گردشی قرضوں کے 180 ارب بجلی بلوں کے ذریعے وصول کرنے کا انکشاف

9

گردشی قرضوں کے بارے میں سینیٹ خصوصی کمیٹی میں انکشاف ہواہے کہ سابقہ حکومت نے قرضے کے180ارب روپے عوام سے بجلی کے بلوں میں سے وصول کیے۔

کمیٹی نے بجلی پیدا کرنے والی سرکاری کمپنیوںاورنجی بجلی گھروں کو گیس اورایل این جی کی فراہمی کی تفصیلات طلب کر لیں،گردشی قرضوں کے بارے میںخصوصی کمیٹی کا اجلاس کنوینیئرشبلی فراز کی زیرصدارت ہوا۔وزار ت خزانہ کے حکام نے بتایاکہ دسمبر2017 تک گردشی قرضہ 514 ارب روپے تھااور حکومت نے گردشی قرض کی ادائیگی کیلیے 180 ارب کاقرض لیااور یہ رقم بھی صارفین سے بجلی بلوں کے ذریعے وصول کی گئی۔

کنوینئر کمیٹی نے کہاکہ گردشی قرضہ کامعاملہ انتہائی تشویشناک ہے اگرگردشی قرضہ کامعاملہ حل ہوجائے توایک فوج اور تیار ہو سکتی ہے ۔حکام نے بتایاکہ بلوچستان میں ایگریکلچرکیلیے نوارب کی سبسڈی دی جائیگی ،کے الیکڑک کو 21 ارب کی اور انڈسٹریل سپورٹ پیکیج کے تحت 15 ارب کی سبسڈی دی جائے گی۔

کنوینیئرنے کہاکہ صارفین کیلیے ٹیرف کے تعین کا کوئی نیا نظام نہیں،انھوں نے کہاکہ نیپرا اتھارٹی کیاکر رہی ہے؟ جو بڑے لینڈ لارڈ ہیں انکو سبسڈی کی مد میں زیادہ بلنگ کرنی چاہیے ۔متبادل توانائی بورڈکے سی ای او امجد اعوان نے اعتراف کیاکہ متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوارکیلیے عوام میں کوئی آگاہی مہم نہیں چلائی گئی۔

کمیٹی کے کنوینیئرنے کہاکہ حکومت نے جان بوجھ کر نجی شعبے کو متبادل توانائی کی پیداوارکی حوصلہ شکنی کی ہے اور ایسا جان بوجھ کرکیاگیا ہے تاکہ مہنگے زرایع کوہی چلایاجائے ۔کمیٹی نے گردشی قرضوں کے خاتمے کیلیے زرعی ٹیوب ویلز سولرسسٹم پر منتقل کر نیکی سفارش کردی۔

علاوہ ازیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی ذخائرنے(ارسا) کی جانب سے صوبہ سندھ کوکوٹہ سے کم پانی فراہم کرنیکا نوٹس لے لیا،ا مام الدین شوقین نے سینیٹ میںدائر پٹیشن میں مطالبہ کیاکہ 1991کے صوبوں کیساتھ پانی کی تقسیم کے حوالے سے معاہدے کے مطابق سندھ کواسکے حصے کاپورا پانی فراہم کیا جائے،کمیٹی نے بلوچستان میں پٹ فیڈر کینال کے فراڈ اور اس حوالے سے نیب میں 2014 سے جاری تحقیقات کے حوالے سے بھی سیکریٹری آبپاشی بلوچستان سے جواب طلب کر لیا۔