کا کوئی فرد متوجہ نہ ہوا تو بادشاہ نے اپنی عوام کی خودداری کو جگانے کیلئے اُن کے آنے جانے والے راستوں پر بلاجواز ٹیکس لگا دیا تاکہ عوام اس بے جا ٹیکس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے میری طرف راغب ہو گی لیکن اس کے باوجود عوام حسب عادت بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی عوام کی اس حالت زار کو دیکھ کر بادشاہ نے مذید عوام کے آنے جانے والے راستوں پر چوکیاں تعمیر کروا کر وہاں پر پولیس کا عملہ تعنیات کر دیا جو عوام سے ٹیکس وصول کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی چھترول کرنے میں مصروف عمل ہو گیا یہ سلسلہ کچھ دنوں تک جاری رہا بالآخر عوام کی جانب سے ایک وفد بادشاہ سلامت کے حضور پیش ہوا جس کو دیکھ کر بادشاہ کو خوشی لاحق ہوئی کہ میر ی عوام کی خودداری جاگ گئی ہے لیکن افسوس کہ بادشاہ کی اس سوچ پر اُس وقت پانی پھر گیا کہ جب عوام کے اس وفد نے بادشاہ سلامت سے التجا کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہ سلامت آپ نے جو ٹیکس کی وصولی کے ساتھ ساتھ یہ چھترول کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے بالکل ٹھہیک ہے ہماری تو آپ سے بس یہی التجا ہے کہ آپ چوکیوں پر پولیس کا عملہ بڑھا دے تاکہ وہ جلد از جلد ٹیکس کی وصولی کے ساتھ ہماری چھترول کر کے ہمیں فارغ کر دیا کریں چونکہ اُن چوکیوں پر عملہ کم ہونے کے باعث ہمیں کافی دیر ہو جاتی ہے بس یہی کیفیت ہمارے ضلع جھنگ کی عوام کی ہے جو اپنے تمام تر بنیادی حقوق سے محروم ہونے کے باوجود صرف نالی گلی اور چند روپوں کے حصول کی خا طر اُن مفاد پرست سیاست دانوں کی اپنے قیمتی ووٹ کے ذریعے بیعت کر لیتے ہیں جن کے بزرگوں کو کوئی شخص کرائے پر سائیکل نہیں دیتا تھا آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ضلع جھنگ کی عوام نے اگر دو کلو خربوزے خریدنے ہوں تو اُس کی مکمل طور پر جانچ پرتال کرتی ہے لیکن سیاست دانوں کی جانچ پرتال سے ہمیشہ قاصر رہی ہے افسوس ناک پہلو تو یہ ہے کہ ضلع جھنگ کی عوام اپنے سیاست دانوں کے والدین کے بارے میں بھی کوئی علم نہیں ہوتا لیکن پھر بھی یہاں کی عوام اُن کی بیعت کر لیتی ہے تو یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا ہوا یوں کہ میں ایک دفعہ اپنے دوست کو ملنے کیلئے جھنگ سے سو کلو میٹر دور اُس کے علاقے میں پہنچا تو وہاں پر میرے دوست نے اپنے دوستوں سے میرا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ میرا دوست ضلع جھنگ کا وہ معروف کالم نگار ہے کہ جس کے کالم اکثر آپ پڑھتے رہتے ہیں یہ سن کر انہوں نے بڑے طنزیہ انداز میں میری طرف دیکھتے ہوئے کہا اچھا اچھا ان کا تعلق بھی جھنگ کی بیوقوف عوام سے ہے اُن کی اس بے ہودہ گفتگو کو سننے کے بعد میں نے غصیلی نظروں سے اپنے دوست کو دیکھا جس نے فوری طور پر اپنے دوستوں سے کہا کہ تم نے نہایت ہی بد تمیزی کا مظاہرہ کیا ہے لہذا تم اپنی اس بد تمیزی کی معافی مانگو یہ سننے کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم معافی کیوں مانگے اگر ہم نے جھوٹ بولا ہے تو معافی مانگے گے اور اگر ہم نے سچ بولا ہے تو پھر ہم معافی کیوں مانگے انہوں نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ جو شخص یہاں کونسلر کا الیکشن نہیں لڑ سکتا تھا اُسے جھنگ کی عوام ایم پی اے اور ایم این اے کا الیکشن لڑانے میں مصروف عمل ہے جو آج لوٹ مار کر کے لاتعداد دوکانوں اور کئی مربع زرعی اراضی کا مالک بن کر عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے جبکہ دوسری جانب جھنگ کی عوام اپنی بیوقوفی کی وجہ سے بھائی چارے امن و امان پیارو محبت سے محروم ہو کر لاتعداد پریشانیوں میں مبتلا ہو کر رہ گئی ہے افسوس ناک پہلو تو یہ ہے کہ ضلع جھنگ کی عوام کی بیوقوفی کے نتیجہ میں کتنے گھروں کے چراغ گل ہو چکے ہیں اور نجانے کتنے بند سلاسل ہو کر بے بسی اور لاچارگی کی زندگی گزار رہے ہیں جن کی جدائی کو بر داشت نہ کرتے ہوئے متعدد خاندان کے بزرگ افراد خون کے آ نسو روتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اُن کی ان باتوں کو سننے کے بعد میں شر مندگی کے عالم میں سوچوں کے سمندر میں ڈوب کر یہ سوچتا ہوا واپس گھر کی جانب روانہ ہو گیا کہ یہی کیفیت ہمارے باقی ماندہ سیاست دانوں کی بھی ہے کہ اگر جن کے بزرگوں کی جائیداد کا تخمینہ محکمہ مال جھنگ سے نکلوایا جائے تو پتہ چل جائے کہ کون کتنے پانی میں تھا جو آج اپنے آپ کو ہلاکو خان اور چنگیز خان سمجھتے ہوئے علاقے کی غریب عوام سے ہتک آ میز رویہ اپنائے ہوئے ہیں درحقیقت تو یہ ہے کہ جن کو اپنے دور اقتدار میں ایم این اے چیرمین بلدیہ اور ضلعی چیرمین کی طاقت حاصل تھی اور بالخصوص ڈی سی او صاحبان کی خصوصی معاونت حاصل تھی اس کے باوجود جھنگ کے معروف سیاست دان نہ صرف ضلع جھنگ بلکہ یہاں کی عوام کیلئے کوئی بھی بہتر اقدامات نہ کر سکے ماسوائے لوٹ مار اور سیاسی انتقامی کاروائی کے جس کے نتیجہ میں ضلع جھنگ کی عوام تاحال اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہو کر اذیت ناک زندگی گزار رہی ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ضلع جھنگ کا ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ 1970میں اڑھائی سو بیڈوں پر مشتمل تھا لیکن آج لاتعداد آ بادی کے اضافے کے باوجود تاحال جوں کا توں ہے