ان سے امید نہ رکھ ہیں یہ سیاست والے

20

احمد آزاد، فیصل آباد
ہر طرف الیکشن کی گہما گہمی ہے ۔دفاتر کھل رہے ہیں ،پرانے مراکز کو چمکایا جارہا ہے ۔ووٹر کے پاس جاکر پھر سے اسے سبز باغ دکھانے کا سلسلہ جاری ہے ۔جو وعدے پچھلے الیکشن میں کیے گئے تھے انہیں دہرانے اور ڈھٹائی سے تاویلات گھرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔مختلف قسم کے نعرے ،دعوے اور الزامات لگاکر مخالف امیدوار کو چاروں شانے چت کرنے کی سعی جاری ہے ۔ہرپاکستانی اپنی اپنی پسند کی جماعت اور امیدوار کی حمایت کررہا ہے ۔ہر5سال بعد اکھاڑ پچھاڑ ہوتی ہے اور ادلا بدلی کی صورت میں کچھ تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں ۔جیتنے والے امیدوار کی لاٹری نکل آتی ہے اور وہ آنے والے الیکشن تک عیش ۔اس کی دولت میں 100فی صد سے اوپر کا اضافہ ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔دھڑا دھڑ جائیدادیں بنتی ہیں ، کاروبار پھلتے پھولتے ہیں ، ملک کا دیوالیہ نکل آتا ہے اور پھر پاناما لیکس ایسی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں۔لازمی نہیں کہ سارے ہی ایسے ہوں بعض ایم این ایز و ایم پی ایز یقینااچھے کام بھی کرتے ہیں جس کا نتیجہ انہیں عزت کی شکل میں ملتا ہے ۔ہرکوئی اپنی طرف کھینچ رہا ہے تو ایسے میں لازمی ہے کہ ہم بحیثیت پاکستانی اپنے ووٹ کی قدروقیمت کا احساس کریں ۔ اپنے دائرہ کار پرحلقے کے امیدواران کو پرکھیں اور پھر ووٹ دیں ۔یہ بات لازمی نہیں ہے کہ جہاں آپ کے آباؤاجداد نے ووٹ دیا ہے آپ بھی اسی جماعت یا امیدوار کوووٹ دینا لازم سمجھیں ۔آپ کے آباؤ اجداد کے دور میں حکومت کیا تھی اور کیا حالات تھے ۔ان کو ایک طرف رکھئے اور اپنے حال کے مطابق فیصلہ کیجیے تاکہ آپ کا مستقبل بہتر ہوسکے ۔یاد رکھیے ووٹ ایک مقدس امانت ہے جس کا بہترین استعمال لازم ہے ۔
ہم ووٹ کس کو دیں ؟آج کی تحریر کا لب لباب اسی سوال کے جواب پر ہے ۔جس بھی جماعت کو دیں اس جماعت کے نظریات پر لازمی نظر پھیر لیں ۔اسلامی تعلیمات ،دوقومی نظریہ اورنظریہ پاکستان کے حوالے سے اس جماعت اور امیدوار کی پالیسی سمجھیں ۔مقبوضہ جموں کشمیر کے حوالے سے وہ کیا سمجھتے ہیں اور ان کا ماضی کیا کہتا ہے ۔ایک بار لازمی اس پر نظر ماریں تاکہ کشمیریوں کے دکھوں کا مداوا کرنے میں آپ اپنا کردارادا کرسکیں۔جماعت کی خارجہ پالیسی کو بھی اپنی مطالعہ کی میز پر جگہ دیں اور ماضی کھنگالنے کی کوشش کریں کہ اس جماعت کی حکومت میں یا ان کے حکومت سے باہر خارجہ پالیسی کے خدوخال کیا ہیں ۔پاکستان میں ہورہی دہشت گردی پر مختلف جماعتوں کا اپنا ایک موقف ہے ۔آپ اس کو اچھی طرح سے چیک کریں کہ کہیں یہ جماعت اور اس کا نمائندہ کسی ملک دشمن تحریک یا کام میں ملوث تو نہیں تاکہ ملک دشمن عناصر کو حکومت میں آنے سے روکا جاسکے ۔قرضوں کے حوالے سے سیاسی تنظیم کیا موقف آپ کے سامنے رکھتی ہے اور کیا حل پیش کرتی ہے بیرونی قرضوں کو ختم کرنے کا، اس پر بھی کام کریں ۔تعلیم ،صحت ،زراعت ،خالص خوراک،صاف پانی ،بجلی کی بلاتعطل فراہمی وغیرہ ایسے مسائل پر ان کا موقف سنیے اور اس کو ان کے ماضی ساتھ موازنہ کیجیے تاکہ بہتر نمائندگی سامنے آسکے جو آپ کے مسائل حل کرنے میں مخلص ہو ۔قدرتی آفات ہمارا ایک اہم مسئلہ ہے ۔اس سیاسی تنظیم سے اس حوالے سے معلومات لیں کہ وہ کس طرح سے زلزلے و سیلاب وغیرہ سے نمٹیں گے ۔پانی پاکستان کے لیے ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے ،پہلے تو پانی ملتانہیں اور اگر کہیں میسر ہو بھی تو صاف ملنا ناممکنات میں ہوچکا ہے ۔اس مسئلہ پر امیدواران سے رائے لیں ،ڈیموں کے حوالے سے موقف جانیں اور جو اس مسئلہ میں چوں چراں کرے آپ اسے اپنی طاقت(ووٹ) دکھائیں ۔فرقہ واریت ،صوبائیت ،لسانیت کے نام پر سیاست کرنے والی جماعت اور امیدوار کو یکسر بھلا دیجیے کہ وہ آپ کے ملک کا دشمن ہے ۔مذہبی ہم آہنگی پر کام کرنے والوں کو آگے لے کر آئیں ۔خدمت انسانیت پر کام کرنے والوں کو اپنا نمائندہ چنیں ۔کشمیریوں کے حوالے سے اپنا مضبوط موقف رکھنے والے امیدواران کو اپنی نمائندگی سے عزت بخشیں تاکہ وہ پاکستان کا مضبوط موقف دنیا کے سامنے رکھے ۔خارجہ پالیسی پر ہمیں اپناآپ مضبوط کرنے اور دہشت گردوں کے خلاف ہونے والی قربانیوں پر دنیاکو روشناس کروانے کی اشد ضرورت ہے ۔نالی ،پکی گلی ،تھانے کچہری اور اس طرح کے دیگر لالچ دینے والوں کو قطعاََ ووٹ نہ دیں ۔ یہ آپ کے ، ملک کے اورآنے والی نسل کے دشمن ہیں جنہیں آپ تھوڑے سے مفاد کے لیے چن لیتے ہیں۔یہ بات یادرکھیں کہ آپ کے ہاتھ میں اصل طاقت ہے ۔اس پر کئی طرح کے شکوک وشبہات لائے جاسکتے ہیں لیکن آپ ہی اصل پاکستان ہیں ۔پاکستان کی تصویر آپ نے بہتر کرنی ہے ۔